ڈاکٹر عنایت بلوچ، عنایت چائے والا کیسے بنا؟ – ڈاکٹر شکیل بلوچ

660

ڈاکٹر عنایت بلوچ، عنایت چائے والا کیسے بنا؟

تحریر: ڈاکٹر شکیل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے سب سے پسماندہ ترین ضلع آواران کی تحصیل مشکے سے تعلق رکھنے والا عنایت صالح گاؤں کلّر کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوا، جس نے اپنی بنیادی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی، مڈل اور میٹرک مشکے سے ہی پاس کیا۔ عنایت صالح کے ضعیف العمر والد محمد صالح نے دل میں یہ خواہش رکھی کہ میں مزدوری کر کے عنایت کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر بناؤں گا۔ چنانچہ عنایت صالح اپنے والد کے اس خواب کی تعبیر کرنے کے لیے اپنے ضعیف العمر والد کی مزدوری سے اکٹھے کیے گئے پیسوں کو لے کر مشکے سے شال تک کا سینکڑوں‌ کلو میٹر کا سفر طے کر کے پہنچا۔

وہاں وہ ایک پرائیوٹ کوچنگ سنٹر میں داخلہ لیتا ہے جہاں وہ اپنے والدِ محترم کی خواہش پر بلوچستان کے واحد میڈیکل کالج بی ایم سی کے لیے تیاری شروع کرتا ہے۔ NTS کی زیرنگرانی میں منعقد کیے جانے والے ٹیسٹ میں دو مرتبہ بولان میڈیکل کالج کے لیے قسمت آزماتا ہے مگر قسمت اور ہاتھوں کی لکیروں سے زیادہ بدقسمت اور ناانصافی ہمارے اداروں نے اپنائی ہے جو دورِ جدید میں قدیم تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں، جہاں عنایت صالح اپنے پہلے Attempt میں پورے ڈسٹرکٹ میں اسکورنگ میں ٹاپر رہا مگرایف ایس سی کے کم نمبروں نے ساتھ نہیں دیا اور دوسری مرتبہ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے والدِ محترم کی خواہش کو پورا نہ کر سکا۔

اب یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ آیا ایسا تعلیم نظام جہاں غریب اور لاچار طالب علم انتھک محنت کے باوجود اپنے مستقبل کو قسمت کے سہارے پر چھوڑ دیتے ہیں، کیا اس نظام تعلیم یا تعلیمی بہتری پر کام کرنے والے ادارے ان جیسے والدین کے خواہشات کا گلا گھونٹنے کے مترادف نہیں؟

آواران کثیر آبادی پر مشتمل ایک ضلع ہے جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بلوچستان سمیت اندرون پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بولان میڈیکل کالج جہاں ضلع آواران سمیت بلوچستان بھر سے ہزاروں کے حساب سے طالب علم اس واحد کالج میں ایڈمیشن لینے کے خواب سجائے بیٹھے ہیں مگر چند خوش نصیب ہی اس ادارے کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

بہرحال عنایت صالح BMC میں داخلہ نہ ہونے کے بعد اپنی ہمت کو مزید توانا بنا کر اپنی ڈاکٹری کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے لسبیلہ یونیورسٹی کے شعبہ DVM میں داخلہ لے کر وقت کے ہاتھوں تکالیف اور معاشی تنگدستی کے گہرے سمندروں کو پار کر کے عنایت صالح سے ڈاکٹر عنایت بلوچ کا سفر طے کرتا ہے اور اپنی تنگدستی کے باوجود یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ اگر ہمیں سہولیات دی جائیں تو ہمارے صوبے میں تعلیمی شرح کسی صوبے سے کم نہیں بلکہ کافی حد تک آگے بڑھ سکتی ہے۔

عنایت صالح کا 19 سالہ تعلیمی سفر بے شمار مشکلات و مصائب اور ضعیف العمر والد کے بہائے گئے پسینوں کے پیسوں سے اس کثیرالمسافت والے سفر کے بعد عنایت صالح کو ڈاکٹر عنایت بلوچ تو بنا دیتا ہے مگر وقت و حالات کی ضرورت اور بھوک و مفلسی نے ڈاکٹر عنایت بلوچ کو ڈاکٹر عنایت چائے والا بنا دیا۔ ترقیاتی حوالے سے پسماندہ ترین بلوچستان کے طالب علموں کو یہ واقعہ کچھ سوچنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں انتہائی باریک بینی سے غور کرنے پر ضرور مجبور کرے گا۔

‏(DVM) Doctor of Veterinary & Medicine کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر عنایت نے والدِ محترم کے مزدوری کے پیسوں سے علم کی پیاس تو بجھا لی مگر صوبے میں بیروزگاری کی وجہ سے اب بھی اپنے پیٹ میں لگی بھوک کی آگ کو نہ بجھا سکا۔

ڈاکٹر عنایت مجھ سے اکثر کہا کرتے کہ جب میں شال میں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا تو مجھے پیسوں کی اتنی زیادہ پریشانی نہیں تھی جتنی کہ لائبریری میں پڑھنے کی۔ کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت ہوتے ہوئے بھی وہاں طلبا کو لائبریری میسر نہ تھی۔ صرف ایک لائبری تھی جس میں محدود تعداد میں طلبا کو جگہ ملتی تھی۔ کیونکہ بلوچستان کے بیشتر طالب علم کوئٹہ میں پڑھنے کو آتے ہیں اور زیادہ رش ہونے کی وجہ سے لائبریری میں جگہ نہیں ملتی۔

ان کے بقول میں ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود بے روزگار ہوں اور اب میں نے سوچا ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے کوئٹہ میں ایک Private Library کھول دوں اور وہاں ایک کینٹین کا انتظام کر سکوں تا کہ طلبہ کو چائے پینے کے لیے آنے جانے کی بھی مشقت نہ ہو۔

بالآخر ڈاکٹر عنایت صالح شال بروری روڈ A One City کے قریب ایک لائبریری کھول کر طلبا کو پڑھائی کے لیے پرامن ماحول میسر کر کے وہاں چائے کا ایک کینٹین بھی چلا رہا ہے اور اب وہاں چائے بنا کر ڈاکٹر عنایت سے ڈاکٹر عنایت چائے والے کا کریڈٹ حاصل کر چکا ہے۔

اسی طرح میرا ایک اور کلاس فیلو ڈاکٹر عمران بلوچ کیچ ناصر آباد کا رہائشی ہے جو نہایت نیک نیت سادہ مزاج انسان ہے، اسے بھی ظالم وقت یا ظالم انسان نما حیوانوں نے نہیں بخشا۔ یہ بھی اسی نظام تعلیم کے ہاتھوں اپنے مستقبل کا شکوہ کریں تو کس سے کریں۔ یقینا ہم سب کا مستقبل اسی نظام تعلیم کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا تو پھر ہم سب کا مستقبل بھی انھی جیسا ہوگا۔

ڈاکٹر عمران لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے Result Delay ہونے کے باعث BPSC-17 کا امتحان پاس کرنے کے باوجود Reject کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عمران بھی اپنے بیروزگار دوست ڈاکٹر عنایت چائے والے کے پاس چائے پینے اور گپ شپ کرنے کو جاتا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر عنایت چائے والے کو دیکھ کر بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں خواہشات اور توقعات سے لیس بلوچ طالب علم مایوس کن کیفیت میں مبتلا ہو رہے ہیں کہ ڈاکٹر عنایت جو ایک قابل طالب علم، پانچ سال کی طویل اور لمبی مدت میں ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود آج چائے والا بن چکا ہے تو پتہ نہیں ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟

ہاں بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا کو ڈاکٹر عنایت چائے والا مزیدار دودھ پتی چائے تو پلا رہا ہے مگر ان کے خوبصورت مستقبل جو تعلیم حاصل کرنے سے حاصل ہوگی، انہیں کیا مشورہ دے سکتا ہے؟ اور طلبا کے ذہن میں اپنے مستقبل کے لیے کون سے خیالات جنم لیں گے۔

لینن نے خوب کہا ہے کہ اگر غربت انقلاب پیدا نہیں کر سکتی تو غربت سے جرائم ضرور جنم لیتے ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں میں صرف ڈاکٹر عنایت نہیں بلکہ بے شمار بلوچ طالب علم ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر روز تذلیل جیسی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ اب اس بات پر ہم سب کا اتفاق ہونا ضروری ہے کہ جب پڑھا لکھا طبقہ اپنے اداروں سے انصاف حاصل نہیں کر سکتا تو یہ سب کل انھی اداروں کے خلاف بغاوت نہ کریں تو کیا کریں۔
اس پر سوچنا ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں