قوم پرستی اور آج کا بلوچ نوجْوان ۔ نوراحمد ساجدی بلوچ

271

قوم پرستی اور آج کا بلوچ نوجْوان

تحریر: نوراحمد ساجدی بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ 

قوم پرستی کا مطلب اپنے قوم کو ہر حال میں بالاتر سمجھنا اور اپنے قوم کے لئے کسی بھی حد تک جانا، اپنے زاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا ہے، روز مرہ زندگی میں ایسے کام سر انجام دینا اور ایسے تدابیر اختیار کرنا جن میں قوم کو ترقی مل سکے۔ آسان الفاظ میں قوم مفادات کو ہر صورت میں اپنی ترجیحات میں شامل کرنا اور قوم کی پرستش کرنا ہے۔

لیکن بد قسمتی سے آج تک ہر کوئی یہ دعویٰ تو کر رہا ہے کہ ہم قوم پرست ہیں لیکن انکے کردار اور اعمال قوم پرستی کے بالکل برعکس ہیں، جنکو اب تک قوم پرستی کے معنی اور مفہوم کا علم نہیں کہ قوم پرستی کیا ہے، اس معنی اور مفہوم کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں، تاریخ میں دیکھا جائے غلام اقوام نے جب کسی سامراج سے آزادی حاصل کی ہے تو وہ قوم پرستی کے نظریے سے اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارہ دے کر انہیں آزادی کی شاہراہ پر گامزن کی ہیں، انکی واضح مثال یورپی ممالک ہیں جہاں انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو یکجا و یکمشت کرکے آزادی حاصل کی اور ترقی کی جانب گامزن ہوئے۔

نوجْوان قوم کے مستقبل جانے جاتے ہیں، تاریخ میں قوموں کی ترقی میں نوجْوانوں کا ہی ہمیشہ کردار رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے بلوچ قوم کے نوجْوان اب تک قوم پرستی کے صحیح معنی اور مفہوم سے نا آشنا ہیں، دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن محض یہ باتوں تک محدود ہیں ان پر عمل نہیں کیا جاتا، کہنا کا مقصد یہ ہے کہ جسطرح تحریر کے ابتدا میں اس بات کی زکر کی ہے کہ قوم پرستی میں اپنی زاتی مفادات کی جگہ اجتماعی مفادات کو ترجیح دیا جاتا ہے، ایک قوم پرست میں اپنے قوم کو سننے اور انہیں برداشت کرنے کی خاصیت پائی جاتی ہے، لیکن ہمارے نوجْوانوں میں قوم پرستی کے یہ عنصر بالکل نہیں پائی جاتی، یہاں ایک دوسرے کو بالکل برادَشْت نہیں کیا جاتا، ہر ایک اپنے زاتی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے، اگر اس عمل کو دیکھا جائے تو یہ عمل قوم پرستی کے بالکل برعکس ہیں۔

اس بات کو جواز بناکر ہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں کہ انکے ساتھ ہمارا نظریاتی اختلافات ہیں، بہت سی تنظیمیں بھی قوم پرستی کے نام پر بنائی گئی ہیں لیکن وہ قوم پرستی کے اصولوں پر بالکل کام نہیں کر رہے ہیں، بجائے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں جو کہ قوم پرستی ؐمیں یہ بات واضح ہے کہ قوم کو برداشت کرنا ہے، لیکن یہاں بالکل عدم برداشت کے فلسفے پر نوجْوان ایک دوسرے پر زہر افشانی کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز باتیں پھیلا رہے ہیں، جو کہ قوم کو یکجا کرنے کے بجائے ان میں مزید دوریاں پیدا ہو رہے ہیں۔ دراصل سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج تک قوم ہرستی کے دعوت کرنے والے خود قوم پرستی کے معنی و مفہوم سے نا آشنا ہیں۔

آج کے نوجْوان خود تو بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم بلوچ ہیں، لیکن ان کے رویوں کو دیکھا جائے تو قومی ترقی میں انکے کردار زیرو کے برابر ہیں، سارا دن ٹیک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور سوشل میڈیا میں اپنے قیمیتی وقت کو صرف اسکرولنگ میں ضائع کر رہے ہیں دوسری جانب قوم کا کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ قوم کا کیا صورتحال ہے۔

نہ تعلیم کی فکر، نہ زبان کی فکر اور نہ ہی اپنے آنے والے نسل کی فکر۔

تعلیم یافتہ لوگ اپنے زبان کو خود مسخ کر رہے ہیں، باتوں میں دیگر زبان کے الفاظ کو شامل کر کے اپنے تعلیم یافتیلہ ہونے کے ثبوت دے رہے ہیں، افسوس مجھے اس بت سے ہو رہا ہے کہ یہ تحریر مجھے بلوچی زبان میں ہی لکھنا چاہئے تھا لیکن میں اسے اردو میں اسلئے لکھ رہا ہوں کہ قوم کے زیادہ تر نوجْوان اپنے زبان کو پڑھنے اور لکھنے سے قاصر ہیں، اسلئے میں اردو میں لکھ رہا ہوں کہ وہ اس تحریر کو پڑھیں اور سمجھنے کے بعد عمل کریں۔

آج کل قوم پرستی کو غلط رنگ میں پیش کرکے بھائی کو بھائی کے خلاف بڑھکایا جا رہا ہے، اور انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہیں یہ کہیں کہ یہ عمل صحیح نہیں ہے تو کہتے ہیں کہ یہ دوسرے تنظیم کا ممبر ہے، کیا قوم پرستی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ بھائی کو بھائی کا دشمن بنایا جائے ؟ ہر گز نہیں، تو پھر ہم کیوں ایسا کر رہے ہیں۔

ہمارے اندر بھائی چارہ ختم ہو چکا ہے، ہمارے اندر ایک ایسی سوچ Dominant کر چکا ہے کہ ہم اپنے مقصد کو بھول چکے ہیں کہ ہمارا مقصد اور منزل کیا ہے، ہمارے اوپر کالونائزر ایک سانپ کی طرح بیٹھا ہوا ہے، جو کہ ہر وقت اپنی پالیسْیاں بنا کر ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بناکر ہمیں تقسیم کر کے ہمیں لڑا رہا ہے، آج تک ہم نے ان سانپ کو تشخیص کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

ہم چند اختلافات کی وجہ سے اپنے ہی بھائیوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں ،دراصل یہ قوم پرستی نہیں بلکہ قوم دشمنی ہے، جو کالونائز بھی یہی چاہ رہا ہے ہم وہی کر رہے ہیں۔

کالونائزر تو اپنی تسلط کو قائم رکھنے کیلئے ایسی پالیسْیاں ترتیب دیتا ہے کہ ہم انکے پیروکار بنیں۔ ہم وہ بدنصیب قوم ہیں جو ہر وقت خود کو نابالغ سرگرمیوں اور نادانیوں کی وجہ سے مقتدرہ قوتوں کے پاؤں تلے دبے ہیں، ہماتے سامنے بلوچوں کی گھروں کو جلایا جا رہا ہے، ہم خاموش اور چھپ چھاپ بیٹھے ہوئے ہیں، ہماری مائیں بہنیں روڈوں اور چوراہوں پر در بہ در ہیں لیکن ہم خاموش اسلئے ہیں کہ ہماری سوچ کو غلام بنایا گیا ہے، بس ہماری جدوجہد اور قوم پرستی صرف اسٹیٹس لگانے تک محدود ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں