بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

206

کراچی پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا جبری گمشدگیوں کے احتجاجی کیمپ کو آج 4951 دن مکمل ہوگئے۔

اس موقع پر سیاسی اور سماجی کارکن عبدالمنان بلوچ، وائس فار سندھ مسنگ پرسنز کے کنوینر سورٹھ سمیت دیگر مرد اور خواتین نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سندھی عوام کی حالت زار تو یہ ہے کہ ایک سال میں اتنے لوگ کسی جنگ میں بھی مرتے ہیں جتنی بھوک اور افلاس کی وجہ سے مر رہے ہیں اس ظلم و زیادتی کے خلاف جب اس دھرتی کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے وطن کی بقا کے لیے آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے وجود کو بچانے کے لیے مزاحمت کرتے ہیں تو خفیہ ادارے انہیں جبری لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کرکے بعد میں ان کی مسخ شدہ جلی کچلی اور گولیوں سے چھلنی لاشوں کو سندھ کے عوام کو تحفے میں دیا جارہا ہے –

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ تاریخ کی سب سے بڑے بددیانتی کرپشن گناہ اور نا انصافی ہوگی کہ سندھی، بلوچ، پشتون قوم جیسی پر امن انسانی تہذیب کی بنیاد رکھنے والی ام التہذیب کو بنیاد پرستوں کی ریاست کے عقوبت خانوں میں مزید غلام رکھا جائے پاکستانی ریاست حقیقت میں سامراجیت کا اکھاڑا بنی ہوئی ہے اس میں سندھی بلوچ پشتون مظلوم اقوام مسلسل پاکستان بننے سے لیکر اب تک خوں چوسا جارہاہے اس حقیقت سے کوئی بھی باضمیر انسان منہ نہیں پھیر سکتا یہ ریاست پوری دنیا اور اس خطے کے لیے سنگین نفسیاتی روحانی عزاب اور مصیبت بنی رہی ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ میں ساری دنیا کے مہذب ممالک اور اداروں کو اپیل کرتا ہوں کہ مظلوم اقوام کی گردنوں سے غلامی کی زنجیریں اتار کر اب اس لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا خاتمہ لائیں کیونکہ یہ دور قوموں کی جدید بین الاقوامیت اعلیٰ اقدار اور بیوپار کی عالمگیریت کا دور ہے جو عالمگیریت تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتی جب تک پر امن منڈیاں قائم نہیں ہو پاتیں جب تک تیسری دنیا میں قومی غلاموں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ہے۔