یوسف مستی خان ۔ محمد خان داؤد

121

یوسف مستی خان

محمد خان داؤد

دی بللوچستان پوسٹ

سیاست تھر میں پانی نہ ہونے سے موروں کے مر جانے اور جنگلی پھولوں کے مرجھانے کا نام نہیں۔
سیاست تھر میں معصوم بچوں کو دودھ اور خوراک نہ ملنے کا نام بھی نہیں۔
سیاست سندھ میں سیلاب اور پھر اس سیلاب کے نتیجے میں آنے والی امداد اور پھر وہ امداد منتخب نمائیندوں اور وڈیروں میں بٹ جانے کا بھی نام نہیں۔
سیاست سندھ میں پاگل کتوں سے سگ زدہ ہو کر بچوں کے مر جانے کا نام نہیں اور سیاست ان ماؤں کے انتظار کا نام بھی نہیں
جو اپنی میلی جھولی میں سگ زدہ بچے کو لیے ویکسین کا انتظار کرتی رہتی ہیں اور نہ ڈاکٹر آتا ہے اور نہ ویکسین!
پاگل کتا زندہ رہ جاتا ہے اور ماں کا بیٹا ماں کی جھولی میں ہی مر جاتا ہے
اور ماں اوپر آکاش میں خدا کو تلاشتی رہ جا تی ہے
سیاست یتیم بچیوں کے جیہز کے پیسے کھا جانے کا نا م نہیں
سیاست تو منھ کا نوالہ بھی دینے کا نام ہے
سیاست میں بیوہ عورتوں کے نام پر بہت سے شناختی کارڈ کی کاپیاں جمع کر کے سب کچھ کھا جانے کا نام نہیں
سیاست تو بیوہ عورتوں کے سروں پہ ہاتھ رکھنے کا نام ہے
سیاست معزور افرادوں کو دکھا کر ان کی ویل چئیر کے پیسے کھا جانے کا نام نہیں
سیاست تو ان معزور افرادوں کی بے ساکھی بن جانے کا نام ہے
سیاست کی زمیں میں داخل ہو کردلال بن جانے کا نام نہیں
سیا ست تو ایمان بچانے کا نام ہے
سیاست کی زمیں میں داخل ہو کر ماں جیسی زمیں بیچ کر امیر ہو جانے کا نام نہیں
سیاست میں داخل ہوکر ماں جیسی زمیں کی حُرمت کو قائم رکھنے کا نام ہے
سیاست ووٹ لینے اور ووٹ دینے کا نام نہیں
سیا ست تو اس یقین کا نام ہے کہ،،نیا سویرا اب دور نہیں!،،
سیاست گندی جھیل کا نام نہیں
سیاست تو اس نیل کنول کا نام ہے جو گندی سی جھیل میں بھی جھول رہا ہوتا ہے
سیاست ووٹوں پہ پیشاب کرنے کا نام نہیں
سیا ست تو ووٹ کے تقدس کو بچانے کا نام ہے
سیاست سب کچھ حاصل کرنے کا نام نہیں ہے
سیاست تو سب کچھ گنوانے کا نام ہے
سیاست دامن بچانے کا نام نہیں
سیاست تو جھولی پھیلانے کا نام ہے
سیاست!ووٹ،نعرے،تقاریر،جلسے،جلوس،کارنر میٹنگ کا نام نہیں
سیاست!آگہی،حقوق،علم،شعور،کا نام ہے
سیاست کوئلے کا کاروبار نہیں۔سیاست دغا بازی نہیں،سیاست دوکھا فریب نہیں،سیاست چال بازی بازی گری نہیں،سیا ست دونمبری چار نمبری نہیں۔سیاست تو ایمان،اور ایمان بچا کر حقوق کی بات کرنے کا نام ہے۔ایسے بہت سے سیاستدان ہیں جن کے منھ پر تاریخ نے کالک مل دی ہے۔پر کچھ ایسے بھی نام ہیں جب وہ نام لیے جا تے ہیں تو تاریخ کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔تاریخ شرم سار ہو تی ہے اور بہت دیر تک ان ناموں کو تکتی رہتی ہے۔ایسے سیاسی نام بہت کم ہیں پر ہیں ضرور اور ان ہی ناموں کی بدولت جب بھی کوئی وڈیرہ ایسی بے ہودہ بات کرتا ہے کہ وہ،،ووٹ پر پیشاب کرتا ہے!،،تو سیکڑوں پیشاب کے آلے عضوہ ِ تناسل اس وڈیرے کے منھ کی طرف ہو جا تے ہیں اور بہت سا پیشاب اس وڈیرے کے منھ پر بہتا رہتا ہے اور تاریخ کے ہاتھوں کی دسوں انگلیاں کھل جا تی ہیں اور اس سے جو نشان بنتا ہے وہ بھی اس وڈیرے کے منھ پر اک نیا ٹریڈ مارک بن جاتا ہے
پر تاریخ ایسا کیوں کرتی ہے؟
اس لیے کہ اس سیاسی کوئلے کے کاروبار میں بہت کم ہی صحیح پر ایسے بھی سیا سی کارکن ہیں جو سیا سی میدان میں ہیں پر ان کے ہاتھ کالے نہیں
وہ ایسے ہو تے ہیں کہ انہوں نے سیا ست سے کچھ نہیں لیا ہوتا
بلکہ وہ سیا ست کو اپنا سب کچھ دے چکے ہو تے ہیں
پھر تاریخ بھی سمجھ جاتی ہے کہ
سیاست سب کچھ لینے کا نام نہیں پر سیاست سب کچھ دینے کا نام بھی ہے
پھر جب ایسے نام سیاسی میدانوں میں پکا رے جا تے ہیں تو تاریخ کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور تاریخ شرم سار ہو تی ہے!
انہیں میں سے ایک نام یوسف مستی خان صاحب کا بھی تھا
سیاست کی تاریخ نے یوسف مستی خان کو بہت آزمایا پر یہ جو جوانی میں سُرخ پرچم لیے چلے تھے کل تک بھی ان کے ہاتھوں میں وہی سُرخ پرچم ہی تھا۔کیسی کیسی سیا سی تبدیلیاں آئیں۔سیاسی وفاداریاں کوڑیوں کے مول بکیں،کوئی اقتدار میں آیا کسی کے حصے میں کچھ اور آیا۔کوئی اسمبیلی میں جا بیٹھا کسی نے کوئی اور مسند سنبھالی۔کسی کے حصے میں کوئی سیا سی گدی آئی کسی کے حصے میں روحانی گدی۔
کوئی چور سے چوکیدار بن بیٹھا،کوئی چوکیدار سے چور!
سیاسی اتھل پتھل ہوئی۔سیا سی ایمان جانچے گئے۔جو کمزور پائے گئے وہ خرید لیے گئے،جو نہیں بکے انہیں ڈرا کر اک طرف کر دیا گیا۔پرانی پارٹیاں ختم ہوئیں،پرانے پرچم لپیٹ کر رکھ دیے گئے،پرانے سیا سی سلوگن کو گالی بنا یا گیا۔پرانے لیڈروں کو نیا جال دے کر نئی پارٹیاں بنائی گئیں۔نئے ترانے لکھے گئے،نئے سلوگن بنائے گئے،نئے پرچم سلوائے گئے اور لیڈر بھی نیا،پارٹی بھی نئی،وفاداری بھی نئی اور خلق بھی نہیں۔اور سیا سی میدان بھی نیا۔سب کچھ مٹ گیا،سب کچھ بک گیا،سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا گیا۔پر جو نہیں مٹا،جو نہیں بکا،جو نہیں ہٹا،جو منظر سے پسِ منظر میں نہیں گیا جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا پرچم نہیں چھوڑا،جس نے اپنا گیت نہیں چھوڑا وہ یوسف مستی خان تھا!
کیسے کیسے لوگ کہاں سے چلے اور کہاں پونچھے اور اب لگتا ہے یہ یہیں پر ختم ہو جائیں گے
پر یوسف مستی خان نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔وہ جانتا تھا کہ وہ سیا سی کلا بازی کھا کر کچھ حاصل تو کر سکتا ہے پر کل وہ تاریخ کو کیا منھ دکھائے گا؟
اور تاریخ میں بھی ہوں اور تاریخ تم بھی ہو!
آج یوسف مستی خان کا نام آجانے سے تاریخ کی نظریں جھک جا تی ہیں
وہ تاریخ میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
کل اگر یہ سیاسی سودی بازی کر لیتا تو تاریخ کی نظریں نہیں جھکتیں پر تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے،،سب ایک جیسے ہیں!،،پر آج تاریخ فکر سے کہتی ہے،،سب ایک جیسے نہیں ہیں!،،
آج جب سیا سی ویلوز تبدیل ہو گئے ہیں اور ٹی وی اینکر فواد چودھری سے یہ سوال کرتا ہے کہ
،،آپ مشرف کے ساتھ تھے،آپ بلاول کے ترجمان تھے اور آپ آج عمران خان کے ساتھ ہیں تو ہم کیسے یقین کر لیں کہ آپ کل بھی عمران خان کے ہی ساتھ ہونگے؟!،،
تو وہ جو وجواب دیتا ہے تو تاریخ اپنے ہونٹوں سے مستی خان کے گال کو چوم لیتی ہے
فواد چودھری جواباً کہتا ہے
،،آپ کو کون گدھا کہتا ہے کہ میں کل بھی عمران خان کے ساتھ ہونگا
جناب میں رئیلسٹ ہوں!،،
اور سیاست کی سسی یوسف خان مستی آج اس عمر میں بھی اپنے پنہوں جیسی عوام کے ساتھ کھڑا تھا
وہ رئیلسٹ نہیں
وہ تو سیاست کی سسی تھا
اور اسے اپنی پنہوں کی تلاش تھی
اور وہ پنہوں میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!
کیوں کہ وہ جانتا ہے
کہ،،صبح تھیندو!،،
اور اپنے عمل سے مستی خان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ
سیا ست سب کچھ حاصل کرنے کا نام نہیں
سیا ست سب کچھ گنوا دینے کا نام بھی ہے!
وہ یوسف خان مستی جا چکا ہے جو سیا ست کی بقا تھا
وہ یوسف خان مستی جا چکا جو سیا ست کی آبرو تھا
وہ یوسف خان مستی بیمار ہے جو سیا ست کا یقین ہے
وہ یوسف مستی خان جا چکا جو سیاست کا یوسف تھا
وہ یوسف مستی خان جا چکا جس کی زندگی تنہائی کے سو سال کے اس کردار جیسی گزری ہے جس نے کہا تھا کہ
’’بوڑھے دوست یاد رکھو’’اس نے جنرل سے کہا‘‘
یہ میں تمہیں گولی نہیں ما رر ہا یہ انقلاب ہے جو تمہیں گولی مار رہا ہے!‘‘
آئیں اس یوسف کے لیے سلام پیش کریں جو سیاست میں نیل کنول کی طرح جھولتا رہا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں