بلوچ قوم متحد ہوکر جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کرے۔ ماما قدیر بلوچ

160

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جبری گمشدگیوں کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ کو 4937 دن مکمل ہو گئے۔

اس موقع پر سندھ سجاگی فورم کے رہنما سارنگ جویو اور انکے ساتھیوں ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ڈپٹی آرگنائزر عبدالوہاب بلوچ اور دیگر نے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالی، آئے روز بلوچ نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں، مسخ شدہ لاشوں کا پھینکنا اور پورے بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں کی خاموشی ریاستی جبر کو بڑھا رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہڑتال، ریلیوں ، پریس کانفرنس سے پاکستانی ریاست ہمارے مطالبات ماننے کو تیار نہیں ہوگی لیکن بلوچ قوم کی نسل کشی جاری رکھنے اور ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا مناسب نہیں ، بلوچ قوم اپنے لاپتہ اسیران کی بازیابی چاہتی ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ اس طویل احتجاجی کیمپ کو جاری رکھنا لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہے۔ کئی لواحقین یہاں آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم متحد ہوکر جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کرے۔