شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ریلی نکالی جائے گی ۔ سیما بلوچ

63

جبری گمشدگی کے شکار بلوچ طالب علم رہنماء شبیر بلوچ کی ہمشیرہ نے کہا ہے کہ انکے بھائی کو 4 اکتوبر 2016 کو تربت کے علاقے گورکوپ سے انکی اہلیہ زرینہ بلوچ کی موجودگی میں انکی آنکھوں کے سامنے دیگر 20 افراد کے ساتھ پاکستانی فورسز نے غیر قانونی حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا، بعدازاں دیگر افراد رہا ہوئے لیکن چھ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد شبیر بلوچ تاحال جبری لاپتہ ہیں اور انکے خاندان کو انکی کوئی خیر خبر نہیں ملی ہے –

شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ اور لواحقین نے شبیر بلوچ کی چھ سالہ طویل جبری گمشدگی کے خلاف اور بازیابی کیلئے 4 اکتوبر 2022 کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، احتجاجی ریلی شام تین بجے لسبیلہ پریس کلب کے سامنے سے نکل کر حب کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے واپس لسبیلہ پریس کلب کے سامنے آکر پرامن احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرے گی –

سیما بلوچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کی بازیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے، جہاں کہیں ہمیں کوئی بھی امید نظر آئی ہم نے وہ در کھٹکھٹایا اور فریاد کی، 2018 کو وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے ہمیں یقین دہانی کی اسکے بعد گزشتہ سال اسلام آباد میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تو انہوں نے بھی شبیر بلوچ کی بازیابی کا وعدہ کیا، گزشتہ مہینے پچاس دن ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے پر وفاقی کمیٹی نے ہمارے لاپتہ پیارے لوگوں کی بازیابی کی یقین دہانی کی لیکن شبیر بلوچ اب تک بازیاب نہیں ہوسکے –

شبیر بلوچ کے لواحقین نے حب کے تمام انسان دوست، ہر مکتبہ فکر کے غیور اور باشعور عوام سے چار اکتوبر کے احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے، اور مزید اپیل کی ہے کہ اس دن سوشل میڈیا پہ بھی شبیر بلوچ کی بازیابی کیلئے #SaveShabirBaloch ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک کمپیئن شام چھ بجے سے رات بارہ بجے تک چلائی جائے گی، اس میں شریک ہوکر ہماری آواز بنیں –