بولان بدستور فوجی محاصرے میں، چرواہا قتل

636

بولان و گردنواح میں پاکستان فوج کی جانب سے آپریشن جاری ہے۔ فوج کے ہاتھوں قتل ایک چرواہے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

گذشتہ روز سانگان کے قریب سفری کے مقام سے محمد غوث ولد افضل خان مری کی لاش برآمد ہو ئی جنہیں ستمبر 2021 میںحراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا تھا، بعدازاں تین مہینوں کی گمشدگی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بولان میں جاریفوجی آپریشن کے دوران ان کو قتل کر دیا گیا ہے۔

آج ساتویں روز بولان فوجی محاصرے میں ہے جہاں مختلف علاقوں سے مزید لاشوں کی برآمدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیںتاہم ان تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

بلوچ خواتین و بچے تاحال پاکستان فوجی اہلکاروں کے تحویل میں ہیں جن میں سے تیرہ افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔ مذکورہ افراد کاتعلق سمالانی قبیلے سے ہیں جبکہ ان میں جبری گمشدگیوں سے متاثرہ افراد کے لواحقین بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے علاقے میں آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہمسلح جھڑپوں میں دو ایس ایس جی کمانڈوز ہلاک ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے چار بلوچ آزادی پسندوں کے مارے جانے کا بھی دعویٰکیا تھا تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

بعدازاں بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جھڑپوں میں پاکستان فوج کے آٹھ ایس ایس جیکمانڈوز مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب ان علاقوں میں آمدورفت کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے، علاقے میں شدید غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ آبادیوں پرسخت پھیرے دیئے جارہے ہیں۔ اس دوران بیماروں کو سخت تکالیف کا سامنا ہے، جنہیں ادویات و ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی جارہی۔

گذشتہ روز سماجی رابطوں کی سائٹ پر بولان آپریشن اور خواتین و بچوں کی گرفتاری کیخلاف آگاہی مہم چلائی گئی جس میںمختلف مکاتب فکر کے افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔