بھارت میں مسلم مذہبی تنظیم ”پاپولر فرنٹ آف انڈیا“پر پابندی عائد

97

بھارت نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے سخت ترین قانون کے تحت معروف مسلم تنظیمپاپولر فرنٹ آف انڈیااور اس سےوابستہ بعض دیگر اداروں پر پانچ برس کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

بھارتی حکومت نے مختلف مقامات پر چھاپوں اور سینکڑوں مسلم رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد معروف مسلم تنظیمپاپولر فرنٹ آفانڈیا’ (پی ایف آئی) اور اس سے وابستہ دیگر اداروں کو پانچ برس کے لیے غیر ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اس سے قبل مودی حکومت نےاس تنظیم کے خلاف ملک گیر چھاپوں کی کارروائی کی تھی اور دہشت گردی کے الزام کے تحت پی ایف آئی کے رہنماؤں اور سینکڑوںدیگر کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔

مودی حکومت نے پی ایف آئی اور اس سے وابستہ اداروں پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے سخت ترین قانون (یو اے پی اے) کے تحت پابندی لگائی ہے۔ وزارت داخلہ نے اپنے ایک حکم نامے میں کہا،بیرونی فنڈز اور نظریاتی حمایت کے ساتھ، یہ تنظیم ملککی اندرونی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔

بیان میں یہ بھی دعوی کیا گیا کہ پی ایف آئی کے عراق اور شام کے شدت پسند گروپ داعش جیسے عالمی دہشت گرد گروہوں کےساتھ روابط ہیں۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس کے ساتھی یا ملحقہ ادارے غیر قانونی سرگرمیوں میںملوث رہے ہیں۔

اس کے مطابق یہ تنظیم،ملک کی سالمیت، خود مختاری اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ کہ اس کے لوگ ملک میں عوامی امناور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ایف آئی شدت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے اور اس کے روابط دہشت گرد تنظیمجماعت المجاہدین بنگلہ دیشسے بھی پائے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کی نوٹس کے مطابق پی ایف آئی سے وابستہری ہیب انڈیا فاؤنڈیشن، (آر آئی ایف) کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایفآئی) نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، آل انڈیا امام کونسل، نیشنل ویمنز فرنٹ، جونیئر فرنٹ اور ایمپاور انڈیا فاؤنڈیشننامی اداروں پر فوری طور سے پابندی عائدکردی گئی ہے۔

اس سے پہلے ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکمرانی والی اتر پردیش، کرناٹک، اور گجرات کی ریاستی حکومتوں نے پی ایفآئی پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔ وزارت داخلہ کا دعویٰ ہے کہ اگر پی ایف آئی اور اس سے ملحقہ اداروں پر فوری روک نہیںلگائی جاتی ہے، تو یہملک مخالف جذبات کی تشہیر کرنے کے ساتھ ہی معاشرے کے ایک خاص طبقے (مسلمانوں) کو بنیاد پرست بناسکتی ہے۔

ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے بیشتر رہنما اور اس جماعت کے وزرا اعلیٰ مودی حکومت کے اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں۔تاہم کیرالہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس پارٹی کے ایک رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ پی ایف آئی کے ساتھ ہی سخت گیر ہندو تنظیمآر ایس ایس پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔

اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے رکن پارلیمنٹ کوڈیکنل سریش نے کہا کہ پی ایف آئی پر پابندی کوئی علاج نہیں ہے۔آر ایس ایس بھیپورے ملک میں ہندو فرقہ پرستی کو پھیلا رہی ہے۔ آر ایس ایس اور پی ایف آئی دونوں برابر ہیں، اس لیے حکومت کو دونوں پر پابندیلگانی چاہیے۔ صرف پی ایف آئی ہی کیوں؟

مسلم تنظیموں اور جماعتوں نے بھی پی ایف آئی کے خلاف کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کو جمہوری اقدار کےخلاف قرار دیا۔

مسلم رہنماوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ یک طرفہ قدم یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ اصل موضوعات اور مسائل سے عوام کی توجہ ہٹاناچاہتی ہے۔ ان رہنماوں کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک باقاعدہ ماحول تیار کیا جا رہا ہے جب کہ شدت پسندوں اوراشتعال انگیزی کرنے والے ہندو رہنماؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

مسلم رہنماوں نے تاہم امید ظاہر کی ہے کہ پی ایف آئی کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا۔

بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے مختلف ریاستوں کی ایجنسیوں کے حکام کے ساتھ مل کر منگل کو علی الصبح ملککی آٹھ ریاستوں، مدھیہ پردیش، کرناٹک، آسام، دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، گجرات اور اتر پردیش میں مسلم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیاکے دفاتر اور اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے تھے۔

اب تک پی ایف آئی کے تقریباً تین سو رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس سے پہلے 22 ستمبر کو بھی ملک کی 15 ریاستوں میں چھاپے کی کارروائی کی گئی تھی اور اس وقت بھی تقریباً سو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم پی ایف آئی نے مودی حکومت کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں دلتوں، مسلمانوںاور قبائلیوں سمیت سبھی پسماندہ اور محروم طبقات کو با اختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔