نوآبادیاتی ہتھکنڈے اور محمود خان اچکزئی کی سیاست ۔ امیر ساجدی

314

نوآبادیاتی ہتھکنڈے اور محمود خان اچکزئی کی سیاست

تحریر: امیر ساجدی

دی بلوچستان پوسٹ

افغانستان میں جاری جنگ نہ صرف پشتونوں کے لئے ایک جان لیوا اور خطرناک جنگ ہے بلکہ بلوچستان میں اسکے اثرات بھی ہیں، جس طرح یہ جنگ افغانستان میں لوگوں کو نقصان دے رہا ہے اٌتنا ہی بلوچ قوم اور بلوچستان کو دے رہاہے کیونکہ افغانستان اور بلوچستان کے بارڈرز آپس میں ملتے ہیں اور محمود خان اچکزئی جیسے لوگوں کا بے بنیاد دعویں کرنا براہ راست دو قومی تضاد کی طرف دکھیل دینے کا ایک اشارہ ہے اور یہ ٹاسک پنجاب کی جانب سے اچکزئی کو دی گئی ہے تاکہ پشتون اور بلوچ قوم کے بیچ جنگ چھڑ جائے اور ایک سیول وار کی شکل میں خود کو تہس نہس کریں۔

بلوچ کا ہر بچہ یہ جانتا ہے کہ اس جنگ کو شروع کرنے کا فائدہ کس کو ہے حالانکہ دنیا بھی جانتی ہے کہ اس جنگ میں نہ فائدہ پشتون کو ہوگا نہ بلوچ قوم کو اس میں فائدہ صرف اور صرف کالونائزر کو ہوگا جو بلوچوں کی زمین پہ اپنی ملیٹری کی شکل میں قابض ہے اور افغانستان میں جان لیوا دہشتگرد مزہبی تنظیموں کی شکل میں۔

پشتونوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اُن کی زمین پہ (وار آن ٹیرر) جیسے پالیسی چلی جہاں امریکی فوج کی ایک بڑی تعداد آئی اور افغانستان کو اپنے قبضے میں لےلیا۔ حالانکہ امریکہ کو اپنے فوج  افغانستان میں بھیجنے کا واحد مقصد اسامہ بن لادن کو مارنا نہیں تھا   اگر تھا تو اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد امریکی فوج افغانستان سے کیوں نہیں نکلا؟ اگر امریکہ یہ جانتا تھا کہ افغانستان میں القائدہ کا کوئی ممبر ہے تو پھر اکیس سالوں میں ایک بھی ممبر کیوں نہیں مارا گیا؟ یہاں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہالانکہ اسامہ بن لادن کو بھی پاکستان میں سی آئی اے (سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی) نے ماردیا۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف پاکستان نے امریکہ سے ڈالر لیا اور القائدہ کو ختم کرنے کا عہد کیا اور دوسری طرف پاکستان نے القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن کو خفیہ طورپر پناہ بھی دی تھی۔

مدیحہ افضل اپنی کتاب “پاکستان انڈر سیج،اکسٹریمزم سوسائٹی اینڈ دی اسٹیٹ” میں لکھتے ہیں کہ عافیہ صدیقی جوکہ ایک پاکستان الاعصاب تھی کو القائدہ کا نائن الیون حملے میں قصور وار ٹہرایا تھا جو بعد میں گرفتا بھی ہوئی۔

میرے یہ سب کہنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان کے کم از کم تیس لاکھ افغان بلوچستان میں بطور مہمان آئے اور جن کی پچتر فیصد کوئٹہ اور گردنواح کے علاقے میں آباد ہوئے اور پچیس فیصد سندھ اور دوسرے صوبوں میں گئے۔

چونکہ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے انہوں نے بلوچستان کو اپنے لئے بہتر اور محفوظ سمجھا اور بلوچ قوم کو پشتونون سے ایک تاریخی سیاسی اور سماجی روابط بھی رہاتھا اور ہے۔ بابا خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو، شھید اکبر خان بگٹی، شھید اسلم بلوچ اور کئی سیاسی اور مزاحمتی لیڈر افغانستان کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔  جب افغانستان میں جنگ چھڑی تھی تو ظاہر سی بات ہے بلوچوں نے افغانون کو بلوچستان آنے میں بطور بھائی، ناکہ بلوچستان کی مالک،  بلوچستان میں ویلکم کیا۔ افغان کے ساتھ  ساتھ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی بلوچستان میں آئے کیونکہ ویسے ہزارہ کمیونٹی کے لوگ افغانستان میں افغان کے ہاتھوں ڈسکریمنیٹ کا شکار ہورہے تھے انہوں نےافغانستان کی حالات دیکھ کر اپنے لئے مزید مسئلے دیکھنے کی پریڈکشن کی۔ بلوچستان میں آتے ہی انہوں نے مسائل کا سامنا کرنا شروع کیا۔ روز دھماکوں کی زد میں آگئے اُن کی دکانوں میں بمب پھینکی گئی ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کوئلہ کانکنوں کو زبح کیا گیا جن کی زمہ داری زیادہ تر اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی اور ہزارہ کمیونٹی کے لیڈرز نے ہمیشہ ریاستی اداروں کو پوائینٹ آؤٹ کی، اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا کہ ریاستی اداروں کے ہاتھ ان حملوں کے پیچھے تھے۔

اب کچھ دنوں سے محمودخان اچکزئی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ بلوچ بلوچستان میں آباد پشتونون کو بھائی سمجھ کر بلوچستان کا وارث قبول کریں اگر نہیں کیا تو پشتون بلوچستان کو کیک کی طرح کاٹ کر اپنا حصہ وصول کرینگے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو سوچنے پہ مجبور کرتی ہے۔

شاید محمود خان اچکزئی بلوچستان کی تاریخ سے ناواقف ہے بلوچ قوم سنہ 1839 سے لیکر آج تک قبضہ گیریت اور اپنی ماں بہنوں کی عزت اور ننگ ؤ ناموس کےلئے لڑتا اور گولیوں کو سینے میں سہتا آرہاہے۔ بلوجستان کےلئے لمہ وطن شہید کریمہ بلوچ، ڈاکٹر خالد، شھید منان جان، ساجد حسین جیسے اور کئی سرفروشوں نے اپنی جانیں اس لئے قربان نہیں کی ہیں جو آپ کیک کی طرح بلوچستان کو تقسیم کرنے کے شور مچارہے ہو بلوچ قوم نے اپنی غلامی کی آج کو کل کی روشن مستقبل کےلئے وقف کی ہے تاکہ آنے والی نسلیں کل کی خود مختار بلوچستان کے مالک ہوں۔

محمود خان اچکزئی کی یہ بدقسمتی ہے، خیر بے وقوفی کا نام میں نہیں دے سکتا کیونکہ لاکھ اختلافات صحیح لیکن وہ عمر کے لحاظ سے بڑے ہیں، کہ وہ اپنی قومی تاریخ سے ناواقف ہے اُسے بلوچستان بانٹنے کی بات کرنے سے پہلے اپنی زمین افغانستان میں جاری انسانی المیئے کےلئے سوچنا چاہئے تھا اور اپنی قوم کو افغانستان میں مسئلوں کی وجوہات کو بتانے کی ضرورت تھی۔ حالانکہ محمود خان کی یہ بیان نفرت پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ مسائل پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے ۔

بلوچستان میں پارلیمنٹ کے دائرے میں رہ کر قوم پرستی کا دعوی کرنے والا بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی مینگل) کی محمود خان اچکزئی کی بیان پر خاموش رہنا قابل مزمت ہے، بی این پی مینگل کا دعوی ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں سْیاسی اور زمینی مسلوں پہ زیادہ فوکس کرتا ہے/ کررہاہے۔

محمود خان اچکزئی کا بْیان بھی کسی حد تک ایک ریاستی پروپیگنڈہ ہے تاکہ بلوچ اور پشتون ایک نئی جنگ شروع کریں خیر امید ہے کہ پشتون قوم اس کو جلد سمجھ سکے گی اور ہر بلوچ کو چاہئے کہ وہ اس مسلے پر پوری پشتون قوم کو نہیں بلکہ محمود خان اچکزئی کی بْیان کی مزمت کریں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل خدا نخواستہ بلوچ اور پشتون قوم کے درمیان محمود خان اچکزئی کی وجہ سے ایک قومی جنگ پیدا ہو۔ کیونکہ یہ بْیان محمود خان نے اس لئے دیا ہے کہ وہ زیادہ پیسہ سامراجی قوت سے وصول کرسکے اگر وہ ایسا نہ کرے تو ریاست اُسے اپنی پارلیمٹ میں جگہ نہ دی گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں