عالمی یوم تعلیم، افغانستان میں خواتین طلباء کا طالبان حکومت کیخلاف مظاہرے

90

یونیسکو کی طرف سے افغانستان کے لیے مقرر کے گئے تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے افغان خواتین اور لڑکیوں نے ملک کے اندر مظاہرہ کیا گیا۔

خواتین نے تعلیم کے حوالے سے طالبان کے حالیہ فیصلوں کے خلاف نعرے لگائے اور موجودہ نظام کو مسترد کردیا۔ خواتین نے نعرے لگائے ہمیں طالبان کی تعلیم چاہیے نہ ہی طالبان کی حکومت۔

خواتین طلباء نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہیں انتہاپسند تحریک کے دور میں تعلیم اور علم کے حق سے محروم رکھا گیا تھا جو خواتین سے دشمنی ہے۔

مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہا تعلیم کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور افغان لڑکیاں علم کی نعمت سے محروم رہتے ہوئے اس دن کو گزار دیتی ہیں۔

واضح رہے چند ہفتے قبل ہی طالبان کی حکومت کی جانب سے افغان خواتین کو غیر معینہ مدت کے لیے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا افغانستان میں طالبان کی حکومت میں ہائیر ایجوکیشن کے وزیر ندا محمد ندیم نے اس فیصلے کو یہ کہہ کر درست قرار دیا تھا کہ طالبات نے حجاب سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا-

طالبان حکومت کو اپنے اس فیصلے پر عالمی برادر ی کے شدید غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا ہے دنیا کے بیشتر ملکوں نے طالبان کے ہاتھوں افغان خواتین پر ہونے والے اس ظلم کی شدید مذمت کی ہے۔

دوسری برف طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں سے بھی نکال دیا گیا ہے یا انہیں گھر میں رکھنے کے لیے کم اجرت دی گئی ہے خواتین کو بھی اب خاندان کے کسی مرد کے بغیر سفر کرنے کا حق نہیں ہے اور خواتین کے لیے چہرے کا پردہ کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں طالبان حکومت نے خواتین کے پارکوں، باغات اور عوامی سوئمنگ پولز جانے پر پابندی لگا دی تھی۔