بلوچ مسنگ پرسن کا معاملہ شرمندگی کا باعث ہے۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم

288

بلوچستان پیس فورم کے زیر اہتمام ہفتے کے روز نیشنل ڈائیلاگ آن دی ری امیجننگ پاکستان کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار میں سابق پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، رکن صوبائی اسمبلی نواب اسلم رئیسانی، نوابزادہ لشکری رئیسانی اور دیگر نے اپنے خیالات پیش کیے۔

سابق پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جس ملک میں فہرستیں بنیں کہ الیکشن میں کون جیتے اور کون ہارے وہاں مسائل حل نہیں ہوں گے۔

کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں مسائل تب ختم ہوں گے جب فہرستیں بنانا بند ہو جائیں گی، راتوں رات سیاسی جماعتیں نہیں بنیں گی تو مسائل حل ہوں گے، کروڑوں روپے دے کر سینیٹرز نہیں بنیں گے تب مسائل پر بات ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمان منتخب نمائندگان کا فورم ہے لیکن وہاں مسائل کی بات نہیں ہوتی، بدقسمتی ہے کہ ملکی معیشت بدحالی کو پہنچ چکی، آج کوئی ایسا فورم نہیں جہاں ہم مسائل کا حل نکال سکیں، سیاسی سسٹم میں مسائل حل کرنے کی طاقت نظر نہیں آتی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک جن مسائل کا شکار ہے میں بھی ان ذمہ داروں میں ہوں۔ سب نے حکومتیں کیں اور اپوزیشن میں رہے۔ ملک کو 75 سال ہوچکے ہمیں پھر بنیادی باتوں پر آنا پڑے گا، نظام بنانا پڑے گا اور حکومت کو ڈیلیور کرنا پڑے گا۔‘

’ہم ملک میں سیاسی انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آئین میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ ایک مرتبہ آئین کو موقع دے کر دیکھیں سیاست تو ہوتی رہے گی کیوں کہ ملک ہوگا تو سیاست ہوگی۔ معاشی حالات پر قابو کے لیے لمبا عرصہ چاہیے۔‘

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دوسرے بھی تب مدد کرتے ہیں جب خود اپنی فکر کریں، ہمیں ذمہ دار قوم ہونے کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ہمیں مشکل فیصلے کر کے معاملات کو درست راستے پر ڈالنا ہوگا۔

صوبائی وزیر خوراک زمرک اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی رہنماوں کو محب وطن ہونے کی سرٹیفکیٹ لیتے ہیں ہم آج بھی غداروں کے لسٹ میں شامل ہے۔

انکا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ پشتونستان یا حقوق دے دوں تو ہمیں غدار کہتے ہیں جب حقوق نہیں ملتے ظلم ہوتاہے تو تقسیم در تقسیم ہوتا۔جب حقوق نہیں ملتے تو لوگ پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں ایک پارٹی بناکر ہم پر مسلط کردی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نواب اسلم ریئسانی نے خود مجھے کہاں تھا کہ مجھے کہاں گیا دستخط کریں دوکروڑ ڈالر دیئے جائیں گے۔ بلوچستان میں قدرت کے خزانوں میں سے کوئی کمی نہیں۔ وفاق نے ہمیشہ سے بدمعاشی سے ہمارے حقوق چھین لیے ہیں۔

تجزیہ نگار رفیع اللہ نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پیکجز سے حل نہیں ہوگا۔نواب اسلم ریئسانی، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر مالک بلوچ پاکستان اور بلوچستان کے درمیان آخری کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کیلئے 70 ارب کا پیکج رکھا جاتاہے لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا۔ امن وامان کیلئے رکھا جانے والے رقم سے بلوچستان کے عوام کو چیک کے لحاظ سے دیا جائے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصرااللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے بدقسمتی سے اہل بلوچستان تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

“بلوچستان میں جہاں سے معدنیات نکلتا ہے وہاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہے، بلوچستان میں یہاں ماورائے عدالت کارروائی ہوتی ہے۔”

نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچستان سے لوگ لاپتہ ہے، بارہا یقین دہانی کرانے کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، بلوچستان کے طاقتور ادارے یہاں کے لوگوں کو اٹھایا گیا، مکران دویژن سے 80 فیصد لوگوں نے گھر بار چھوڑ دیا اسی طرح ڈیرہ بگٹی سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ نے نقل مکانی کی، ہزاروں کی تعداد میں آج بھی لوگ زندانوں میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ایٹمی ریاست نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ ملک میں کیا ہورا ہے، 2011 سے لاپتہ افراد کے لئے کمیشن بنایا گیا لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔