ہرنائی: مغوی اہلکار بازیاب نہیں ہوسکے، آپریشن جاری

589

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں پاکستان فوج کیجانب سے آپریشن جاری ہے۔ آپریشن لھوسٹ، زردآلو اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں کی جاری ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں فوجی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے بعد گذشتہ شام پھر  سے آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جس میں پیدل فوجی دستوں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔

چار روز قبل ہرنائی کے علاقے زردآلو کے مقام پر مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرتے ہوئے گاڑیوں کی تلاشی لی اورشناخت کے بعد دو افراد کو اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ مسلح افراد نے کوئلہ لیجانے والی چار ٹرکوں کے ٹائر بھی تباہ کیئے۔

مذکورہ واقعے کے بعد پاکستان فوج نے آپریشن کا آغاز کیا جہاں آپریشن میں حصہ لینے والے دو میں سے ایک ہیلی کاپٹر کو مسلح افراد نے مار گرایا۔

ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے نتیجے میں پاکستان فوج کے چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں پائلٹ میجر محمد منیب افضل، پائلٹ میجر خرم شہزاد، نائیک جلیل، صوبیدار عبدالواحد،سپاہی محمد عمران اور سپاہی شعیب سوار تھے۔

ہیلی کاپٹر گرنے کا حالیہ واقعہ ضلع ہرنائی میں پیش آیا ہے، جس کا شمار بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔

ہرنائی میں ماضی میں بلوچ آزادی پسندوں اور پاکستانی فورسز میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

دوماہ قبل جولائی میں زیارت اور ہرنائی کے پہاڑی سلسلوں سے فوج کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے وابستہ افسرلیفٹننٹ کرنل لیئق مرزا بیگ اور ان کے رشتہ دار کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

بعد ازاں ان کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیمبلوچ لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے قبولکی تھی۔

اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کے افسر لیفٹننٹ کرنل لیئق بیگ مرزا اور ان کے کزن کی ہلاکتمیں ملوث نو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان میں سے سات افراد کی شناخت پہلے سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے طورپر ہوئی تھی۔

مذکورہ جعلی مقابلے کے خلاف بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے 50 روز تک کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔

گزشتہ دنوں بلوچستان کی پولیس کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹرجنرل (ڈی آئی جی) نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مسلح تنظیموں کی جانب سے تخریبی کاروائی کا اندیشہ ہے جس میں سرکاری افسران کے اغوا کے ممکنہ واقعات ہوسکتے ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے اور سرکاری اہلکاروں کے گرفتاری کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ای میل کے ذریعے بیان میں یہ کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نےہرنائی کے علاقے زردآلو کے قریب کاروائی میں پاکستان کے دو سیکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لیا۔

ترجمان نے بتایا جس وقت ان دو سیکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا پاکستان کی فوج کا ہیلی کاپٹر وہاں پہنچ گیا۔ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے ہرنائی میں کھوسٹ کے قریب ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔