جبری گمشدگیوں کیخلاف مؤثر آواز کی ضرورت ہے – ماما قدیر بلوچ

54

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے احاطے میں بلوچ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کا طویل احتجاجی کیمپ کو آج 4776 دن مکمل ہوگئے۔

اس موقع پر سیاسی اور سماجی کارکنان علی بخش بگٹی، عبدالغنی سیلاچی نے کیمپ آکر اظہارِ یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاست کی خفیہ اداروں کے اہلکار سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ لوگوں کو اعلیٰ منصب پہ بٹھا کر سیاسی ٹولز استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ریاستی مشینری متحرک طور پر ڈیتھ اسکواڈ کو سرگرم عمل رکھا ہوا ہے، جن میں بلوچ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور ان کو قتل کا سلسلہ انہی لوگوں کے ذریعے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی آلہ کار اپنے کام کو پورے کرنے اور سرکاری وعدہ وفا کے بدلے بلوچ فرزندوں کو بے دریغ قتل کرکے انکی لاشیں پھینک رہے ہیں یا اجتماعی قبروں میں دفن کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور تشدد سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ہماری پر امن جدوجہد حقوق کے حصول تک جاری رہے گا۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے ایک مؤثر آواز کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ اور اقوام عالم کو پاکستانی ریاست کو جوابدہ کرنا چاہیے۔