وی بی ایم پی کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4672 دن ہوگئے

64

وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4672 دن ہوگئے، حسن مینگل ایڈوکیٹ، رضا ایڈووکیٹ سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کرکے اظہار یکجہتی کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہماری تنظیم بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم اور بربریت، بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں پہ بارہا ملکی اور عالمی سطح پہ آواز بلند کرتا آرہا ہے، یو این اور متعلقہ اداروں کے ذیلی فورمز پہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ لکھ چکے ہیں لیکن ریاستی دہشت گردی کے روک تھام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے –

انہوں نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور جبری گمشدگیوں پہ قائم کردہ اسکے کمیٹی ملکی اداروں کو شامل تفتیش یا فریق نہیں بنائیں گے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔”ملکی ادارے ملوث نہیں ہے” والا بیانیہ وفاقی اداروں ریاستی غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے، ہمارے پاس جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ایسے متعدد ٹھوس ثبوت آن دی ریکارڈ موجود ہیں جہاں پاکستانی آرمی اور خفیہ ادارے لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ وفاقی سطح پر بھی ایسے متعدد کیسز آن دی ریکارڈ ہیں کہ کورٹس نے اداروں سے لوگوں کی بازیابی کے احکامات جاری کیے ہیں –

انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں پہ ملک کے مقتدرہ اداروں اور انکے سربراہان کو لاپتہ افراد کے لواحقین اور عدالت عالیہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔