بی این ایم کابینہ کا پہلا اجلاس، متعدد فیصلے کئے گئے

111

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی مرکزی کابینہ کا پہلا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کابینہ کے تمام ارکان نے شرکت کی۔

کابینہ اجلاس میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے پروگرامات کے تسلسل کو برقرار رکھنے، پارٹی کارکنان اور دوزواھان کو سیلاب زدگان کی مدد کی ترغیب دینے سمیت دیگر کئی تنظیمی فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور تنظیمی پیشرفت کے ایجنڈے پر بحث کی گئی اور گذشتہ سیشن میں کیے گئے پارٹی آئین میں تبدیلیوں کی بنیاد پر آئینی کمیٹی کا مرتب کردہ آئینی ڈرافٹ پیش کیا گیا جس کا کابینہ نے جائزہ لے کر آئین کی اشاعت کی منظوری دی۔

اجلاس نے مرکزی کمیٹی کے لیے چار استثنائی ممبران کے چناؤ کا اختیار چیئرمین کو سونپ دیا۔

کابینہ اجلاس میں آئین کے مطابق تشکیل دیے گئے مختلف اداروں کے مرکزی معاون کمیٹیوں کے ممبران کے نام پیش کیے گئے جن پر اتفاق کیا گیا۔کابینہ کی منظوری سے بی این ایم جرمنی چیپٹر کے اصغر علی بلوچ اور نیدرلینڈز چیپٹر کے کیا بلوچ انفارمیشن اینڈ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی کمیٹی کے اراکین مقرر کیے گئے۔شاہ میر اور فہد کو مرکزی فنانس ڈسک کے اراکین، ڈاکٹر نوکاپ اور امداد بلوچ ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی اراکین ،حاتم بلوچ اور ریاض بلوچ ہیومین رائٹس ڈیپارٹمنٹ کے اراکین جبکہ نیاز بلوچ اور فہیم بلوچ خارجہ امور کے مرکزی کمیٹی کے اراکین مقرر کیے گئے۔مرکزی سیکریٹریز کے معاون کمیٹیوں کے اراکین کے نام متعلقہ اداروں کے سربراہان نے تجویز کیے تھے جنھیں کابینہ نے منظور کرلیا۔

خارجہ اور دیگر اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد کابینہ نے تمام اداروں کو باہم مربوط رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی اور فیصلہ کیا کہ خارجہ سیکریٹری پانک کے جاری کردہ رپورٹس اور انسانی حقوق کی بلوچستان میں صورتحال پر انسانی حقوق کے اداروں کو خطوط لکھے گا۔

پارٹی کی فعالیت کے لیے بلوچستان اور سندھ کے مختلف ریجنز کے لیے ذمہ داران مقرر کیے گئے جو مختلف ریجنز میں پارٹی سیلز کو متحرک کریں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا سیشن کے بعد اس مختصر دورانیہ میں بلوچستان کے حالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں اور بڑے مسائل نے جنم لیا۔زیارت میں جبری لاپتہ افراد کا حراستی قتل ، خاران اور مستونگ میں گھروں پر پاکستانی فوج کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں اور جبری گمشدگی جیسے واقعات پیش آئے جبکہ سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔

انھوں نے کہا ان حالات میں بی این ایم نے بیرون وطن مظاہروں کے علاوہ عالمی اداروں کو بلوچستان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے خطوط لکھے۔ادارہ پانک نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسی طرح بیرون ملک کارکنان نے بھی بلوچستان کی تحریک آزادی کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے پروگرامات کے تسلسل کو برقرار رکھا۔

چیئرمین نے کہا ہمیں اپنی کارکردگی کو ہمیشہ مستحکم رکھتے ہوئے بہتری کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔