سِنگ لرزاں ایک ادھورا سچ ۔ آصف بلوچ

167

سِنگ لرزاں ایک ادھورا سچ

تحریر: آصف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

عبد الرحیم ظفر کی لکھے گئے آرٹیکلز کا مجموعہ سنگ لرزاں پڑھا جس میں فاضل مصنف نے تاریخ کے ساتھ زنا بالجبر کرنے اور مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور سیاسی، فکری مغالطہ، مبالغہ آرائی و مکمل جانبداری کا مظاہرہ کرکے بی ایس او کی تاریخ کو جہاں جھٹلانے اور اپنی ذہنی اختراع کو تاریخ سے منسوب کرنے کی ناکام کوشش بھی کرتا رہا ہے اور ساتھ ساتھ بلوچ قومی تحریک کے ساتھ تاریخی ناانصافی اور بلوچ قومی زعماء سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری کی سیاسی و قومی کردار پر سنگ باری و ہر ممکن سوالیہ نشان لگانے کی سعی کرتے رہے ہیں اور ان زعماء کے ساتھ اپنی سیاسی و ذاتی تفاوت کو قومی رنگ میں ڈھالنا چاہا ہے لیکن تاریخ کسی فرد کا محتاج نہیں اور نہ ہی ایک فرد اپنے اختلافات کی بنیاد پر تاریخ کو موڑ سکتا ہے۔

بی ایس او کی تقسیم کے حوالے سے جہاں انہوں نے میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل کو زمہ دار ٹہرانے اور نواب خیر بخش مری کی خاموشی و عدم دلچسپی کو بنیاد بنائی ہے اور وہاں انہوں نے خود تاریخ سے پردہ اٹھا کر اس سازش کو چاک بھی کیا ہے کہ انہیں کیوں بی ایس او سے سائیڈ لائن کیا گیا، آج 60 سال بعد عبدالرحیم ظفر کی یہ ادھورا اور جانبدارانہ خود نوشت پڑھ کر کوئی بھی سیاسی کارکن اور تاریخ کا طالب علم بہ آسانی یہ اخذ کرسکتا ہے کہ امان اللہ گچکی، صابر بلوچ اور عبدالرحیم ظفر پر مشتمل یہ گروہ بی ایس او کو ذوالفقار علی بھٹو اور پی پی پی کی گود میں ڈالنے کے لئے کوشاں رہے اور ناکامی کی صورتحال میں انہوں نے بی ایس او کی تقسیم کا ملبہ سرداروں پر گرانے اور اینٹی سردار سلوگن کے ذریعے ذوالفقار بھٹو اور ریاست کی بیانیہ کو آگے بڑھانے اور بلوچستان کی سیاست میں پی پی پی کے لئے راہ ہموار کرنے اور سیاسی اسپیس بنانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں، جب وہ بی ایس او پر قبضہ اور اپنی مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے تو انہوں نے ایک ایک کرکے پی پی پی میں جاکر شامل ہوگئے۔

امان اللہ گچکی ایک انتہائی مشکوک کردار کے مالک ہے، اُن کی پوری زندگی اور سیاسی کردار بلوچ قومی تحریک دشمنی پر مبنی رہا ہے اور اب بھی وہ قومی جدوجہد کے خلاف ریاستی بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، اس پوری قبیل کا جائزہ لیا جائے امان اللہ گچکی، صابر بلوچ، رحیم ظفر، کہور خان یہ سارے بلوچ قومی تحریک اور سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری مخالف سیاسی فضاء بنانے کی انعام میں نوکریوں اور مختلف سرکاری اعزازات حاصل کرچکے ہیں، بلوچستان میں بلوچ نیشنلزم کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ذوالفقار بھٹو نے اینٹی سردار سلوگن کو متعارف کرایا اور اس سلوگن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے انہی لوگوں کی خدمات حاصل کئے اور یہ ازل سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔ امان اللہ گچکی کو خضدار جھالاوان اس لئے لاکر آباد کیا گیا کہ جھالاوان میں ریاست کو مقامی مخبر نہیں مل رہے تھے تو ریاست نے غیر مقامی افراد کو نوشکی اور مکران سے جھالاوان لاکر مخبری کے لئے آباد کی تھی، جبکہ عبدالرحیم ظفر، امان گچکی، صابر بلوچ اپنی خدمات کا صلہ بھٹو سے حاصل کرچکے ہیں۔

لکھاری نے 1973 میں بلوچستان کے منتخب جمہوری و قومی حکومت کے خاتمے، بھٹو کی جارحانہ و سفاکانہ عمل کو کیموفلاج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قبائلی و جاگیر دارانہ ذہنیت نے ایک بار پھر بلوچستان کو آگ اور خون میں نہلا دیا، یہاں وہ بھٹو اور فوج کی بلوچستان میں مداخلت، جمہوری حکومت کو ناکام کرنے کے حربوں اور سازشوں پر پردہ پوشی کرکے متکبر بھٹو اور سفاک فوج کو مظلوم، بلوچ قیادت کو ظالم، قبائلی و جاگیر دار ثابت کرنے، بلوچستان میں قتل عام کے لئے تہران و اسلام آباد گٹھ جوڑ، مری و مینگل علاقوں میں جارحیت، بمباری، سیاسی کارکنوں پر قلی کیمپوں میں بدترین تشدد، سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے، ہیلی کاپٹروں سے نوجوانوں کو پھینکنے، اسد مینگل، احمد شاہ اور دلیپ سمیت دیگر سیاسی کارکنوں کو غائب کرنے، بلوچ و پشتون سیاسی قیادت کو حیدر آباد سازش کیس میں مقید رکھنے جیسے غیر انسانی، غیر جمہوری اقدامات کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے بھٹو کی مراعات کا مکمل حق ادا کیا ہے۔

لکھاری کی اگر اس استدلال کو دُرست مانا جائے کہ قبائلی و جاگیر دارانہ ذہنیت نے بلوچستان کو آگ و خون میں نہلایا دیا پھر اس استدلال کے مطابق جنرل مشرف کی جارحیت، نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت پھر کیا قبائلی انا پرستی اور ضد کا نتیجہ تھا؟

فہم و فراست سے عاری نام نہاد دانشوروں اور کچھ سیاسی افراد کو ریاستی پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لئے ہمیشہ معمور کیا جاتا رہا ہے، ریاست بلوچ نیشنلزم اور قومی تحریک کو دہشت گردی اور قبائلی انانیت سے جوڑنے کے لئے یہ مفروضہ قائم کرلیتی ہے، بلوچ قومی تحریک قبائلی و جاگیر دارانہ ذہنیت اور آنا پرستی کا پیدا کردہ ہوتی تو نواب نوروز خان زہری، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطاء اللہ مینگل کی رحلت کے بعد بلوچ سیاسی و مزاحمتی تحریک دم توڑ دیتی لیکن اس کے برعکس موجودہ مزاحمتی عمل بلوچستان بھر میں شعوری بنیادوں پر پھیل چکا ہے، غیر قبائلی مکران مزاحمت کا سب سے مضبوط قلعہ بن چکا ہے اور قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہیں، یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مکران سمیت بلوچستان نے مفاد پرستی کی سیاست کو مسترد کرچکا ہے اور یار لوگوں کو سمجھ میں یہ بات آئی ہوگی کہ بلوچ تحریک اُس سنگ لرزاں کے گنبد کی طرح جھول کر اپنی مزاحمتی سوچ پر آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔

لکھاری کے مطابق بلوچ قیادت اور قومی سردار، سابقہ ایم این اے عبدالباقی بلوچ، عبدالرحیم ظفر، امان اللہ گچکی، سمیت جام، جمالی، مگسی، زہری خاندانوں کی طرح آمرانہ حکومتوں اور بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل ایوب، جنرل ضیاء و جنرل مشرف کی بیساکھیوں کے سہارے سرکاری نوکریوں اور حکومتوں کا حصہ بن کر بلوچستان میں ان کی جارحانہ، حاکمانہ اور قبضہ گیریت کو جائز قرار دیتے، بلوچستان میں فوج کشی، نسل کشی، وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کو بلوچوں کی آنا پرستی، قبائلی ضد اور جہالت کا نتیجہ قرار دے کر اپنی سیاسی موقع پرستی، مفاد پرستی و ناکامیوں، نالائقیوں، مکارانہ ذہنیت کا ملبہ بھی بلوچ قوم و تحریک پر ڈالتے تو کیا وہ پھر کامیاب لیڈر اور سیاستدان قرار پاتے؟

آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ بی ایس او (آزاد) والوں کا وہی موقف ہے جو ہم نے 69-1968 میں بی ایس او (اینٹی سردار) سے شروع کی تھی کہ سیاست اور قبائلی انا پرستی میں فرق ہونا چاہیے جو سراسر لغو ہے (آزاد) نام نہاد اینٹی سردار سلوگن و قبائلی بنیادوں پر قومی تقسیم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، 69-1968 کی بی ایس او (اینٹی سردار) کا اگر موازنہ موجودہ بی ایس او (ظریف) اور بچار سے کی جائے بے جاء نہیں ہوگی، کیونکہ بی ایس او (آزاد) قبائلی تقسیم کے بجائے بلوچ نیشنلزم کی بنیادی و سیاسی اساس پر کار بند ہوتے ہوئے تمام پرتوں کو یکجاء کرنے پر یقین رکھتی ہے اور موجودہ تحریک کی اونر شب بھی قبول کرچکی ہے، اس پاداش میں اپنی سینئر قیادت اور کارکنوں کی شہادتیں، جبری گمشدگیاں، عقوبت خانوں میں اذیتیں سہنے سے لیکر مسخ شدہ لاشیں وصول کرچکی ہے، اس کے باجود قیادت سے لیکر کارکنوں تک کسی نے کسی ذوالفقار بھٹو کی ہاتھوں بعیت کرکے بلوچ قومی تحریک کو قبائلی آنا پرستی اور قبائلی و جاگیر دانہ ذہنیت سے نتھی نہیں کی ہے کیونکہ بلوچ تحریک سے وابستہ تین سرداروں کی انا اور قبائلی ذہنیت مسئلہ نہیں بلکہ 73 سرکاری سرداروں کی بلوچ قومی مسئلے سے روگردانی نوآبادیاتی بدبودار نظام کو کندھا دے کر برقرار رکھنا قومی جرم کے مترداف انتہائی بے شرمانہ عمل ہے۔ بی ایس او ( آزاد) بلوچستان پر فوجی قبضہ، جبری الحاق کو قومی غلامی تصور کرتی ہے اس رو سے بلوچستان کا مسئلہ طبقاتی نہیں جبری قبضہ و غلامی ہے۔ بی ایس او (آزاد) کے برعکس نام نہاد اینٹی سردار گروپ نے بلوچ نسل کشی اور بھٹو کی سول آمریت کے خلاف انا الحق بلند کرنے کے بجائے وفاقی سیاست اور بھٹو کی مراعات کو قبول کرکے سر بسجود ہوگئی تھی۔
دانشور زندگی کے محض تجربات پر انحصار نہیں کرتا باقاعدہ تحقیق اور ریسرچ سے کام لیتا ہے، سیاسی تفاوت و انا پرستی کی بنیاد پر تحریکوں اور قومی شخصیات پر قبائلیت کا مہر ثبت کرکے ان کی قومی، فکری و عملی سیاسی کردار سے انکار دانشورانہ بدنیتی، سیاسی تنگ نظری اور علمی کج بحثی کے ذمرے میں آتی ہے اور ہمارے یہ مخصوص دانشور طبقہ ہمیشہ کج بحثی اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی تحریک کا ایک غلط تصویر بلوچ قوم اور خصوصا نوجوان نسل کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔

ایڈورڈ سعید کے مطابق دانشور کی سرگرمی کا بنیادی مقصد انسانی آزادی اور علم کی ترقی ہے اور یہ عمل و مقصد کسی جانبدار دانش ور کے مقصد سے متصادم ہے اور کوئی دانشور اپنی اعلی ذہنی صلاحیتوں کا معاوضہ وصول کرتا ہے، سوال یہ ہے ایک حقیقی دانشور کسی ادارے سے وابستگی کا کیا مطلب لیتا ہے؟ کیا وہ تنخواہ لینے کے عوض اپنے ضمیر کی آواز فروخت کرتا ہے، یا محض مہارت؟ ایک بات بلکل واضح ہے کہ دانشور کی ذہنی دنیا اتنی محدود نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی بھی ادارے یا تنظیم کے مقاصد کے دائرے میں سما جائے۔

ہم اس کے برعکس اپنے سماج میں دیکھتے ہیں کہ دانشور اپنی ذہنی صلاحیتوں اور ضمیر کی آواز کو کسی سرکاری ملازمت اور کسی تنظیم کے ہی دائرے میں سما کر اپنی ذہنی و فکری استعداد محدود کرتا ہے اور اپنی ضروریات کے مطابق اپنی ذہنی صلاحیتوں کا معاوضہ وصول کرتا ہے اس کا عملی مظاہرہ رازق بگٹی کی صورت میں بھی ہمارے سامنے ہیں۔
اس طرح رحیم ظفر کی تحریریں پڑھ کر کوئی بھی ذی شعور سیاسی کارکن یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذہنی مفروضات کو تاریخ میں ڈھالنے اور تاریخ کو بے رحمی اور چالاکی سے مسخ کرنے کی پھر پور کوشش کی ہے اب وہ اس میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا تعین بھی تاریخ خود کرے گی کیونکہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے کسی کی سیاسی غلاظتوں اور دوغلا پن کو کبھی بھی اپنی کوکھ میں نہیں چھپاتی ہیں، ایسے ایک شخص کے سیاسی کردار، نام نہاد تاریخ نویسی اور الزامات کو کہاں تک لوگ مستند سمجھتے ہیں جو خود مفاداتی بھول بھلیوں میں کھو جائے اس کے علاؤہ بلوچ سماج خصوصاً قومی تحریک نے ایسے کرداروں کو سیاسی و نظریاتی کرپشن میں ملوث ہونے پر بے نام نشان کردیا ہے، ایسے تمام کردار جو مرے ہیں یا زندہ ہے بلوچ قوم نے اُن سے قطع تعلق کردیا ہے اور وہ تاریخ کے پنوں پر ہمیشہ مردہ حالات میں ہی ملیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں