ایرانی حکومت پر مظاہروں کو ’کچلنے کے لیے‘ بھاری ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

166

انسانی حقوق کی یورپی تنظیم نے ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ کرد آبادی والے علاقوں میں جاری مظاہروں کو دبانے کی غرض سے بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

عرب نیوز کے مطابق مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف جاری احتجاج میں ایران کے کرد آبادی والے مغربی اور شمال مغربی صوبوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران بالخصوص ان صوبوں میں شدید نوعیت کے حکومت مخالف مظاہرے منعقد ہوئے۔

ناروے کی انسانی حقوق کی تنظیم ’ہینگو‘ نے کہا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے پیران شہر، مریوان اور جوانرود میں مظاہرین پر شیلنگ کی جس کی ویڈیوز بھی آن لائن پوسٹ کی گئی ہیں۔

تنظیم کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مغربی اور شمال مغربی صوبوں میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے سات کا تعلق جوانرود، چار پیران شہر اور دو دیگر علاقوں کے رہنے والے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 16 سالہ نوجوان کاروان غدر شوکری بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اس وقت بھی فائرنگ کی جب لوگوں کے ہجوم میں نوجوان کی میت کو مسجد لے جایا جا رہا تھا، جس سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے لیے سزائے موت شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کا ایک ذریعہ ہے کہ وہ احتجاجی تحریک میں نہ شامل ہوں۔

تنظیم نے سزائے موت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعے عوام میں خوف پھیلایا جا رہا ہے اور اسے سیاسی جبر کے آلا کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

سنیچر کو ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا تھا کہ مہسا امینی کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں سکیورٹی فورسز نے 47 بچوں سمیت 378 افراد کو ہلاک کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی حکومت نے ملک گیر مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام شمالی عراق میں موجود کرد ایرانی اپوزیشن گروہوں پر عائد کیا ہے۔

پیر کو ایران نے عراق کے حزب اختلاف کرد گروہوں پر تازہ میزائل حملے کیے تھے جس سے کرد سکیورٹی فورس پیش مرگا کے ایک اہلکار کی ہلاکت واقع ہوئی۔ امریکہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیرقانونی‘ قرار دیا تھا۔