مہسا امینی موت، ایران بھر میں مظاہرے و جھڑپیں

167

ایران میں پولیس حراست کے دوران ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت پر ملک بھر میں مسلسل چوتھے روز بھی مظاہرے جاری ہیں اس دوران بد امنی کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک بھی ہوگئے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے کئی شہروں میں ‘چھوٹے پیمانے پر نکالی گئی ریلیوں’ کی اطلاع دی جس میں مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے، پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایران بھر کے صوبوں میں مظاہرے دیکھے گئے جس میں کئی ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو اب تک بدامنی سے متاثر نہیں تھے، تاہم رائٹرز ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

کرد انسانی حقوق کے گروپ ہینگاو نے رپورٹ کیا کہ پیر کو 13 شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور 250 افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم رائٹرز ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

سب سے زیادہ کشیدہ صورتحال کردستان کے علاقے میں دیکھنے میں آئی جہاں سرکاری عہدیداروں اور رضاکاروں کی ویب سائٹس نے کم از کم 3 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی۔

کرد انسانی حقوق کے گروپ ہینگاو نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 3 افراد سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔

مہسا امینی کی موت اخلاقی پولیس کی حراست میں کوما میں جانے کے بعد ہوئی، یہ پولیس ایران میں سخت قوانین نافذ کرتی ہیں جن کے تحت خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوامی مقامات پر ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا لازم ہوتا ہے۔

مہسا امینی کے والد نے بتایا کہ انہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم پولیس حراست کے دوران ان کی ٹانگوں پر زخم آئے، انہوں نے پولیس کو اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کی موت کے بعد کردستان میں شروع ہونے والے مظاہرے پیر اور منگل کو شمال مغربی ایران کے دیگر صوبوں تک بھی پھیل گئے۔

بظاہر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک معاون نے مہسا امینی کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای ان کی موت سے متاثر اور دکھ میں ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے عبدالرضا پورزہابی نے ایرانی صوبے کردستان میں مہسا امینی کے آبائی گھر کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘تمام ادارے ان حقوق کے دفاع کے لیے کارروائی کریں گے جن کی خلاف ورزی کی گئی’۔