اسیٹبلیشمنٹ کی ریڈ لائن کے پار تشدد، جبری گمشدگیاں و نسل کشی ہے – منظور پشتین

205

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے لاہور میں ‘وائس ڈاٹ پی کے’ کی جانب سے ساوتھ ایشین ہیومن رائٹس اور ‘اے جی ایچ ایس’ ہمراہ منعقد کانفرس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آواز اٹھائیں تو مارے جائیں گے اور اگر آواز نہ اٹھائیں تب بھی ہمیں مارا جائے گا، یہاں آپ کونسے ریاست کی بات کرتے ہو، یہاں ریاست نہیں صرف اور صرف چند لوگوں کی غنڈہ گردی ہے جو کروڑوں لوگوں پہ مسلط ہیں اور انہیں غلام بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی ایک مخصوص ریڈ لائن کھینچی ہوئی ہے، آپ اسکے لائن کو کراس کروگے تو آپ کو جبری گمشدگیوں اور اقدام قتل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں 23 سال کا تھا جب ہم نے پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی تھی اب میں 27 سال کا ہوچُکا ہوں۔ میرا شناختی کارڈ بلاک ہے میرا سِم کارڈ بلاک ہے اور میرے بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں جانے پر پاپندی ہے۔ پاکستان میں اسی چیز کو نوجوانوں کی سیاست میں حصہ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو جبر کا نشانہ بنایا انکو یہ جاننا چاہیے کہ بہت سے لوگ اس سرزمین پر ہمیں فتح کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے لیکن وہ ناکام ہوئے۔ آپ بھی ان لوگوں کی طرح ناکام ہونگے ۔

منظور پشتین نے کہا کہ کل وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں لاپتہ افراد کو رہا کرونگا۔ وزیر اعظم صاحب آپ علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرسکتے تو آپ لاپتہ افراد کو کسی طرح رہا کرینگے؟

خیال رہے کانفرنس میں جماعتوں و انسانی حقوق و دیگر تنظیموں سے مختلف افراد شریک ہیں جبکہ بلوچستان سے انسانی حقوق کی کارکن سعدیہ بلوچ بھی اس کانفرنس کا حصہ ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن سعدیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس وقت جبری گمشدگیوں کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، یہ سلسلہ نوجوانوں کے اندر خوف کی فضا قائم کرنے کیلئے شروع کی گئی ہے، نا ریاست یہ سلسلہ بند کرنے والا ہے اور نا ہی بلوچ اپنے سیاسی جدوجہد و حقوق سے دستبردار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس نسل سے ہیں کہ جس سے پہلے ایک نسل کا قتل عام ہو چکا ہے، ہمارے گذشتہ بلوچ طلباء قیادت ذاکر مجید، زاہد بلوچ اور شبیر بلوچ اب بھی جبری لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کے مقتدرہ قوتیں نہیں چاہیں گے، ڈائیلاگ نہیں کریں گے، جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، اس کا حل ممکن نہیں ہے، جبری گمشدگیوں میں بیشتر ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں، ہماری ڈگریاں ہمارے لیے ڈیتھ وارنٹ بنے ہوئے ہیں، ہماری مائیں ہمیشہ سے اسی ڈر میں رہتے ہیں کہ کب انکے بیٹے کو جبری لاپتہ کیا جائے گا یا ماورائے عدالت قتل کیا جائے گا۔

سعدیہ بلوچ نے کہا کہ بلوچ خواتین ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں، میں ابھی ایک دھرنے سے بھی آ رہی ہوں، جہاں پچاس دن بلوچ خواتین اپنے بھائیوں، والد یا فیملی ممبرز کی بازیابی کیلئے شب روز احتجاج پہ بیٹھے رہیں۔ سمی اور سیما جیسی لڑکیاں دوسرے بلوچ لڑکیوں اور خواتین کیلئے مشعل راہ ہیں، جب وہ نکلتے ہیں جدوجہد کرتے ہیں تو دوسرے بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلی اور ایک ایسے خطے میں رہنے کی وجہ سے ہر چند سال بعد سیلابی طوفان آتا ہے، ریاست سیلاب زدہ علاقوں میں رضاکارانہ کام کی اجازت نہیں دیتی ہے، کل سے یہ نوٹفیکیشن بھی آئی ہے کہ این او سی کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔