بلوچ، سندھی اور پشتون ریاستی جبر کے شکار ہیں۔ ماما قدیر بلوچ

243

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ آج 4943 ویں روز جاری رہا۔ اس موقع پر وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کے کنونئیر سورٹھ، سندھ سجاگی کے کنوینئر سارنگ جویو اور دیگر نے لواحقین سےاظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں، سندھیوں اور پشتون کی بے گور و کفن لاشوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے، ماورائے عدالت قتل کے بعد بیابانوں میں ہمارے فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں بے رحمانہ انداز میں پھینکی جارہی ہیں، ٹارچر سیلوں میں اذیتیں پہنچا کر دل کی بھڑاس پوری نہیں ہورہی ہے جسکی وجہ سے لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں، کبھی ہمارے نوجوانوں کو خفیہ ادارے اغوا کر کے ٹارچر سیلوں میں مقید بنایا جارہا ہے جب انہیں کوئی تدبیر سوجھتی ہے وہ یکدم ہمارے فرزندان وطن کو بطور دہشت گرد کے سامنے لایا جاتا ہے اور الزامات جھوٹ پر مبنی مختلف پروپیگنڈے بذریعہ میڈیا پیش کیا جاتا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص ہر قوم کے فرد کو سیاسی مذہبی سماجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہمارے سیاسی کارکنوں کو جبری لاپتہ کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے پورا خاندان شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوتے ہیں، بھوک ہڑتالی کیمپ لگتے ہیں بلوچ سیاسی جماعتیں احتجاج کرتے ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے وہ گنگے بہرے بنے ہیں۔

انہوں نے کہا قومی جدوجہد کی پاداش میں آج بلوچ، سندھی اور پشتون ریاستی جبر کے شکار ہیں۔