بلوچستان میں کتابوں کی بھوک ۔ سنگت کوہ دل

135

بلوچستان میں کتابوں کی بھوک

تحریر: سنگت کوہ دل

دی بلوچستان پوسٹ 

بلوچستان تو پنجاب والوں کے کھانے کی بھوک کو مٹارہا ہے، سیندک کوئلہ، گیس، ریکوڈیک، سی پیک وغیرہ وغیرہ سے، مگر پھر بھی انکا بھوک مٹتا نہیں۔

بلوچستان میں کتابوں کی بھوک کو مٹانے کیلئے نہ بلوچوں نے کبھی کچھ مانگا ہے نہ مانگے گا، بلوچ خود اپنےکتابی بھوک کو مٹانے میں لگے ہوئے ہیں، کن کن حالتوں سے گزر کر اپنے بچوں کو درس گاہوں تک پہنچاتے ہیں، اپنے بچوں سے کھانے کی ایک ایک نوالہ چھین کر ، تاکہ کتابی بھوک مٹ جائے پھر یہی طلبا انہی پیسوں سے اِدھر اُدھر کر کے کچھ بچاتے ہیں تاکہ کوئی ایک کتاب خرید سکیں۔ مگر یہی پنجابی کسی شعورِ یافتہ انسان کو برداشت نہیں کر سکتا ہے، اسی کو اٹھا کر غائب کر کے پھر مدتوں بعد مسخ شدہ لاشیں پھینکتا ہے۔

اسی طرح لالا فہیم بھی بلوچستان میں کتابوں کی بھوک کو مٹانے میں لگا ہوا تھا بلوچستان کے کونے کونے تک کتاب کلچر کا فروغ دینا اس کا خواہش تھا۔ 2021 کو جب بارکھان رکنی میں پہلی بار کتابی میلہ ہورہا تھا تو دوسرے پبلشروں نے آنے سے انکار کیا کہ وہاں کتابوں کی اتنی شائقین نہیں، ہم نہیں آئیں گے، جبکہ لالا نے پوچھے بغیر کتابوں کو کراچی سے شال کسی دوست کے ہاں بھیج دیا اور اس سے کہا کہ آپ جاؤ وہاں بُک اسٹال لگاؤ اس نے اس وقت یہی جواب دیا تھا کہ وہاں کتاب بکِے گا نہیں میں نہیں جاؤں گا، پھر لالا نے اس کا موبائل نمبر ڈاکٹر سلیم کرد اور مرحوم ڈاکٹر کہورخان کو دیا تھا، ان لوگوں نے اُس سے کہا تھا کہ آپ کو آنا ہے تو وہ کچھ کہے بغیر نکل گیا تھا اور”لالا” کو فون کیا کہ آپ بھی آجاؤ میں جارہاہوں وہ ایک دن پہلے پہنچ گیا۔

“لالا” کراچی سے شال گیا شال سے بارکھان رکنی پہنچا دو دن کتاب میلہ لگا 20/30 کتاب بِک چکے تھے۔ اکثر بہت سے لوگ ہر وقت یہی کہتے تھے کے” لالا “بزنس کررہا ہے، پیسہ کما رہا ہے مگر آج وہ یہ نہیں کہتے ہیں “لالا” غائب ہے، اس کیلئے آواز اُٹھائیں اس کو بازیاب کروائیں، تین مہینے ہورہا ہے لالا غائب ہے، دو مہینے تک کچھ لوگوں نے اپنا فرض سمجھ کر کچھ تصویریں شائع کیں اور اب ایک مہینے سے کوئی ایک لفظ بھی نظر نہیں آتا ہے “لالا” کے حوالے سے۔

اگر کوئی کسان یا چرواہے ڈرائیور دوکان دار کو کتابوں کے بارے میں علم نہیں ہے کچھ کہتے نہیں تو ٹھیک ہے مگر حیرانگی اس بات پہ ہے جو کتاب پڑھنے والے ہیں کتابوں سے دوستی رکھنے والے ہیں جو ہر مہینے لالا کو فون کرکے پوچھتے تھے کہ نیا کتاب کون سا آیا ہے، وہ لوگ بھی “لالا” کو بھول گئے ہیں۔

لالا فہیم علم وادب بلشر کے منیجر تھے، جسے 26 اگست کو کراچی صدر اردو بازار میں اس کے دکان سے سندھ پولیس نے اپنے ساتھ لےگیا تھا تا حال اسکی کوئی خبر نہیں ہے وہ کہاں ہے کس حال میں ہے۔

وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی ساری زندگی کا تعلق صرف کتابوں ، کتاب دوست و ادب دوست انسانوں سے رہی ہے، بلوچی ادب ( نظم و نثر ) کے کتابوں کی چھپائی کرتا ہے ، جو بلوچی ادب پبلشرز کے پلیٹ فارم سے چھاپ ہوتے ہیں ، بلوچی زبان و ادب کو ایک نیا نام ایک نئی پہچان جو بلوچ ادیبوں کے ذریعے دینے کا لالچ رکھتا ہے.

“لالا ” جو کہ ایک ادب دوست زبان دوست شخص ہے اور بلوچی زبان و ادب کے فروغ کےلیے کام کرتا ہے، وہ کتاب میلوں میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے، جب وہ خود حصہ نہیں لے سکتا تھا تو وہ بساک کے دوستوں کو کتاب دیا کرتاتھا ،اور بی ایس او کے دوستوں کو، لالا کے چھاپے ہوئے کتاب سریاب روڈ کے زینت بن چکے تھے مگر آج ہر کسی کے لب سل گئے ہیں، کوئی کچھ کہتا نہیں لالا کے حق میں کیوں کہ لالا کتاب کو اپنی زندگی کا حصہ ، علم و شعور کو اپنا مقصد سمجھتے تھے۔

وہ اکثر یہی کہتے کہ کتابیں ہی شعور کے مادے کو جنم دیتی ہیں، اور خواندگی صنف ، نسل ، قومیت ، اور مذہبی عدم مساوات کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں