افغانستان: لڑکیوں کی تعلیم میں سرگرم کارکن گرفتار

218

طالبان حکام نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے والے ایک منصوبے کے بانی کو گرفتار کر لیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن ’’ یوناما‘‘ نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ “Pen Path ” تنظیم کے سربراہ اورلڑکیوں کی تعلیم کے وکیل مطیع اللہ ویسا کو پیر کے روز کابل میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مطیع اللہ ویسا کے ٹھکانے، اس کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے قانونی مدد حاصل ہے اور اس کا خاندان سے رابطہ برقرار ہے۔

مطیع اللہ کے بھائی سمیع اللہ نے “ایجنسی فرانس پریس” کو بتایا کہ ان کے بھائی کو شام کی نماز کے بعد مسجد کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔

مطیع اللہ مسجد سے باہر نکلے تو دو گاڑیوں میں آنے والے متعدد افراد نے انہیں روک لیا۔ بھائی نے ان سے ان کے شناخت نامے طلب کیے تو انہوں نے اسے مارا پیٹا اور زبردستی ساتھ لے گئے۔

30 سالہ مطیع اللہ ویسا افغانستان میں تعلیم کے فروغ کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔

انھوں نے “پین پاتھ” نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کی سربراہی کرتے ہوئے ملک میں 18 لائبریریاں قائم کیں۔

مطیع اللہ نے ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں بند سکولوں کو دوبارہ کھولنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی این جی او قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں بھی کرتی ہے۔ کمیونٹیز اور حکام کو سکول کھولنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اور لوگوں میں کتابیں اور موبائل لائبریریاں تقسیم کرتی ہے۔