’مسجد گرانے‘ کی کوشش: چینی پولیس اور مسلمان مظاہرین میں جھڑپ

500

چین کے جنوب مغربی علاقے میں اقلیتی مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب انہیں ایک مسجد میں عبادت کرنے سے روک دیا گیا۔ اس مسجد کے بارے میں مظاہرین کا خیال ہے کہ حکام اسے گرانا چاہتے ہیں۔

جھڑپیں، گذشتہ ہفتے کے آخر میں صوبہ یوننان میں 13ویں صدی کی ناجیاینگ مسجد کے باہر شروع ہوئیں، جہاں ہوئی نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن بظاہر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب شی جن پنگ کی جانب سے مذہب کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے کی شدید ترین مہم چلائی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فسادات کے دوران پہنی جانے والی وردی میں ملبوس پولیس اہلکار درجنوں افراد کو مسجد میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں اور ان کے ساتھ جھڑپیں کر رہے ہیں۔

بھاری تعداد میں تعینات فورسز کے ساتھ زبانی جھگڑے کے بعد جب مشتعل نمازیوں نے زبردستی اندر جانے کی کوشش کی تو جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

پولیس کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد جب قانون نافذ کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی تو لوگ مسجد میں داخل ہوئے۔

چین سرکاری طور پر ایک ملحد ریاست ہے، لیکن حکومت باضابطہ طور پر چار مذاہب کو تسلیم کرتی اور انہیں مذہبی آزادی کی اجازت دیتی ہے۔

وہ بدھ مت، تاؤ ازم، مذہبی (کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ازم) ہیں۔

تاہم شی جن پنگ کے منصوبوں کے تحت حکام نسلی اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔ وسیع تر تناظر میں اس منصوبے کا مطلب ہے کہ مذاہب کو ’چینی کردار یا مذہبی اثر و رسوخ کے مطابق ڈھالنا۔‘

سنہ 2021 میں اپنی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اجلاس میں شی جن پنگ نے زور دیا تھا کہ ’مذہب کو چین کے مطابق ڈھالنے‘ کو فروغ دینا ہے۔

عینی شاہدین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا کہ ہفتے کو ہوئی کے ہزاروں رہائشی مسجد کے ارد گرد جمع ہوئے اور مسجد کے باہر تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ’مسجد پہنچنے پر ہمیں پتہ چلا کہ وہ کمپاؤنڈ میں کرین لے آئے اور زبردستی انہدام کے لیے تیار تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہدام کے لیے سہاروں کو پہلے ہی مسجد کے چاروں طرف کھڑا کر دیا گیا تھا۔

نیٹ ورک کے مطابق امریکہ منتقل ہونے والے ایک معروف ہوئی کارکن ماجو نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 30 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

عمارت کے کچھ حصوں کے انہدام کے خوف سے رہائشیوں نے ہفتہ اور اتوار کی رات مسجد کی حفاظت کی۔

ٹونگھائی کاؤنٹی کی ڈویژن ناگو کی اس مسجد کی حال ہی میں توسیع کی گئی ہے۔ اس توسیع میں ایک نئی گنبد دار چھت اور متعدد مینار شامل ہیں۔

ایک عدالت نے 2020 میں ایک فیصلہ دیا تھا کہ مذہبی مقامات میں کسی بھی تعمیراتی توسیع کو غیر قانونی سمجھا جائے گا، اور انہیں مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔

 اس حکم کے بعد مذہبی عمارتوں کے کچھ حصوں کو مسمار کرنے سے عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔

ٹونگھائی کاؤنٹی کی پولیس نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ سات جون تک رضاکارانہ طور پر پولیس کے سامنے ہتھیار سرنڈر کر دیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے ’جو لوگ رضاکارانہ طور پر خلاف ورزیوں اور جرائم کے حقائق کا اعتراف کرتے ہیں انہیں ہلکی یا کم سزا ملنے کا امکان ہے۔‘

ناگو ٹاؤن میں قانون نافذ کرنے والے حکام نے اس واقعے کو ’سماجی نظم و نسق میں سنگین خلل‘ قرار دیتے ہوئے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بارے میں ’جلد از جلد رپورٹ‘ کریں۔

مظاہروں کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے اور مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہوئی مسلمانوں کی چینی قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ کشیدگی ہوئی۔

سنہ 2018 میں ملک کے شمال مغربی علاقے ننگشیا میں ہوئی کے ہزاروں باشندے حکام کو ایک نئی تعمیر شدہ مسجد کو منہدم کرنے سے روکنے کے لیے جمع ہوئے اور تین دن تک جاری رہنے والا دھرنا دیا تھا۔

احتجاج کے نتیجے میں، مقامی حکومت نے اس انہدام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے مسجد کے گنبدوں اور میناروں کو روایتی چینی طرز کے پگوڈا سے بدل دیا۔

اسی سال یوننان میں تین مساجد کو ’غیر قانونی مذہبی تعلیم‘ تصور کرنے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

ہوئی کے ایکٹیوسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ، مسلمان اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے والی کمیونسٹ پارٹی، کی جانب سے نشانہ بنایا گیا حالیہ نسلی گروہ ہیں۔

شمال مغربی سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف مبینہ قانونی اقدامات کی بہت زیادہ خبریں سامنے آئی ہیں۔

2020  کی مردم شماری کے مطابق، چین میں ایک کروڑ 14 لاکھ ہوئی لوگ ہیں۔ اتنی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے ہان چینیوں، ژوانگ اور اویغوروں کے بعد یہ چوتھا سب سے بڑا نسلی گروہ بنتا ہے۔

ہوئی ان 56 نسلی گروہوں میں شامل ہے جنہیں اس ملک نے تسلیم کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عرب اور فارسی تاجروں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔