کوئٹہ سے نوجوان جبری لاپتہ

163

بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات تسلسل سے جاری ہے۔ گذشتہ دنوں جہاں مختلف علاقوں سے دو افراد بازیاب ہوئے وہی جبری گمشدگیوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

خضدار اور نوشکی کے بعد کوئٹہ سے ایک نوجوان کی جبری گمشدگی کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

ٹی بی پی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سبزل روڈ کلی بنگلزئی کے رہائشی نوجوان برکت ولد محمد عارف بنگلزئی کو 27 ستمبر 2022 کی رات ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا جس کے حوالے سے تاحال کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے گاڑیوں میں پہنچ کر علاقے کا گھیراوں کیا اور مذکورہ نوجوان کو اپنے ہمراہ لے گئے۔

خیال رہے گذشتہ دنوں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی یقین دہانی پر کوئٹہ کے ریڈ زون میں اپنا احتجاج موخر کردیا تھا جہاں مظاہرین کو کمیٹی نے یقین دہانی کرائی کہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے جبکہ مظاہرین کیجانب سے فراہم کردہ لاپتہ افراد کے فہرست پر عمل درآمد کرتے ہوئے لوگو کو بازیاب کیا جائے گا۔

مذکورہ فہرست میں سے تاحال ایک شخص کی بازیابی ممکن ہوئی ہے تاہم مزید اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔