کچھ باتیں بالی کے بارے میں ۔ گِدار بلوچ

310

کچھ باتیں بالی کے بارے میں

تحریر: گِدار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پتہ نہیں کیوں کچھ لکھنے کو من کررہا ہے لیکن اتنا محسوس کررہا ہوں کہ باطن میں سکون نہیں، ایک مہر کہوں یا محبت وہ چیز مجھے اپنی طرف متوجہ یا مائل کررہاہے، تو اس لئے قلم اٹھا کر کچھہ سفید کاغذوں کو سیاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ آج جس ایک شخص کی پُرکشش شخصیت، بے بہا قربانیوں نے مجھے اپنی طرف مائل کیا، وہ ظہور ھمل عرفِ بالی ہے۔

ایک قریبی دوست سے یہ معلوم ہوا کہ ایک جھڑپ میں کچھ زمین زادگ شہید ہوئے ہیں، ان میں بالی بھی شامل ہے۔ یہ ایک عجیب بات تھی میرے لئے ۔۔۔ عجیب تو نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جہاں ایسے واقعات ضرور پیش آتے ہیں، لیکن۔۔۔ لیکن یہ اس لئے میرے توقعات میں نہیں تھا کہ بالی اس وقت ان نازک مراحل میں اپنے دوستوں ، عزیزوں کو چھوڑ کر جائے، اپنی زندگی کے سفر کا خاتمہ کردے گا ، اپنے کندھوں کا بار پھینک کر اپنے دوستوں کے بوجھ کو اور زیادہ کھٹن اور بھاری کردے گا۔ مجھے یہ امید نہیں تھا کہ بالی اس وقت ہمیں ذہنی الجھاوُ میں مبتلا کردے گا اور ہمیں مجبور کرے گا کہ بالی کے نام کے سامنے ہم شہید لکھنے پر مجبور ہوجائیں، نامِ شہادت پر ویسے فخر ہونی چاہیئے، فخر بھی کرتے ہیں، لیکن بالی کے نام کے سامنے اس وقت شہید لکھنا میرے لئے باعثِ درد ہے۔

چلو میرے لئے باعثِ درد ہے یامرگ بالی دھرتی کا بیٹا تھا دھرتی کے نام پر شہادت قبول کی۔ اب میں کہتا ہوں بالی کو شہادت مبارک ہو۔

میں اپنے کمزور قلم کو جنبش دے کر اپنے کمزور و غیر منطق لفظوں سے تھوڑا بہت بالی کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں ایک ایسا لکھاری، قلم کار نہیں ہوں کے بالی کے شخصیت کا پورا خاکہ پیش کرسکوں میں اپنے بساط کے مطابق کچھ لکھنے کی کوشش ضرور کررہا ہوں۔

ظہور : ظہور کے لفظی معنی ظاہر ہونا، ظہور 1993 میں محمد امین کے ہاں ضلع آواران کے تحصیل آواران کے ایک گاؤں بزداد گندہ کور میں پیدا ہوا، ظہور کی پیدائش اپنے ماں باپ کیلئے کسی نایاب چیز کے ظہور سے کم نہ تھی۔

ظہورعرف بالی نے جب ہوش سنبھالا تو وہ تیرتیج میں تھے، آپ نے اپنا بچپن تیرتیج کے گاؤں میں گزارا اور اسی گاؤں میں بنیادی تعلیم حاصل کی، جماعتِ اؤل سے لیکر مڈل تک گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول تیرتیج سے حاصل کی۔

مڈل کے بعد آپ نے کراچی اور تربت میں اپنا کچھ وقت گزارا۔ وہاں سے آپ نے طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد کی ممبر شپ حاصل کی ۔
شہید بالی شہید رضاجہانگیر کے ساتھی تھے کیونکہ وہ رضاجہانگیر کی سیاسی شخصیت سے متاثر تھے۔ زیادہ وقت تک شہید رضا جہانگیر کے ساتھ سیاسی کاموں میں ہم سفر تھے ، آپ نے بی ایس او آزاد کے اندر بہت وقت گزارا ۔ اور(2008 – 2011)
تک بی ایس اوآزاد میں بہت متحرک تھے اور اسی دوران یونٹ سیکرٹری سے لیکر مختلف زونل عہدوں سے لیکر اپنی قابلیت اور قربانیوں سے بی ایس او آزاد آواران زون کے زونل صدر بھی رہے ۔

بالی کی شخصیت
جب ہم جماعت ششم کے طالب علم تھے ، اُس دوران بی ایس او آزاد اپنے عروج پر تھا اس وقت ہماری یونٹ سازی ظہور اور اسکے دوسرے دوست کرتے تھے2011 – 2010 کے درمیانی دو سال تک بالی نے اکثر و بیشتر تربیتی سرکلز منعقد کی۔

بالی کی شخصیت ہر فرد کو اسکا گرویدہ بناتا۔ بالی اکثر اپنے آبائی گاؤں آواران تیرتیج میں رہتے تھے ، کبھی کبھار کراچی اور تربت میں اکیڈمک تعلیم کی خاطر رہائش پذیر ہوتے تھے۔

دو ہزار گیارہ کے ایک مہینے بالی اپنی گاؤں سے غائب رہا ، تو بہت سے دوست بالی کے جانے سے پریشان تھے کہ پہلے کراچی یا تربت جاتا تو وہ رابطے میں رہتا تھا۔ لیکن ابھی ان سے رابطہ منطقع تھا۔ ویسے گاؤں کے لوگوں کا ماننا تھا کہ بالی پڑھائی کے غرض سے کسی شہر میں ہوگا۔ کچھ مہینے بعد بالی واپس آیا تو بالی کا انداز ، باتوں کا انداز اور چہرے کے ساتھ ساتھ بالوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ بالی کسی شہر میں نہیں کوئی اور جگہ گیا ہوگا۔ قریبی دوستوں کو اسکے اندازسے معلوم ہوا کہ بالی نے کسی مسلح تنظیم کو جوائن کیا ہے اور وہ کیمپ میں ٹریننگ کرنے گیا ہے کیونکہ اس وقت لوگوں کا گمان یہی تھا تو واقعی ایسا ہی تھا۔

اسکے بعد طلبہ سیاست سے دور رہے اسکی دلچسپی مسلح جدجہد میں زیادہ رہی کیونکہ بالی کو یہ علم تھا دنیا کا دستور طاقت پر انحصار کرتی ہے خاص طور پر ظالم و جابر دشمن کے سامنے بنا تشدد کے جواب تشدد سے مظلوم عوام اپنی غلامی کی زنجیریں توڑ نہیں سکتا۔ بالی مسلح جدجہد کی تکلیف دہ منزل کے ہر پہلو کے بارے میں جان کر پھر بھی مسلح جدجہد کے حصہ دار رہے ۔ مسلح جدوجہد کے جاری کھٹن منزل میں ایک خوبصورت کردار کے مالک رہے۔

بالی کے کچھ دوستوں نے ریاستی قاتل فوج کے سامنے سرنڈر کیا تو لوگوں نے سوچا کہ بالی بھی انکی طرح اپنا ہتھیار پھینکے گا، لیکن ان لوگوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ بالی رنگت کے لحاظ سے اتنا نازک ہے اور اندر بولان کے چٹانوں جیسا سخت حوصلے کا مالک ایک گوریلا جنگجو ہےاور ایک سالم انسان ہے۔

بالی نے گیارہ سال تک جنگل ،پہاڑ اوربپیابانوں میں بھوک پیاس ،مختلف ازیت برداشت کرکے مسلح جدوجہد میں کھٹن مراحل سے گزر کر آخری دم تک دشمن کے سامنے جنگ لڑتے رہے اورافتادِ گان خاک ، مظلوم عوام کے دل ،دماغ میں امر ہوگئے۔

جب 19جون 2022 کےدن پنجگور پروم کے پہاڑی سلسلے انجیری کوہ کے مقام پردشمن نے آپریشن کی تو بالی اور اسکے پانچ ساتھی ،صابر قادر عرف طاھر ، اکبر عرف ھمل ،ساجد محمود عرف سمیر جان ،عطاء جان عرف ناصر اور سگار جان نے شہادت نوش کی اور اپنے وطن کے وفادرای کا ثبوت دیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں