افغانستان: طالبان عدالتی حکم پر 3 خواتین و 11 مردوں کو کوڑے مارے گئے

105

افغانستان میں ایک عدالت کے حکم پربدھ کے روزتین خواتین اور11مردوں کو کوڑے مارے گئے ہیں۔انھیں چوری اوراخلاقی جرائمکامرتکب پایاگیا تھا اورعدالت نے انھیں کوڑے مارنے کی سزاسنائی تھی۔

طالبان کے سپریم لیڈرنے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون یا شریعت کے مکمل نفاذکا حکم دیا تھا۔اس کے بعد پہلی مرتبہ کوڑے کیسزاؤں کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بعض جرائم کے لیے جسمانی سزا لازمی ہے۔

صوبہ لوگر میں طالبان حکومت کے اطلاعات وثقافت کے سربراہ قاضی رفیع اللہ صمیم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہکوڑے سرعام نہیں مارے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا:”چودہ افراد کو تعزیری سزا سنائی گئی تھی۔ان میں 11 مرداور تین خواتین تھیں۔ان میں کسی بھی فرد کوزیادہ سے39 کوڑے مارے گئے ہیں۔

طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے رواں ماہ ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون میں بیان کردہ سزاؤں کا مکمل نفاذکریں۔ان میں سرعام پھانسی، سنگساری اور کوڑے مارنا اور چوروں کے جسمانی اعضاء کاٹنا شامل ہیں۔

طالبان کے ترجمان کے مطابق انھوں نے کہا کہچوروں، اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والوں کی فائلوں کا بغورجائزہ لیں اوروہ فائلیںجن میں حدود اور قصاص کی تمام شرعی شرائط پوری ہو چکی ہوں، آپ پرعمل کرناواجب ہے۔

حدود سے مراد وہ جرائم ہیں جن کے لیے جسمانی سزا لازمی ہے، جبکہ قصاص کا ترجمہبدلہ یا انتقامکیا جاتاہے۔یعنی آنکھ کےبدلیآنکھ، ناک کے بدلے ناک اور خون کے بدلے خون۔

سوشل میڈیا گذشتہ چند ماہ سے طالبان جنگجوؤں کی ویڈیوزاور تصاویر سے بھرا پڑا ہے۔ان میں وہ مختلف جرائم کے مرتکب افرادکوکوڑے مارتے دکھائی دے رہے ہیں۔تاہم یہ پہلا موقع ہے جب حکام نے کسی عدالت کی جانب سے دی گئی اس طرح کی سزا پر عملدرآمدکی تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں طالبان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ پیر کے روز یہ اطلاع دی تھی کہ رواں ماہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ تخارمیں19 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔ یہ حکمران گروپ کی جانب سے فوجداری مقدمات پر شریعت (اسلامی قانون) کی سختتشریح کو لاگو کرنے کی پہلی بڑی علامت ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان مولوی عنایت اللہ نے بتایا کہمکمل غوروخوض اور سخت شرعی تحقیقات کے بعد ان میں سے ہرفردکو 39 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

ترجمان کے مطابق ان سزاؤں پرشمال مشرقی صوبہ تخار میں 11 نومبر کو صوبائی عدالتوں کے حکم پر نماز جمعہ کے بعدعمل درآمدکیا گیا تھا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کو کن جرائم کی پاداش میں کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔سختگیرطالبان انتظامیہ کے تحت منظم جسمانی سزا کا یہ پہلا اشارہ تھا۔

طالبان نے دو دہائیوں کی شورش کے بعد اگست 2021 میں کابل میں اقتدارسنبھالا تھا لیکن ابھی تک کسی بھی غیر ملکی حکومت نےباضابطہ طور پران کی انتظامیہ کو تسلیم نہیں کیاہے۔مغربی ممالک طالبان پر انسانی حقوق کی پاسداری اور بچیّوں کے تعلیمیاداروں کو کھولنے کے مطالبات کررہے ہیں۔

یادرہے کہ 1996ء سے2001ء تک طالبان کے پہلے دورِحکومت میں مجرم قراردیے گئے افراد کو سرِعام کوڑے مارنے اور سنگسار کرنےکے بہت سے واقعات پیش آئے تھے۔