آج بھی اپنے حقوق کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے – ریفرنس سے خطاب

235

آئینی طور پر جنہیں سیاست کا حق نہیں ہے وہ ملک میں سیاست کررہے ہیں، آج بھی آئینی دائرہ کارمیں رہ کر اپنے حقوق کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، سیاسی مفاد پرستی کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہورہی ہے – سردار عطاءاللہ مینگل کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب

ریفرنس میں مقررین نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دستور آئین اور حقوق کے لیے جنگ لڑنے میں بزرگ سیاستدان سردار عطا اللہ مینگل کا کوئی ثانی نہیں ہے، ملک کو عطاءاللہ مینگل جیسے بااصول سیاستدانوں کی ضرورت ہے، آئینی طور پر جنہیں سیاست کا حق نہیں ہے وہ ملک میں سیاست کررہے ہیں، آج بھی آئینی دائرہ کار میں رہ کر اپنے حقوق کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، سیاسی مفاد پرستی کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہورہی ہے، طے کرنا ہو گا کہ اب ملک میں بالا دستی آئین کو حاصل ہے یا صرف چند طبقوں کو، آئین کی بالادستی کا معاملہ طے ہونے تک مسائل حل نہیں ہونگے، چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی سے پہلے سیاست میں مداخلت کے روکنے کے چارٹر پر متحد ہونا ہوگا، سی پیک کا حامی امریکہ کا دشمن اور مخالف امریکہ کا دوست گردانا جارہا ہے، بلوچستان کی ترقی کے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے، بلوچستان کے وسائل پر مقامی حق تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل، پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل وفاقی وزیر احسن اقبال، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ، پیپلزپارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثار کھوڑو، سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد، علی احمد کرد، سینئر صحافی مظہر عباس، بلوچ قلمکار محمد علی ٹالپر و دیگر نے مقامی ہوٹل میں سردارعطاءاللہ مینگل کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مختلف سیاسی جماعتوں،قوم پرست رہنماﺅں، وکلاءسول سوسائٹی کے رہنماں نے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی اوربزرگ سیاستدان کی خدمات کوخراج تحسین پیش کیا۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک سیاست میں مداخلت روکنے کے چارٹر پر اتفاق نہ کرلیا جائے، ہم ایک طبقے کے غلام ہیں اور آئین میں رہتے ہوئے بھی اپنے حقوق کی بات نہیں کرسکتے، ملک چلانے کے لئے تمام ادروں کو اپنی حد میں رہ کر کام کرنا ہوگا، ہم مظلوم ہیں اور محروم بھی ہیں جب تک مجھے یہ باور نہیں کرایا جاتا کہ میں بااختیار ہوں میری محرومی ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں لوگ لڑ رہے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیوں لڑ رہے ہیں، تھنک ٹینکر کبھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ کیوں لڑ رہے ہیں، کیا سپریم کورٹ نے کبھی بلوچستان کے ایشوز پر سوموٹو نوٹس لیا ہے۔ بلوچستان میں انگریزوں کے بچھائے ہوئے ریلوے نظام کو ہم توسیع نہیں دے سکے ہماری ترقی کا راز یہی ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ملک کے سب سے بڑے سیاسی حکمران اتحاد کو سر جوڑکر بیٹھنے کی ضرورت ہے سیاست دانوں کی مفاد پرستی سے جمہوریت مسلسل کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سی پیک کا حامی ہے وہ امریکہ کا دشمن اور مخالف ان کا دوست ہے، ہم انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلق بنائیں تو ملکی مفاد سامنے ہوتا ہے، ایران اور پاکستان کے بہتر تعلقات کی بات کی جاتی ہے لیکن اس کی اجازت نہیں ہے، خارجہ پالیسی ملکی مفاد کے لئے ہونی چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل وفاقی وزیر احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سردارعطااللہ مینگل سیاسی وزڈم کا سمندر تھے، انہوں نے تاحیات اصولوں اور نظریات کی سیاست کی، یہ ملک جس کا ڈی این اے بیلٹ تھا اس کو بیلٹ کے راستے سے ہٹایا گیا، پاکستان کی بیلٹ اور ووٹ کی تحریک کو ایوب خان نے راستے سے ہٹایا، طے کرنا ہو گا کہ اب ملک میں بالا دستی آئین کو حاصل ہے یا صرف چند طبقوں کو، آئین کی بالادستی کا معاملہ طے ہونے تک مسائل حل نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے معاملات ریاست کے لئے چیلینج ہیں، وفاقی حکومت اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سردار عطاءاللہ مینگل کی عظیم جدوجہد ہمارے لیے نوشتہ دیوارہے، ہم پاکستان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، ہمیں انصاف چاہیے خیرات نہیں، آئین کو اٹھاکر پھینکنے والے اپنے دائرہ کار میں رہ کرکام کریں، موجودہ حالات میں سینیٹ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ نے کہا کہ سردار عطااللہ مینگل کی قیادت میں قوم پرستوں جماعتوں کا اتحاد پونم قائم ہوا، ہماری تیسری نسل تک ان کے تعلقات قائم تھے، پاکستان آج تک فیڈریشن نہیں بن سکا ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ بھی ایک قوم نہیں بن سکیں گے۔

پیپلزپارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثار کھوڑو  نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل جمہوریت کے ہیرو تھے، ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں عطا اللہ مینگل نے بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں ملکی ترقی کا واحد راستہ آئین کی بالادستی میں ہے، عوام اور عوامی نمائندوں کو کمزور کرکے بدنام کرنے کی جنگ چل رہی ہے، ہربار آئین کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا گیا اور پی سی او جاری کیا جاتا رہا، پاکستان کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے، قوم حقوق کا تحفظ چاہتی ہے چارٹر آف اکانومی وقت کی ضرورت ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل نے جس طرح دستور آئین اور حقوق کی جنگ لڑی اس کا کوئی ثانی نہیں، بلوچوں پر غداری کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، آئینی طور پر جس طاقت کا ملک میں سیاست کرنے کا حق نہیں ہے وہی سیاست کررہی ہے، اس سے جان چھڑانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ایجنڈے پر آنا ہوگا۔

سینیئر نائب صدر نیشنل پارٹی سینیٹر کبیر محمد نے کہا کہ عطا اللہ مینگل بلوچستان کی توانا آواز تھے، گوادر کے سر پر ڈیموگرافک چینج کی تلوار لٹک رہی ہے، بلوچستان کا سیاسی نظام آج بھی یرغمال ہے، راتوں رات پارٹیاں بنائی جاتی ہیں بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کو حق نہیں دیا جاتا ہے۔

معروف سیاستدان علی احمد کرد نے کہاکہ میرے ملک میں 35 برس آمریت رہی، سب مل کر پہچان لیں ظالم کون ہے، اب وقت چلا گیا کہ ڈرا جائے، کون ہے کون لوگ ہیں جو اس ملک میں ظلم کررہے ہیں۔

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ محکوم عوام کے لئے عطا اللہ مینگل نے جان کی قربانی دی، جن لڑکوں کو آج باغی قرار دیا جارہا ہے یہ باغی نہیں ہیں، گیارہ جماعتوں کی حکومت کے باوجود آج بھی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، طالبان سے بات ہوسکتی ہے تو ان لوگوں سے کیوں نہیں، ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے۔