ریاست خواتین اور بچوں کو بھی لاپتہ کررہا ہے – کوئٹہ مظاہرین

181

منگل کے روز بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے احاطے میں رحیم زہری کی جبری گمشدگی کے کیخلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور لواحقین کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاج میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے جبری لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھا کر انہیں بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا معمول بن گیا ہے۔سیاسی جماعتوں کی لاپتہ افراد معاملے پر خاموشی تشویشناک ہے، بلوچستان میں موجود ہر فرد کو لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج آپ لاپتہ افراد کیلئے نہیں بولیں گے کل آپ کو اٹھایا جائے گا، اب بلوچستان میں خواتین بھی محفوظ نہیں ۔

مقررین نے کہا کہ ساحل وسائل کو لوٹنے سمیت ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہاہے، پرویز مشرف کے دور سے بلوچستان میں آپریشن جاری اور گزشتہ 20 سال سے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہاہے۔ شنید میں آیا ہے کہ رحیم زہری کی اہلیہ کو رہا کردیا گیا۔ رحیم زہری نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اس کو عدالتوں میں پیش کیا جارہاہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بی ایس او، نیشنل پارٹی، بی این پی ، نیشنل ڈیموکریٹک ، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخواہ، ہزارہ سمیت دیگر پارٹیوں اور طلباء تنظمیوں کے مقررین نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رشیدہ زہری ، رحیم زہری اور خاندان کو تین فروری کو لاپتہ کیا گیا ۔ دو دن بعد کمسن بچوں اور بوڑھی والدہ کو رہا کیا گیا۔ آج دس دن بعد رشیدہ بی بی کو رہا کیا گیا ہے ان دس دنوں میں وہ حبس بے جا میں رکھی گئی تھی اور انکی شوہر تاحال لاپتہ ہے انہیں منظر عام پر لاکر تحقیقات کی جائے۔

خیال رہے کہ آج کا احتجاج جبری گمشدگی کے شکار بلوچ خاتون رشیدہ زہری اور اسکی شوہر رحیم زہری کی عدم بازیابی کے خلاف کی جارہی تھی کہ رشیدہ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئی تاہم شوہر رحیم زہری تاحال لاپتہ ہے اور مظاہرین نے انکی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے وزیر داخلہ ضیا لانگو کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طاقت ور قوتیں جو انکو کہتے ہیں یہ وہی بولتے ہیں۔

واضح رہے کہ رحیم اور رشیدہ زہری کی جبری گمشدگی کے خلاف حب چوکی ، تربت سمیت آج کوئٹہ میں اور سولہ فروری کو خضدار میں احتجاج کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب ٹوئیٹر پر بلوچ، سندھی، پشتون، مہاجر اور دیگر ایکٹوٹس غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کی روک تھام کا مطالبہ لررہے ہیں۔

یاد رہے کہ رشیدہ زہری اور اس کے شوہر رحیم زہری، ساس اور بچوں کو 3 فروری کو گیشکوری ٹاؤن، ناشناس کالونی کوئٹہ سے سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لینے کے بعدلاپتہ کیا گیا۔ لاپتہ محمد رحیم زہری کی والدہ و کمسن بچے گذشتہ دنوں بازیاب ہوگئے، رشیدہ زہری آج بازیاب ہوئے جبکہ رحیم زہری تاحال لاپتہ ہیں۔