نئی سرد جنگ اور بلوچ انسرجنسی ۔ کمبر بلوچ

807

نئی سرد جنگ اور بلوچ انسرجنسی

تحریر: کمبر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ کے خاتمے کا نظریہ اور یونی پولر دنیا کا ختم ہونا فطری بات ہے لیکن اتنی جلدی دنیا پر امریکی اجارہ داری ختم ہوگا، علاقائی طاقتیں سر اٹھائیں گے اور چین اقتصادی طاقت بن کر امریکہ اور مغربی ممالک کو آنکھیں دکھائے گا کسی کے گُمان میں نہیں تھا لیکن دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل چکے ہیں۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے صرف تیس سال بعد ہی روس نے امریکہ اور مغربی ممالک سے دشمنی مول لے کر یوکرین پر جنگ مسلط کر کے دنیا کو پھر سے پرانے ڈگر پر گامزن کر کے تسلط کی جنگ شروع کر دی ہے۔

روس اور یوکرائن تنازعہ نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور ایک بار پھر دنیا میں سرد جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف روس ( چین اور ایران سمیت دنیا کے بہت سے ملک روس کےاتحادی ہیں لیکن کھل کر اظہار نہیں کررہے ) اور دوسری جانب سرد جنگ کی طرح آج بھی امریکی سربراہی میں یورپ، برطانیہ, کینیڈا، جنوبی کوریا اور جاپان متحد ہیں۔

نیٹو کی روس کے سرحدوں تک توسیع سے واضح تھا کہ روس سخت ردعمل کا اظہار کرے گا۔ 1989/90 میں روس کو مغربی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نیٹو مشرق کی طرف ایک انچ بھی نہیں بڑھے گا اور گورباچوف نے اس یقین دہانی کے بعد مشرقی یورپ سے سوویت فوجیوں کو واپس بلا لیا لیکن مغربی قیادت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ جارجیا پر حملہ، کریمیا پر قبضہ اور ڈونباس کے علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی کمک جارجیا اور یوکرین کو نیٹو سے دور رکھنے کے لئے اقدامات تھے اور یوکرین پر حملہ اس بات کا اظہار ہے کہ روس اب نیٹو کی مزید توسیع کو خاموشی سے برداشت نہیں کریگا۔ تیس ملکی فوجی اتحاد نیٹو اور روس کی یوکرین میں بالواسطہ جنگ چل رہی ہے، روس یوکرین تنازعہ وقت کے ساتھ ختم ہوسکتا ہے لیکن روس اور مغربی ممالک کے درمیان تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہے گا۔

سرد جنگ کے دوران حالات مختلف تھے، سوویت یونین کمیونسٹ نظریہ کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں کی مدد کررہا تھا اور اِن ممالک کی سوویت یونین سے وابستگی کمیونزم کے نظریاتی بنیاد پر تھی اور امریکی اتحاد میں شامل ملک سرمایہ داری کے جھنڈا بردار تھے جو سوویت یونین کے خاتمے کے لئے متحد تھے اور اسی دور میں سوویت یونین کی توسیع کو روکنے کے لیے نیٹو اتحاد کی بنیاد رکھی گئی۔

آج دنیا مختلف ہے، نظریاتی سیاست کے خاتمے کے بعد دنیا میں غلبے کی جنگ چل رہی ہے اور دونوں طرف سرمایہ دار ممالک ہیں۔ دنیا میں کئی علاقائی طاقتیں موجود ہیں جو اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں اور کسی بھی قوت کے تابع ہونے کے بجائے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جس نے دنیا کے سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ سویڈن اور فن لینڈ جو سرد جنگ کے دوران غیر جانبدار رہے انہوں نے بھی روس پر معاشی پابندیاں لگائے اور اپنی غیر جانبدار پالیسی ختم کرکے نیٹو میں شامل ہورہے ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کو دنیا میں تنہا کرنے اور تیل کی تجارت میں اس کے کردار کو محدود کرکے اسے معاشی طور پر دیوالیہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے کیونکہ چین، بھارت ، ترکی، برازیل، سعودی عربیہ اور جنوبی افریقہ جیسے اہم ممالک نے اپنے اقتصادی اور جیو پولیٹیکل مفادات کے خاطر اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹنگ سے غیر حاضر رہ کر روس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور اقتصادی پابندیاں لگانے سے انکار کردیا۔ روس توانائی کو مغرب کے خلاف ہتھیار کے طور استعمال کررہا ہے جس نے یورپ سمیت کئی ممالک کو شدید اقتصادی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے روس کی معیشت کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی ہے۔

آج کی دنیا میں ملکوں کا ایک دوسرے پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے، جنگوں میں ایک ملک کے متاثر ہونے سے کئی ممالک اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے متاثر ہوں گے، اسی طرح روس یوکرین تنازعہ سے ہمارا خطہ اور بلوچستان ضرور متاثر ہوگا۔

بلوچستان کے قرب و جوار جتنے ممالک ہیں اُن کی قربت روس کے ساتھ ہے۔ افغانستان میں امریکی شکست( یا افغانستان اور ساوتھ ایشیاء میں نئی پالیسی کی بنیاد پر انخلا ) اور طالبان حکومت آنے کے بعد خطے میں امریکی اثر و نفوذ میں کم ہوا ہے ۔پاکستان مغرب کا دیرینہ اتحادی ہے، چین کے ساتھ اقتصادی قربت کے باوجود پاکستانی فوج کے مفادات مغربی ممالک سے وابستہ ہیں اور اس ملک میں فیصلہ ساز قوت فوج ہے، اس بنیاد پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہیکہ پاکستان مغرب مخالف قوتوں کے بجائے مغرب و اس کے علاقائی اتحادیوں کا ساتھ دے گا۔ہمارے خطے میں اس وقت بلوچ انسرجنسی اہم مرحلہ سے گزر رہا ہے ، بلوچ مسلح قوتیں متحد ہیں اور سیاسی قوتیں اتحاد کے لئے گفت شنید کرہے ہیں ۔ مسلح قوتیں ایک قدم آگے بڑ کر چین کے مفادات پر براراست حملے کررہے ہیں۔ مجید برگیڈ کے فدائین نے چینی قونصل خانہ، مختلف منصوبوں اور اقتصادی مفادات سے وابستہ انجینئرز پر حملے کررہے ہیں۔

روس یوکرین تنازعہ بلوچستان پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوگا ( پاکستان تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان پر اقتصادی دباؤ بڑھے گا) لیکن مغرب روس تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہے گا جس کے اثرات ہمارے خطے اور بلوچ انسرجنسی پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ روس کا اتحادی چین بلوچستان میں براہ راست ملوث ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ روس پر اقتصادی پابندیوں کے بعد چین پر اس کا انحصار بڑھ گیا ہے اور روس تائیوان کے معاملے میں کھل کر چین کی حمایت کر رہا ہے۔

بلوچستان کی شورش سے متاثر ہونے والے سینکڑوں افراد نے مغربی ممالک میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔ وہ ان ممالک میں بلوچستان میں بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بیشتر تنظیمیں مغربی ممالک میں ہیں جو بلوچ نسل کشی کو روکنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ بلوچستان اور خطے میں چین کے عزائم مغربی ممالک کے مفادات کے خلاف ہیں، اس لئے یہ سوچ وجود رکھتا ہیکہ مغربی ممالک چین کے خلاف بلوچ قوم کی مدد کر سکتے ہیں ۔

دوسری جانب بلوچوں کے ہمسایہ ممالک چین اور روس کے قریب ہیں اور روسی پالیسیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

ان ممالک میں ہزاروں بلوچ خاندان مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور بلوچ انسرجنسی کو کہیں سے بھی لاجسٹک سپورٹ مل سکتا ہے تو اس کا ذریعہ یہی ممالک ہیں ۔ اب تک ان ممالک نے چین سے قربت کے باوجود بلوچ انسرجنسی یا بلوچ جہدکاروں کے خلاف اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں یہ ممالک اپنے مفادات کے لئے ایسا کوئی قدم اٹھائیں۔ موجودہ صورتحال بلوچ انسرجنسی کیلئے سازگار ہیں۔

بلوچستان کی سرحدیں مشرق وسطیٰ سے ملتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور عرب ممالک نے ایران کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے جو کسی بھی وقت تصادم کا باعث بن سکتا ہے اور اسرائیل کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ایران کے خلاف ان کی نئی صف بندی شدت کے ساتھ پاکستان اور بلوچستان کو متاثر کریں گے۔ پاکستان کی قربت اِن عرب ممالک سے ہے اور اقتصادی اعتبار سے اُن پر انحصار کرتا ہے۔ بغضِ معاویہ میں بلوچوں کو مدد مل سکتا ہے اور خطے کے حالات بھی بلوچ قومی تحریک کے لیے موافق ہیں لیکن تحریک سے وابستہ تنظیمیں اور پارٹیاں اندرونی تنازعات اور متفقہ پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

بلوچ انسرجنسی پر افغانستان جنگ کے اثرات ہر دور میں پڑے ہیں ، لاکھوں جنگ زدہ افغانوں نے بلوچستان میں پناہ لی ہے اور جنگ زدہ بلوچ افغان سرزمین پناہ لینےگئے۔ افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کے لیے بلوچستان کو ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن خطے کی کسی اور ملک کے مسائل کا کبھی بلوچ انسرجنسی پر خاص اثر نہیں پڑا۔ روس یوکرین تنازعہ کے بعد دنیا کے ممالک اور ہمارے خطے میں جو نئی صف بندیاں ہورہی ہیں مستقبل میں اُس کے اثرات براہ راست بلوچ انسرجنسی پر پڑیں گے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں