اختر مینگل کے مسنگ پرسنز کمیشن چیئرمین بننے کے بعد بلوچ خواتین بھی لاپتہ ہورہے ہیں- نیشنل پارٹی

225

نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے گذشتہ روز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ باپ پارٹی کا خالق جماعت بی این پی مینگل، نیشنل پارٹی پر بلاجواز کی تنقید دراصل فواد چوہدری کے بیان کا نتیجہ ہے۔ ان لوگوں نے اسلام آباد میں بلوچستان کے سیاسی مقام کی اتنی بے توقیری کی ہیں کہ کبھی شیخ رشید ان پہ انگلی اٹھاتا ہے، کھبی فواد چوہدری تو کبھی کالے رینج روور کا ذکر زبان زدعام ہوتا ہے اس میں نیشنل پارٹی کا کیا قصور ہیے۔

ترجمان نے کہا کہ مجموعی عوام بی این پی سے سوال کررہی ہے کہ انتخابات کے دوران عوام سے وعدہ کیا گیا کہ ہمیں روڈ نالی سڑک ٹھیکہ کمیشن سے کوئی سروکار کار نہیں، کامیاب ہوکر آپ کے پیاروں کو بازیاب کرائینگے اب ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ لاپتہ کے قائم کمیشن کا چیئرمین خود اختر مینگل ہیں بجائے اس کے کہ لاپتہ افراد بازیاب ہوں بولان سے خواتین لاپتہ ہورہے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ بی این پی وفاقی حکومت میں وزارتوں پر براجمان ہیں جبکہ بلوچستان میں قدوس بزنجو کے ساتھ سائلنٹ پارٹنر ہیں۔ قدوس بزنجو کا ماتھا چوم کر کرسی پر بٹھایا، اپنا پراسیکیوٹر بھرتی کروایا اور ساتھ میں یہ راگ بھی الاپ رہے ہیں کہ ہم گناہ میں شامل نہیں، یہ ان کا وطیرہ ہے کہ روز اول سے گناہ کرکے بے گناہی ثابت کرنے کے لیئے بھڑک بازی کا سہارا لیتے ہیں۔ ایٹمی دھماکے کے موقع پر پائیلٹ کا کردار ادا کیا پھر ایٹمی دھماکوں کے خلاف پونم میں تقریریں کرنے لگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی این پی تین سال باپ پارٹی کے ساتھ مل کر عمران نیازی حکومت کا حصہ دار رہا کبھی چھ نقاط کبھی گیارہ نقاط کا راگ الاپتا رہا، لاپتہ افراد پہ بھڑک بازی کرکے دس ارب کے فراڈ اسکیم لیکر ٹھیکہ و کمیشن پہ دست و گریبان ہوئے اور ایک دم سے چھلانگ لگا کر میر حاصل بزنجو مرحوم کے تشکیل کردہ پی ڈی ایم میں شامل ہوکر یہاں گلہ پھاڑنے لگے اور یہ بھول گئے کہ جس نیازی کے خلاف گلہ پھاڑ رہے ہیں ان کو ووٹ دی ان کے چیئرمین سینٹ کو ووٹ دیا ان کے ہر قسم کی قانون سازی میں شریک رہیں، آرمی چیف کو ایکسٹینشن کا ووٹ دیکر گوادر بچانے کی نوید سنائی یہ سب ایسے بھول گئے جیسے ایک نئی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بی این پی کی مثال اس آبی مرغے کی ہے جو دن رات پانی میں ہونے کے باوجود اس کے پر گیلے نہیں ہوتے۔ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 2018 میں ثناء اینڈ کمپنی کے ذریعے اختر اینڈ کمپنی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ الیکش ڈیل کی جس کا آغاز سردار ثنااللہ کے خلاف عدم اعتماد اور قدوس بزنجو کو لانچ کرنا اورلشکر بلوچستان کو سرنڈر کرنا اس ڈیل کا حصہ تھا اور یہ بھی اس ڈیل کا حصہ تھا کہ ایک فریق اسمبلی میں بلوچستان کی محرومیوں کا رونا روئے گا لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیئے بھڑک بازی کریگا مگر کاروبار وٹہ سٹہ کا ہوگا ایک بازیاب کرینگے تین لاپتہ کیا جائیگا دونوں کا کاروبار چلتا رہے گا۔

نیشنل پارٹی ترجمان نے کہا کہ بی این پی مینگل اپنے بیان میں نے جس بزرگ سیاستدان کا ذکر کیا ہے یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ 1988 میں ان کا لیڈر محض دو کان کے ساتھ اکلوتا بلوچستان آیا اس بزرگ سیاستدان نے انہیں اپنی پارٹی میں جگہ دی تو سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اس پیر مرد کے پیٹھ میں چھرا گھونپ کر ان کی پارٹی کو توڑا اور اپنا گروہ تشکیل دیا اسی طرح پی این پی کے ساتھ انضمام کرکے ایک حصہ وہاں سے نکال کر اپنی پارٹی بنالی یہ کو ئی جماعت نہیں چھاپہ مار سیاسی مافیا ہے ۔ جام حکومت میں اسمبلی کے اندر جو گملہ باری کی گئی بعد ازاں تھانے میں بیٹھ گئے وہ گملہ باری نہ لاپتہ افراد کے لیے تھا نہ بلوچستان کے لیے اور جس ٹینکی لیکس کا ذکر بی این پی نے اپنے بیان میں کیا ہے اسی ٹینکی لیکس کے پیسوں کا انہوں نے سجی تھانہ میں نوش فرمایا اور بلوچستان یونیورسٹی ہراسگی کیس میں ان کے ایم پی ایز نے دو دو پوسٹ لیکر معاملے پر مجرمانہ طورپر مٹی ڈال دیا۔ آج سی ٹی ڈی کے ذریعے سینکڑوں نوجوانوں کو لاپتہ کرایا جارہا تاکہ ان کو بھڑک بازی کا موقع ملتا رہے اور اختر اینڈ کمپنی تندوتیز تقاریر کرکے قیمتی گاڑیاں گفٹ لیتا رہے حالانکہ سی ٹی ڈی اس وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے جس کے ماتحت اس بھڑک باز جماعت کا پراسیکیوٹر جنرل ہے۔ اس بھڑک بازی پر شہید نواب بگٹی نے ان کو کاغذی شیر اور گفتار کے غازی کا لقب دیا تھا۔

نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ یہ انیسویں صدی نہیں کہ کمیشن بھی لیں اسٹیبلشمنٹ کا بی ٹیم بھی بن جائیں اور پروفیشنل پیشوا بن کر تندوتیز تقاریر سے لوگوں کو ورغلاہیں یا منافقت اور دروغ گوئی کرکے بلوچ نوجوانوں اور بلوچ سیاسی قیادت کو دست و گریباں کریں یہ کام 2007 سے 2011 تک اختر اینڈ کمپنی نے بخوبی سرانجام دیا اب یہ کمپنی نہیں چلے گی۔