کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

60

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4725 دن مکمل ہوگئے۔

پریس کلب کے سامنے جاری اس کیمپ میں آج بی ایس ایم کے چئیرمین شکیل احمد بلوچ، بی وائی سی کے سعدیہ بلوچ، این ڈی پی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر شامیر نے آکر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیربلوچ نے کہا کہ بلوچ ماؤں اور بلوچ قوم کے دکھ درد اور صورتحال دیکھ کرشاہد کوئی سنگدل انسان اپنے آنسو روک پاۓ لیکن یہ بلوچ قوم ہے جو دکھ سہنے کے باوجود برداشت کئے جارہے ہیں اور اس برداشت کے آڑ میں کچھ لوگ سوداگری میں لگے ہیں۔ ظلم کو برداشت کرنا بلوچوں کی مجبوری ہے کیونکہ غلام اس کے سوا کچھ نہیں کرسکتا تاہم بے بس اور غلام بلوچ نے پیاروں کی بازیابی کیلئے جدوجہد میں اپنے کردار سے دنیا کو یہ پیغام روز اول سے دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غلامی کے طوق کو اپنی گردن سے نکالنے کیلئے ہر وقت پرامن جدو جہد کرتے رہیں گے اور بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے خلاف بلوچ فرزندوں کی بیش بہا قربانیوں کی وجہ سے بلوچ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر متعارف ہوا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کی جدوجہد نے نہ صرف بلوچ قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا بلکہ بلوچوں کو بلوچ پرامن جدو جہد کا حصہ بنا کرایک روشن تاتاریخ رقم کی ہے۔ بلوچ جدوجہد کو منزل تک لے جانے اور قومی ہدف حاصل کرنے کیلئے بھی عوامی حمایت اور تائید ضروری ہے اور بلوچ عوام کو آگاہی دینا بلوچ سیاسی قوتقوتوں کا فرض ہے۔