بلوچستان: سیلابی صورتحال کے بعد غذائی قلت

304

بلوچستان بارشوں اور سیلاب سے جہاں مالی و جانی نقصانات ہوئے وہیں غذائی قلت بھی شدت اختیار کرنے لگا ہے-

بلوچستان میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے بعد مختلف علاقوں میں غذائی قلت نے سر اٹھالی ہے جس میں خوراک کی کمی، لاغرپن، بچے عمر کے مطابق بہت کم خون کی کمی کے شکار بھی شامل ہیں-

اس وقت بلوچستان کے نصیر آباد اور کوہلو شدید غذائی قلت کی لپیٹ میں ہیں یہاں کے رہائشیوں نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومتی امداد کا مطالبہ کیا ہے-

حالیہ مون سون بارشوں نے جہاں ہر طرف تباہی مچادی وہی متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین اور غذائی قلت کے شکار بچے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں غذائی قلت کے شکار بچے اور حاملہ خواتین اس وقت مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ کوہلو میں سڑکیں بہہ جانے سے ڈسڑکٹ ہیڈکوارٹر تک رسائی ناممکن ہوگئی ہے مکینوں کے مطابق اس حوالے سے کسی نے کوئی توجہ ہی نہیں دی جس سے جانی نقصانات کا خدشہ بڑ رہا ہے-

عالمی اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کی تعداد ایک لاکھ اڑتیس ہزار ہے جن میں چالیس ہزار خواتین کے ڈیلیوری کیسز رواں ماہ ہونگے۔

طبی ماہرین کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے لئے طبی سہولیات ناکافی ہیں جن سے بڑی تعداد میں بچہ اور زچہ متاثر ہوسکتے ہیں-

نیشنل نیوٹریشن کی 2018سروے کے مطابق اس وقت ضلع کوہلو میں 18.9فیصد بچے غذائی قلت کے شکار تھے 2018کے بعد اس حوالے سے کوئی سروے نہیں کیا گیا علاقے میں سروے اور عملی اقدامات کی قلت سے اس حوالے سے متاثرین بے یارو مددگار اور امداد کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب نصیر آباد میں کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق نصیرآباد کے مختلف شہر اور دیہات بارشوں سے متاثر ہوئے تین ماہ سے مذکورہ علاقوں میں امداد کی رسائی میں بھی خلل پڑھ رہی ہے جس کے بعد ضلع میں مختلف قسم کے بیماریوں اور مشکلات کے بعد غذائی قلت نے بھی سر اُٹھالیا ہے-

واضع رہے بارشوں سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تاہم متاثرین کی بحالی حکومت و سرکاری اداروں کی جانب سے سست روی کا شکار ہے جبکہ بلوچستان کو ملانے والی سڑک اور ریل ٹریک اور مختلف علاقوں مبائل سنگل سمیت بجلی بحالی بھی عمل نہیں آسکی ہے-

نصیر آباد امدادی سرگرمیوں میں مصروف رضاء کاروں نے حکومت و ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کی جائے وگرنہ صورتحال شدت اختیار کرسکتا ہے-