ایران کا اقوام متحدہ خواتین حقوق کمیشن سے اخراج

202

ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے درمیان انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر تہران کو اقوام متحدہ کے خواتین کمیشن سے نکال دیا گیا ہے۔

اخراج کی تجویز پیش کرنے والے امریکہ نے اس پیش رفت کو مظاہرین کی فتح قرار دیا ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کونسل میں ایران کو اقوام متحدہ خواتین کمیشن (یو این سی ایس ڈبلیو) سے نکالنے کے لیے بدھ کے روز ووٹنگ ہوئی۔

ووٹنگ کی تجویز امریکہ نے پیش کی تھی۔ تجویز کے حق میں 29ممالک نے ووٹ دیے جب کہ 8 نے اس کی مخالفت کی اور 16 ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔

ایران کے اہم حلیف روس نے تجویز کی مخالفت کی۔ اس نے اقوام متحدہ کے ماہرین قوانین سے ان کی آرا طلب کرنے پر زور دیا کہ آیا اقتصادی اور سماجی کونسل کو تہران کو رکنیت سے نکالنے کا قانونی حق حاصل بھی ہے۔

تجویز میں تہران کے اقدامات پر “سخت تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “ملک میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور انہیں دبایا جا رہا ہے۔”

 اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل ہر چار برس کے لیے یو این سی ایس ڈبلیوکے 45 اراکین کا انتخاب کرتی ہے۔ ایران کو سن 2022 سے سن 2026کی مدت کے لیے رکن منتخب کیا گیا تھا۔