قربانیوں سے ملا ہے مزدوروں کا عالمی دن ۔ محسن بلوچ

145

قربانیوں سے ملا ہے مزدوروں کا عالمی دن

تحرير: محسن بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں کوئی بھی شئے ایسی نہیں جس کو بغیر قربانی کے حاصل کیا جائے، چاہے جو بھی ہو اسکے لئے اتنی قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاریخ ایک ایسی سبق ہے جس میں ہر چیز کا ثبوت موجود ہے جس سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی شئے انسانوں کو آسانی سے نہیں ملی، ہر شئے کی قیمت ادا کرنی پڑی ہے اور اس دور میں بھی ہر شئے کی اپنی قیمت ہے، ہمیں کوئی ایسے شواہد نہیں ملتے جو بغیر قربانی کے ملے ہوں۔

دنیا میں ہر روز ایک دن منائی جاتی ہے اور انکے پیچھے ایک بڑی داستان چھپی ہوتی ہے اسکو ہمیں جانچنے کی کوشش کرنی چاہیے مثال کے طور پہ زبانوں کا دن ہم آج فخر سے مناتے ہیں اسکے پیچھے کتنوں کا لہو بہا ہے، کسی ملک میں آزادی کی جشن منائی جاتی ہے اس ملک کی تاریخ پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کون کون سی قربانیاں دینے پڑی ہے۔ تاریخ میں بہت سے دنوں کو منائی جاتی ہے ہر ممالک کے مختلف وجوہات کے بنا پہ منائی جاتی ہے لیکن کچھ ایسے بھی دن ہے جنہیں صرف ایک یا دو ملکوں میں منائی نہیں جاتی بلکہ دنیا کے کونے کونے میں ان کو بخوشی منائی جاتی ہے۔ ایک ایسا دن ہے جو محنت کشوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔

محنت کشوں کی ایک طویل داستان ہے جن کی وجہ سے آج دنیا میں ترقی آئی ہے، تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس کی بدولت دنیا کا نقشہ تبدیل ہوچکا ہے ایک ایک چیز میں انکاخون پسینہ شامل ہیں۔

روز اول سے لیکر آج تک مزدور اپنے مزدوری میں لگے ہوئے ہیں ان کا استحصال کیا گیا لیکن جب انڈسٹریل ریولوشن آئی اسکے بعد جس طرح ان پہ جو قہر ڈھایا گیا اسکی کوئی ثانی نہیں ملتی، مزدوروں کیساتھ انسانوں کی طرح نہیں بلکہ جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا آٹھ دس گھنٹے کی بجائے سولہ سولہ گھنٹے انکو کام کروایا جاتا تھا، ان کے کام کے بدلے انہیں بہت ہی کم اجرت ملتی۔

سرمایہ دار اس سوچ میں تھے کہ لوگ جتنا غریب ہونگے اتنے ضرورت مند ہونگے، وہ بغاوت سے اتنا ہی گریز کرینگے۔ یہ سب کوئی ایسے ویسے ملک میں نہیں ہورہی تھی جس کو مغربی ممالک غیر مہذب و جاہل کے نام سے پکارتے یہ عمل امریکہ میں ہورہا تھا۔ 1870 کے بعد مزدوروں نے سوچنا شروع کیا کہ ہم پر ظلم ہورہی ہے اس وقت کوئی بھی اگر آواز اٹھاتا تو اسکو کام سے نکال دیا جاتا اسکو کسی اور جگہ کام پہ رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی، اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی ظلم و زیادتی کی جاتی تھی۔

مزدوروں نے اپنے آپ کو منظم کرنے کےلئے مختلف تنظیمیں بنائی تاکہ ایک آواز بن کر اپنا حق حاصل کریں۔ ایک ایسی تنظیم بنائی جس کا نام تھا کائنز آف لیبرز جو 1884میں بنائی گئی اسکا مطالبہ تھا کہ مزدوروں سے آٹھ گھنٹے کام لیا جائے تاکہ مزدور اپنے باقی وقت اپنے خاندان کے ساتھ گذار سکیں۔ اس تنظیم میں پہلے 70 ہزار لوگ تھیں، دو سال بعد 1886میں اسکی تعداد 7 لاکھ تک پہنچ گئی۔ پہلے سے دس گناہ زیادہ تعداد ہوگئی تو یہاں سے مزدور زیادہ طاقتور اور منظم ہونا شروع ہوئے اور اپنے حق کے لئے اتنا ہی زیادہ آواز بلند کرنا شروع کیا۔ ظاہر ہے جہاں ظلم زیادتی ہوگی وہی انکا حل ہے اب اس انقلاب کا مسکن شکاگو تھا۔

ایک دن فیکٹری میں مزدوروں نے ہڑتال کیا تو فیکٹری کے مالکان نے دوسرے مزدور کو کام پہ لگایا کیونکہ دنیا کے کونے سے لوگ کام ڈھونڈنے آئے تھے، فیکٹری مالکان کو کوئی فرق نہیں پڑتا یہ لوگ جائیں تو دوسرے کو رکھا جائے گا، جب ان مزدوروں کو پتا چلا اور جب وہ آئے تو فیکٹری کے دروازے بند تھے اور وہاں پولیس کھڑی تھی۔

پولیس اور مزدوروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس سے کئی مزدور شہید ہوئے، پولیس خوش ہوئی کہ مزدوروں کو کچلنے میں کامیاب ہوگئے مگر ان سے وہ زیادہ منظم ہوئے کیونکہ جب آپکے پاس رہنما ہو تو آپ ہر چیز کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہینگے۔ اسی رات بڑی تعداد میں پمفلٹ اور پوسٹرز شائع ہوئے جس میں مزدروں کو اکٹھا کرنے کے حوالے سے پیغام شامل تھا، دوسرے دن ہزاروں مزدور اکھٹے ہوئے اور انکے رہنماؤں نے تقریر کیا اسی وقت پولیس احتجاج کو روکنے کی کوشش کی گئی، احتجاجی مظاہرے سے کسی ایک نے پولیس پہ بم پھینکا اور جوابی کارروائی میں پولیس نے اندھا دھند گولیاں برسائی جس سے بہت سے لوگ شہید ہوئے مگر انکے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے چار کو پھانسی کی سزا دی گئی۔

ان میں سے ایک نے خودکشی کرنے کی کوشش کی جس نے چھ گھنٹے بعد وفات پائی جبکہ چاروں رہنماؤں کو پھانسی دی جارہی تھی تو ایک رہنما (اگست سپئز) August spies نے یہ الفاظ ادا کیے؛ “ایک وقت آئیگا جب ہماری خاموشی ان آوازوں سے بھی اونچی ہوگی جن کا آپ گلا آج گھونٹنے کی کوشش کررہے ہیں ”

پہلے مزدوروں کے جھنڈے کا رنگ سفید ہوتا تھا مگر جب انکے دوست مارے گئے، زخمی ہوئے جس کی وجہ سے جن جھنڈوں کا رنگ سفید تھا وہ خون کی وجہ سے لال ہوگئے جس سے وہ اپنے جھنڈے کا رنگ آج تک لال کررہے ہیں جو محنت کشوں کی نشانی بن گئی۔

1890 میں تمام تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ یکم مئی دنیا میں ساری مزدوروں کے دن سے منایا جائیگا، 1916میں امریکی حکومت نے ایک قانون ریڈن سن ایکٹ منظور کردیا اس میں ریلوے مزدوروں کو آٹھ گھنٹے کام کرنا تھا بعد میں بہت کچھ بدلا پرائیویٹ کمپنیوں میں یہ رواج بن گیا جو آج تک چل رہا ہے اور بہت سے ممالک میں ابھی تک وہی سلوک کیا جاتا ہے۔

یو این نے انٹرنیشنل لیبر جیسے تنظیموں کو قبول کیا۔ آج دنیا بھر میں یہ دن مزدوروں کے دن سے منائی جاتی ہے اور آٹھ گھنٹے کی کام کا اصول بنا ہے جس میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ جو کام کرتا ہے وہ اور ٹائم ہوگا اسکے لئے اسکی خود کی خواہش شامل ہوگی، کل اگر یہ آواز نہیں اٹھاتے شاید آج تک وہی ہوتا جو اس وقت کے مزدوروں کے ساتھ ہورہا تھا سب کچھ بدل نہیں گیا ہے مگر کچھ تبدیلیاں ضرور ہوئی ہے، قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتی 120سال بعد بھی ان ہی کی وجہ سے لوگ ایک دن مناتے ہیں ہر چیز میں اگر آپکا حق ہے اسکے لئے بھی لڑنا ہوگا قربانی دینی ہوگی، کوئی چیز خواہش سے نہیں ملتی بلکہ عملی جدوجہد و قربانی درکار ہوتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں