دہشت گردی کا خوف: سوات اور کرم میں امن ریلیاں

92

خیبر پختونخوا کی وادی سوات اور قبائلی اضلاع سمیت مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے منظر عام پر آنے اور کالعدم تنظیم کیسرگرمیاں شروع ہونے کے خلاف امن ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ اور افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلعے کرم کے شہر سدہ میں اتوار کو ہزاروں افراد نے ہاتھوں میںسفید پرچم لیے امن کے حق میں اور دہشت گردوں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد جمیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ضلعے کے سب سے بڑے شہر سدہ کے ساتینچوک میں ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نےکاروانِ امننامی مارچ میں شرکت کی۔ یہ مارچ ساتین سدہ بائی پاس سے ہوتےہوئے سدہ شہر پہنچے ۔

ان کے مطابق امن مارچ میں بچے، بوڑھے اور جوان سب ہی شامل تھے، جن کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ تھے جن پر امن کے حقمیں نعرے درج تھے۔

یہ علاقہ مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہوسکتا

مینگورہ سے تعلق رکھنے والے صحافی عیسی خان خیل نے بتایا کہ سول سوسائٹی کی انجمنوں سے منسلک افراد اور سوات قومیجرگے کے اپیل پرامن ریلیمیں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقےسے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

محمد جمیل نے بتایا کہ مظاہرین جب سدہ چوک پہنچے تو مارچ نے جلسے کی شکل اختیار کرلی، جس سے مقررین نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ وہ ضلع کرم میں امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ یہ علاقہ مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

مقررین کے مطابق اس سے قبل بھی دہشت گردی کی لہر میں یہاں کے لوگوں نے بہت جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ ابھی تک وہ زخمبھرے نہیں ہیں کہ اب ایک بار پھر دن بدن خوف کے سائے بڑھتے جارہے ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں صورتِ حال پر فوری کارروائی کریں جبکہ عوام کو یقین دہانی کرائی جائے کہ ضلع کرم میں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں ہوگی اور ان کے جان و مال محفوظ رہیں گے۔

کرم امن مارچ میں دونوں مکاتب فکر کے لوگ شامل

افغانستان کے تین مختلف سرحدی صوبوں سے ملحقہ قبائلی ضلع کرم گزشتہ چار دہائیوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی سے متاثرہعلاقوں میں شامل رہا ہے۔

اتوار کوامن مارچمیں ہر مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوئے جب کہ امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

مینگورہ امن ریلی

سوات کے مرکزی تجارتی اور انتظامی شہر مینگورہ میں مختلف انجمنوں اور سوات قومی جرگ کے زیر اہتمام امن و امان کی بگڑتیہوئی صورتِ حال کے خلاف احتجاج میں مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مختلف علاقوں سے جلوسوں کے شکل میں آنے والے لوگ امن امن کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ ریلی مینگورہ شہر کے نشاط چوک میںجلسے کی شکل اختیار کر گئی تو اس سے مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔

خطاب کرنے والوں میں سوات قومی جرگے کے سربراہ شیر بہادر خان، بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد سلیم خان، سابق صوبائی وزیر ایوباشاڑی اور دیگر شامل تھے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ماضی قریب میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کےساتھ بہتتعاون کیا ہے مگر اب وہ کسی بھی قیمت پر علاقہ خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ ریاست شہریوں کو امن و امان فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرے۔

مقررین نے کہ کہا کہ سوات میں دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس پر وہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں مگر امنو امان میں ناکامی ریاست کی ناکامی ہو گی۔

مقررین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سوات اورصوبے کے دیگر علاقوں میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں سے پیدا شدہصورت حال پر خاموشی پر سخت تنقید بھی کی۔

خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک روز قبلچارسدہ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں سوات اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کیا تھااور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی ابھی تک کسی قسم کی حکمتِ عملی نظر نہیں آئیہے۔