کراچی چینیوں پر حملہ : نئی مسلح سندھی تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

1991

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آج دوپہر کو چینی باشندوں پہ ہونے والے حملے کی ذمہ داری نئی سندھی مسلح تنظیم سندھو دیش پیپلز آرمی نے قبول کرلی۔

یہ واقعہ بدھ کی دوپہر کو شہر کے تجارتی اور مصروف علاقے صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب واقعے پارسی ڈسپینسری کے قریب پیش آیا،نئی مسلح سندھی تنظیم سندھو دیش پیپلز آرمی کے ترجمان سوریھ سندھی نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان کے سرفروشوں نے کراچی کے معروف و مصروف علاقے صدر میں واقع چینی اہلکاروں کے ایک کلینک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک و تین زخمی ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری ہماری تنظیم سندھو دیش پیپلز آرمی قبول کرتی ہے اور چائنا حکومت کو ہم سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ سندھو دیش میں قابض پاکستان کی معاونت سے گریز کریں اور اپنے استحصالی منصوبوں کو فوری طور پر ہمارے وطن میں بند کریں بصورت دیگر ہمارے حملے آگے چل کر مزید شدید نوعیت کے ہونگے۔

پولیس نے برطانوی نشریاتی ادارہ کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ بتایا کہ ایک شخص ڈینٹل کلینک میں آکر بیٹھ گیا اور بیس منٹ تک اپنی باری کے انتظار میں بیٹھا رہا جیسے ہی اس کی باری آئی تو اس نے عملے پر فائرنگ کر دی، جس میں ایک ملازم ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے کی شناخت رونالڈ رائمنڈ چاؤ کے نام سے ہوئی ہے جس کی پاکستان کی قومی شناختی کارڈ بھی موجود تھا، ایس ایس پی کے مطابق وہ پاکستانی نژاد چینی شہری تھا جس کو سر میں گولی لگی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فون پر اپنے ساتھی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا، اس نے کسی بھی مقامی پاکستانی شہری کو نقصان نہیں پہنچایا حملے کے بعد فرار ہوگیا،