ڈیرہ جات میں حریت پسندی | حصہ دوئم – واھگ

179

ڈیرہ جات میں حریت پسندی

تحریر ۔ واھگ
حصہ دوم

دی بلوچستان پوسٹ

اسلم ملگانی کی زمین اور بلوچ قوم سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے رہنے والے آج بھی ان کی اصولوں اور نظریات پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

اُس وقت ایک انگریز ڈپٹی کمشنر سنگھڑ کا دورہ کرنے آیا، جب وہ اسلم ملگانی کے بستی گیا، باقی جاگیردار اور تمن داروں نے گدی اٹھا کر ان کا استقبال کیا لیکن وہ قبضہ گیر آفیسروں کے احترام میں کھڑے نہ ہوئے۔ ڈی سی کے ساتھ کچھ مقامی بلوچ وڈیرے اور سپاہی بھی موجود تھے، ملگانی صاحب نے ان وڈیروں اور سپاہیوں کے ضمیر کو اس طرح جھنجوڑ کہ وہاں پر موجود دو سپاہیوں نے اپنی وردیاں ڈی سی کو یہ کہہ کر واپس کردیے کہ آپ کی غلامی کا بوجھ اب ہم سے مزید نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔

اسلم ملگانی کے حوالے سے یہ روایت بہت مشہور ہے کہ اُس دور میں وزیرستان سے کچھ لوگ اس علاقے میں ڈاکے ڈالتے تھے تو ایک بار وزیرستان کے کچھ ڈاکو پکڑے گئے اور یہاں پر موجود انگریزوں کے فوجی دستوں نے ان میں سے چھ آدمیوں کو قتل کردیا اور ان کی لاشیں فوجی قلعہ میں لے آئے بعد ازاں ڈیرہ غازی خان کے تمام تمن داروں اور سرداروں کو اکٹھا کر کے وہاں کے انگریز افسر نے لاشوں کو جلانے کا حکم دیا، تمام سردار و تمن دار اس فیصلے پر خاموش رہے لیکن اسلم خان ملگانی نے لاشوں کو اپنے میں قبضے میں لیتے ہوئے اعلان کیا کہ ان لاشوں کو جلانے سے پہلے میری لاش کو جلایا جائے، یہ ہماری سرزمین ہے اس کے فیصلے یہاں پر بسنے والے بلوچوں کے مطابق ہونگے نہ کہ کسی انگریزی قبضہ گیرکے فیصلے پر ہونگے۔

اسلم ملگانی کی یہ باتیں سن کر مرے ہوئے سرداروں کی مری ہوئی روح نے انگریزوں اور دوسرے سرداروں کو مجبور کیا، ان کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا آج بھی ان کی قبریں منگروٹھ میں موجود ہیں جو اسلم خان ملگانی کی جرات و جوان مردی کی یاد دلاتی ہیں۔

کتاب بلوچ قوم میں شاعر نے اسلم خان کی بہادری اور جلا وطنی پر لکھا کہ

اسلم تھا نوتک کا بطل حیس
تھا کردار اس کا بڑا دلنشیں
بسالت نے اس کو کیا نامور
تھا علم و ادب میں تاجور
یہ ملگ کا بیدار ابن غیور
فرنگی مراعات سے تھا نفور
سو انگریز اُس کو جھکا نہ سکے
وہ دام ہوس میں پھنسا نہ سکے
کہا اس نے اپنوں سے اے دوستو
غلامی کی یہ ریت تم چھوڑ دو
مگر آئے قطعاً نہ یہ راہ پر
اکڑتے رہے منصبِ و جاہ پر
وہ سردار سب اس کے دوشمن ہوئے
کہ انگریزکے جو وفادار تھے

قبضہ گیروں سے وفاداری بلوچ نفسیات میں شامل نہ ہو سکی اور ہر جگہ بلوچ قوم کی طرف سے ان کو مزاحمت کا سامنا رہا لیکن قبضے کی ہوس ختم نہ ہوسکا انگریزوں نے جب دیکھا کے اسلم ملگانی کی سوکڑ سے امرتسر اور امرتسر سے افغانستان بدری کے باوجود بھی وہ اپنے نظریات سے پیچھے نہ ہٹ سکے اور انگریزوں کا مقصد پورا نہیں ہوا تو اس سرفروش کو راہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کی خاطر کئی حربے آزمائے گئے آخر کار انہیں زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی اور بروقت علاج سے اُن کی زندگی بچ گئی لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ افغانستان میں انتقال کرگئے۔

اسلم خان ملگانی نے بلوچ وطن کے ایک ہیرو کی حیثیت سے انگریزوں اور تمن داروں کے خلاف جدوجہد کی قیادت کی اور انگریزوں کی جانب سے تمن داری اور دیگر پرُکشش عہدوں کی پیشکش ٹھکرا کر قربانیوں کی تاریخ رقم کی جبکہ ان کے ہم عصر قبائلی سرداروں لغاری ،مزاری، گورچانی ،دریشک،کھوسہ ،لنڈ ،
بزدار اور دیگر نے انگریزوں کا طوق غلامی گلے میں ڈالتے ہوئے تمن داریاں قبول کر کے ان کے ساتھ بلوچ قوم اور وطن کے مفادات کا سودا کیا جن کی یادگاری تحتی ( سیاہ داغ ) آج بھی فورٹ منرو پر نصب ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں