محکوم اقوام کو پاکستان سے آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ ڈاکٹرنسیم بلوچ

157

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹرنسیم بلوچ نے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پی ٹی ایم یورپ کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔

انھوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا محکوم اقوام کو تقسیم کرنے والی خودساختہ سرحدی لکیروں کو مٹانے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔جس طرح ہمارے درد مشترک ہیں ہماری منزل کو بھی مشترک ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا محکوم اقوام کو ریاست پاکستان کے خلاف واضح موقف کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے جس طرح کہ بلوچ نیشنل موومنٹ پاکستان سے بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان محکوم اقوام کو مختلف طریقے سے ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہا ہے۔پشتون ، بلوچ اور سندھیوں کی طاقت کو تقسیم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن جیسی لکیریں کھینچ کر ہمیں تقسیم کیا گیا۔ان سازشوں کے خلاف ہم سب نے جدوجہد کی اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں ان زنجیروں اور ان خود ساختہ لکیروں کو مٹانے کے لیے مسلسل جدوجہد، اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔

’ہم ایک ایسی ریاست سے مدمقابل ہیں جو دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ ایک بدتہذیب ریاست جو ہمیں انسان نہیں سمجھتی اس کے خلاف اپنی جدوجہد میں کامیابی حاصل کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ ان کے زیرقبضہ ہماری ثقافت ، زبان اور تہذیبیں خطرے سے دوچار ہیں۔‘

انھوں نے کہا ریاست پاکستان کے ادارے ہمارے سیکولر اور روادارانہ معاشرے میں مذہبی انتہاء پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔

ڈاکٹرنسیم بلوچ نے اپنی تقریر میں محکوم اقوام کے درمیان واضح موقف کے ساتھ اتحاد اور اشتراک عمل پر زور دیتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں مشترکہ دشمن کے خلاف محکوم اقوام کی منزل بھی مشترک ہونی چاہیے۔

انھوں نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے ’قومی آزادی کی جدوجہد ‘ کے موقف پر تمام محکوم اقوام کو اکھٹے ہوکر جدوجہد کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بی این ایم کا موقف پاکستان سے بلوچ قوم کی آزادی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس مقصد کے لیے اکھٹے ہوکر جدوجہد کریں۔