جدوجہد کو کچلنے کے لئے ریاست طاقت کا استعمال کررہی ہے – ماما قدیر بلوچ

214

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ آج 4995 ویں روز جاری رہا۔

آج بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے سیاسی سماجی کارکنان سلمان علی بلوچ ، سعید سلمان بلوچ، یاسر بلوچ، راشد بلوچ اور دیگر نے آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں قومی حقوق کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے ریاست طاقت کا استعمال کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو آبادیوں میں غیر مسلح لوگوں کے خلاف لڑنا نوآبادی سامراجیوں کا مخصوص انداز ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح بلوچ سرزمین پر قبضہ جمانے کے بعد ریاست پاکستان بلوچ قوم کی آواز کو دبا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے فوجی کاروائی فضائی ہراستی قتل انسانیت سوز تشدد سمیت ہر قسم کے وخشیانہ ہتکنھڈے استعمال کرنے میں کوئی طریقہ نہیں چھوڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قبضے کے ساتھ بلوچ قوم پر ظلم جبر کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا تھا جو پوری آپ وتاب کے ساتھ جاری ہے سامراجی عطاکردہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بلوچ آبادیوں پر مسلسل بمباری کر کے خواتین بچوں بزرگوں سمیت ہزاروں معصوم بلوچوں کو موت کی آغوش میں دکھیل دیا گیا مگر پھر بھی قبضہ گھیر بلوچ کی آواز کو دبا کر اسے چپ کرنے میں یکسر ناکام رہا ۔ 2002 سے شروع قابض اور بلوچ قوم کے درمیان موجودہ جنگ میں بھی ہزاروں بلوچ وحشت و بربریت کا نشانہ بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی ، کوہلو میں وحشیانہ بمباری میں سینکڑوں بلوچ افراد کے لقمہ اجل بن جانے سے حال ہی میں بولان سبی مشکے اواران جھاو مکران میں فضائی کاروائی میں معصوم خواتین و بچوں کی جبری اغوا شہادت تک سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کیا کہ بلوچستان میں اپنی رٹ کی بحالی کی لئے ڈنڈا چلانے کا اعلان کر دیا جس کے بعد بلوچ فرزندوں کی مسخ کی ہوئی تشدد شدہ لاشیں پھیکنے کا ایک نہ رکھنے والا سلسلہ شروع ہوا مگر کئی ہزار بلوچ فرزندوں کی مسخ کی ہوئی لاشیں پھیکنے اور ہزاروں کو اغوا کرکے اپنی قلی کیمپوں میں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ناکامی نے ریاست کو نفسیاتی ہجان میں مبتلا کرکے حواس باختہ کر دیا ہے جس سے گھرا کر ریاست خونی کھیل کھیلنے پر اتر آئی ہے بلوچستان کے اکثر ولاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمبارے کرکے خواتین بچو سمیت کئی بلوچوں کو شہید کر دیا۔