جعلی مقابلوں کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ

202

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سی ٹی ڈی کی حالیہ دنوں نوشکی اور مستونگ میں جعلی مقابلوں اور نشتر ہسپتال میں پھینکے گئے 500 کے قریب لاشوں اور ان کی ڈی این اے میں تاخیر اور مسئلے کو دبانے کی کوششوں کے خلاف جمعرات کے دن کوئٹہ کے علاقے بروری روڑ بی ایم سی سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں کثیر تعداد میں خواتین و نوجوانوں سمیت عوام نے شرکت کی تھی۔

ریلی بی ایم سی سے شروع ہوکر بروری روڈ سے چلتے ہوئے اسپنی روڑ سے ہوکر ہاکی چوک کے مقام تک پہنچی جہاں مظاہرین نے ٹریفک معطل کرتے ہوئے وہاں ڈھیرے ڈال دیے۔

ہاکی چوک کے مقام پر مظاہرین 2 گھنٹے تک بیٹھے رہیں اور مظاہرے میں شریک لاپتہ افراد کے لواحقین اور سیاسی و انسانی حقوق کے تنظیموں کے عہداروں نے خطاب کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ مٹھا خان مری کی اہلیہ نے کہا کہ ہم کس قرب سے گزر رہے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں ہے مٹھا خان مری کی جبری گمشدگی سے ہم معاشی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں بچوں سے اسکول میں جب پرچے حل کرنے کیلئے دیے جاتے ہیں تو وہ وہاں “مٹھا خان مری کو بازیاب کرو” کا نعرہ لکھتے ہیں، ہم پر سنگین وقت گزر رہے ہیں۔

انہوں نے ریاستی اداروں سے اپنے شوہر کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر رحم کریں اور ہماری زندگی کو ہمیں لوٹا دیں اگر ان سے کوئی غیرقانونی کام سرزد ہوئی ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے سزا دی جائے۔

لاپتہ ذاکر مجید کی والدہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کسی کی لاش گرنے کی خبر آتی ہے تو ہمارا خلیجہ پھٹ جاتا ہے کہ کہیں ہمارے بیٹے کو نہ مارا جائے سب کے بچے ہیں سب کیلئے دل میں درد ہوتا ہے۔

آواران سے سفر خان کی کزن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے بس ہمیں ہمارے پیارے لوٹا دیں ہمارے چاند ہمیں لوٹا دیں جن کیلئے ہم آئے دن ترستے رہتے ہیں لیکن ان کی کوئی خبر نہیں اور وہ وہاں کیسے جی رہے ہیں اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے۔

مہرگل مری کی ہمیشرہ نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہرگل مری کے جانے کی بعد ہمارے یہاں قیامت جیسا سما ہے لیکن انہیں اس بات کا علم بھی نہیں ہوگا کہ اس کے جانے کے بعد ہم کیسے جی رہے ہیں اور ہم پر کیا گزر رہی ہے مہر گل مری ایک سرکاری شعبے سے وابستہ آدمی ہے وہ ایسے کسی بھی جرم میں ملوث نہیں جنہیں اتنے عرصے تک لاپتہ رکھا جائے ریاست کو ہم پر رحم کھاتے ہوئے انہیں بازیاب کر دینا چاہیے ان کے بغیر ہماری زندگی قیامت جیسی گزر رہی ہے۔

لاپتہ رشید اور آصف کی بہن سائرہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ تم ہمارا محافظ ہو مگر تم ہمارا قاتل نکلے، اس ریاست نے ہماری بچپن، تعلیم خواب سب چھین لیے ہیں، جن بھائیوں کیلئے ہم توڑا غلط سوچ بھی نہیں سکتے آج انہیں زندانوں کی نظر کیا گیا ہے اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں کہ انہیں کیسے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے ریاست سے اپنی بھائیوں کی بازیابی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ اب کسی بھی لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں نشانہ نہیں بنایا جائے گا مگر ہر گزرتے دن کسی کی لاش آتی ہے جبکہ انہوں نے ہم سے ان کی بازیابی کیلئے تین مہینے کا وقت مانگا تھا۔

مظاہرین سے بات کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے رہنماء عبداللہ بلوچ نے بتایا کہ کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتا جو بلوچ عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے لیکن اس عوام نے آج بھی امیدیں نہیں چھوڑی ہیں اور ریاست سے انصاف کا متلاشی ہیں ریاست کوچاہیے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لاپتہ افراد کو رہا کریں۔

سعدیہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کی دنیا کی کوئی بھی قانون کسی بھی فورس کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ آپ اپنے شہریوں کا اس طرح قتل کریں مگر پاکستان میں بلوچ کے ساتھ ماورائے عدالت و آئین سب کچھ ہو رہا ہے۔

احتجاج کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست آئے دن ہماری لاشیں پھینک کر ہمیں واضح پیغام دے رہی ہے کہ وہ ہماری نسل کشی میں دن بدن اضافہ کرتی جائے گی جبکہ اس نسل کشی میں صرف فورسز نہیں بلکہ عدالت پارلیمنٹ حتی کہ صحافی بھی اپنا مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں، ایک صحافی فیک انکاؤنٹر کو اس طرح جواز فراہم کرتا ہے کہ بلوچستان میں فوج پر حملے ہوتے ہیں اس لیے فیک انکاؤنٹر میں لاپتہ افراد کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر طبقہ بلوچ نسل کشی میں شامل ہے اس لیے اب بلوچ قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس ظلم اور جبر کا سامنا کرتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف جدوجہد کریں گے جو ان کے اوپر ظلم کرتے ہیں یا خاموشی سے ایسے ہی مرتے رہیں گے۔