ہماری لاعلمی کا فائدہ اٹھاکر دوسرے لوگ ہماری زندگیوں کا فیصلہ کرتے آرہے ہیں – لشکری رئیسانی

111

سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان ایک بڑے بین الاقوامی کھیل کاحصہ بننے جارہا ہے، ہمیں حکمت، علم اور کتاب کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرکے علم کی بنیاد پر یکجا ہوکر آئندہ آنے والے دورمیں اپنی سیاست کے ذریعے بین الاقوامی معاملات میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ایک باوقار قوم بننا ہوگا،خصوصاً نوجوان کتب پڑھنے کواپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور معاشرے میں کتاب پڑھنے کے رجحان کو فروغ دیں۔

یہ بات انہوں نے بلوچستان پیس فورم کی جانب سے مہر گڑھ لائبریری کو 250 کتابوں کا تحفہ دینے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئےکہی۔

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان ایک بڑے بین الاقوامی کھیل کا حصہ بننے جارہا ہے، سالہا سال سےہماری لاعلمی کا فائدہ اٹھاکر دوسرے لوگ ہماری زندگیوں کا فیصلہ کرتے آرہے ہیں جس کا نقصان ہمیں برداشت کرنا پڑا ہے اس کیوجہ کتاب سے منسلک ہونے کی بجائے ہمارا اس سے دور ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم دوبارہ اپنے سیاسی فیصلے علم و حکمت کی بجائے جذباتی نعروں سے کریں گے تو آئندہ کئی سال بھی اپنےفیصلوں پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی صورت گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ ہماری آبادی کم ہے جن ممالک کی آبادی کم ہے وہاں کے لوگ زیادہخوشحال زندگی گزار رہے ہیں کیوں کہ ان کی سیاست اور ریاست علم و حکمت کی بنیاد پر ہے، بڑی آبادی والے بہت سے ممالک سمیتپاکستان جس کی آبادی 24 کروڑ ہے پوری دنیا کا مقروض ہے کیوں کہ یہاں فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کےلوگ اپنے فیصلے خود کرنے کے اہل اس وقت ہوں گے جب وہ تعلق علم سے جوڑ کر اپنی تاریخی قومی عظمت کو بحال کرنے میں اپناکردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ جو قوتیں بلوچستان کی قسمت کا فیصلہ کررہی ہیں انہوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ حقیقی قیادت کو سیاسی وجسمانی طور پر قتل کراکے جعلی لوگوں کے ذریعے ہماری قسمت کا فیصلہ کیا جائے، ہر شخص کو پڑھنا پڑھے تاکہ صوبے کا ہر فردعلم کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے ناکہ جعلی لوگ ہماری زگیوں اور آئندہ نسلوں کا فیصلہ کریں۔