پاکستان اقوامِ متحدہ کی کنونشن برائے جبری گمشدگی کی توثیق کرے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائیٹس

202

ڈیفنس آف ہیومن رائیٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ روز جنیوا میں اقوام متحدہ کا بیالسواں یونیورسل پریوڈک رویوں ہوا، اس سال پاکستان کا یونیورسل پریوڈک رویوں ہوا، جس میں پاکستانی وفد نے اپنی قانون سازی کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق نئے پاس کئے گئے قوانین میں کام کی جگہ ہراساں کرنے کے خلاف بل، اینٹی ریپ بل، خواتین کی پراپرٹی کے نفاذ کا بل، معذور افراد کا بل، سینئر سٹیزن ایکٹ، چائلڈ لیبر پر پابندی کی قانون سازی، ٹرانس جینڈر بل، تحفظ اور روک تھام ایکٹ کے ساتھ جبری گمشدگیوں کے خلاف بل پر بھی بات کی۔

پاکستانی وفد کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے لیے زیرو ٹالرنس ہے اور کمیشن آف انکوائری میں 70فیصد مقدمے حل ہو چکے ہیں۔ سزائے موت پر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پابندی ہٹا دی گئی تھی۔ سزائے موت صرف انتہائی سنگین جرائم کے لیے قابل عمل عدالت کے تحت قانون کے مطابق عمل میں لائی جاتی ہے۔

دسمبر 2019 کے بعد سے کوئی پھانسی نہیں دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے 78 فیصد مقدمات میں سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا اور ذہنی معذوری والے قیدیوں کی پھانسی پر پابندی لگا دی۔ ہم نوآبادیاتی دور کے قوانین کا جائزہ لے کر سزائے موت کا دائرہ بھی کم کر رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کی رپورٹ کے بعد بہت سے ملکوں نے پاکستان کو تجاویز پیش کیں۔

اٹلی کا کہنا تھا کہ اٹلی تشدد کے خلاف قانون سازی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاکستان سے جبری گمشدگی سے تمام افراد کے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کرنے اور اس کی توثیق کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

جاپان نے کہا کہ معذوری ایکٹ اور ٹارچر ایکٹ کا خیرمقدم کرتا ہے، اور پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تعلیم تک رسائی کو بہتر بنائے، خاص طور پر لڑکیوں اور کمزور گروہوں تک، اور جبری گمشدگی سے تمام افراد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط اور توثیق کرے۔

چین نے کہا ہم پاکستان کے ساتھ ان سیلابوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جن کا اسے سامنا کرنا پڑا ہے اور ان سے غربت میں کمی کے لیے اقدامات کو مضبوط بنانے اور پسماندہ گروہوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لیٹویا کا کہنا تھا کہ ہمیں سزائے موت کے مسلسل استعمال پر تشویش ہے اور ہم تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان مینڈیٹ رکھنے والوں کو مستقل دعوت دے۔

پانامہ نے کہا کہ ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تعلیم، خواتین کے لیے ملازمتیں، انسداد اسمگلنگ میکانزم قائم کرے اور جی بی وی پر ٹربیونلز کی صلاحیت کو بڑھائے۔

پیراگوئے کا کہنا تھا کہ ہم تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان جبری گمشدگی کنونشن کی توثیق کرے اور سزائے موت کو ختم کرے۔ اس کے علاوہ وہ ممالک جنہوں نے پاکستان کو جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون سازی اور کنونشن پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی ان میں سینیگال، سلوواکیہ، یوکرین, امریکہ, یوراگوئے, ارجنٹینا, بیلجیئم, برازیل, برکینا فاسو، کولمبیا، گریس، ایسٹونیا، فرانس، جرمنی اور آئرلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔

بین الاقوامی کمیونٹی نے پاکستان پر بھرپور تنقید کی ہے کہ وہ ملک میں جبری گمشدگیوں کو ختم کرنے کا قانون پاس کرے مگر انسانی حقوق کی تنظیوں کے 3 سال تک ایڑھی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود حکومتِ پاکستان پاکستان یہ قانون پاس کرنے میں ناکام رہی۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسا قانون پاس کیا جائے جو اقوامِ متحدہ کی کنونشن سے مطابقت رکھتا ہو اور پاکستان ، اقوامِ متحدہ کی کنونشن برائے جبری گمشدگی کی توثیق کرے۔