کوئٹہ لواحقین دھرنا: ریاست کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی

86

جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے لواحقین کا کوئٹہ گورنر بلوچستان کے گھر کے سامنے دھرنے کو 19 دن مکمل ہوگئے لواحقین موسمی تبدیلی کی باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں-

مظاہرین نے بتایا گزشتہ تیرہ سالوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بیٹھے رہیں کسی نے آکر نہیں پوچھا اور نا کوئی سننے والا تھا آج ہم خود آکر حکمرانوں کے دروازے پر بیٹھے ہیں تو یہاں دس قدم چل کر آنے میں بھی نام نہاد نمائندوں کو تکلیف ہو رہی ہے-

دھرنے پر بیٹھی خضدار کی سائرہ بلوچ اپنے بھائی اور کزن کی بازیابی کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ سائرہ بلوچ نے بتایا کہ وہ یہاں اس امید سے بیٹھی ہوئی ہے شاید انکے احتجاج سے بھائی اور کزن بازیاب ہوں اور انہیں انصاف ملے-

سائرہ بلوچ نے بتایا کہ وہ ہر احتجاج میں اسلئے شریک ہوتی ہے تاکہ انکی آواز سنی جائے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی سے انکے گھر والے شدید ذہنی ازیت کا شکار ہیں لاپتہ بھائی کے بچے اپنے والد کے باریں پوچھتی ہیں تاہم ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہم جواب مانگنے یہاں بیٹھے ہیں لیکن پارلمینٹ کے امارت میں بیٹھے عوامی حکمران ہونے کے دعویدار لواحقین کو انصاف فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے-

دھرنے میں شریک لواحقین نے کہا ریاست لاپتہ افراد اور انکے لواحقین کے حوالے اپنے غیر انصافی رویہ کو ترق کرنا ہوگا جنھیں جبری لاپتہ کیا گیا ہے وہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں اگر کسی پر کوئی گناہ ہے تو عدالتوں میں پیش کرکے گناہ ثابت کیا جائے-

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریاست کو اپنے ہی بنائی قانون اور عدالتوں پر بھروسہ نہیں اگر ہمارے پیاروں نے کوئی گناہ کیا ہے تو ان پر عائد الزامات کو ثابت کریں لیکن ریاست کی سنجیدگی کا عالم یے ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے احتجاج پر بیٹھے بوڑھی مائیں اور چھوٹے بچیں انہیں نظر آتی وہ یہاں آکر پوچھنے کی جسارت نہیں کرتے کے آخر ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں-

کوئٹہ دھرنے میں متحدہ عرب امارات سے حراست بعد پاکستان منتقل کئے جانے والے لاپتہ بلوچ کارکن راشد حسین کی والدہ شریک ہیں-

راشد حسین کے والدہ نے بتایا امید لیکر کراچی سے کوئٹہ تک کا سفر کرکے آیا ہوں تاکہ یہاں بیٹھے عوامی نمائندے اپنی ذمہ داری احساس کرتے ہوئے میری فریاد سنیں گے شدید بیماری اور تکلیفوں کے باجود عدالتیں، کمیشنز، پولیس تھانے، عوامی نمائندوں کے یہاں اپنی فریاد لیکر جاتی رہی کوئی سننے والا نہیں البتہ مجبور ہوکر اب احتجاج پر بیٹھی ہوئی ہوں-

راشد حسین کے والدہ نے کہا نہیں جانتی کے اس احتجاج کے بدلے کیا ہوگا البتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے احتجاج کے سلسلے کو جاری رکھینگے-

گزشتہ دو ہفتوں سے زائد دھرنے پر بیٹھے لواحقین شدید کمزوری کا شکار ہورہے ہیں احتجاج میں شریک ایک بلوچ کارکن نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے باعث دھرنے پر بیٹھے لواحقین کی طبیعت ناساز ہوتی جارہی ہے تاہم لواحقین اپنے احتجاج کو جاری رکھنا چاہتے ہیں-

انہوں نے کہا دھرنے پر بیٹھے لواحقین شروع دن سے اپنے مطالبات حکومت اور کمیٹیوں کو پیش کرچکے ہیں لیکن حکومتی نمائندے لواحقین کے مطالبات پر غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں حکومت کا نام نہاد کمیٹی بنانے کا اعلان کرنے کا مقصد صرف ہمیں ریڈزون سے احتجاج کو ختم کروانا تھا-

یاد رہے اس سے قبل لواحقین نے تین اپنے تین مطالبات پیش کردئے تھے- لواحقین کا مؤقف ہے لاپتہ افراد کی بازیابی بلوچستان حکومت کے اختیار میں نہیں متعلقہ ادارے اور جنرل باجوہ انہیں لاپتہ افراد کی بازیابی پر یقین دھانی کرائے-