کتاب: 1984 ۔ بیبرگ بلوچ

196

کتاب: 1984
مصنف: جارج آرویل
تبصرہ: بیبرگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

برطانوی صحافی اور مشہور مصنف جارج آرویل کا ناول “1984” دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1949 میں شائع ہوئی۔ یہ ناول آج کی دنیا کے حالات خصوصاً بلوچستان کے حالات کی غماز ہے۔ یہ ایک Dystopian ناول ہے، Dystopia جوکہ افلاطون کے مثالی ریاست Utopia کا برعکس ہے۔

اس ناول میں مستقبل کی ایک خیالی دنیا کو 3 حصوں یوریشیا (یورپ اور ایشیا)، مشرقی ایشیا اور اوشیانیا میں بٹا ہوا پیش کیا گیا ہے جو ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔

اس ناول کا مرکزی پلاٹ اوشیانیا(مستقبل کا انگلینڈ) ہے، جس کا دارالخلافہ Airstrip One ہے جو 1984 سے پہلے great britian کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اوشیانیا میں The party نام کے ایک آمر جماعت حکمرانی کر رہا ہے جس کا سربراہ Big brother، جوکہ ایک Totalitarianist ہے
جس کی جانب سے ریاست میں سخت آمریت لاگو ہے۔
‏(Totalitarianism حکومت کی ایک قسم ہے جس کے تحت زندگی کے سارے معاملات پر حکومت کا کنڑول ہوتا ہے جہاں کسی کو بھی سماجی اور فردی آذادی کا حق نہیں ہوتا )

بگ برادر کے سربراہی میں اوشیانیا میں حکومت کے سارے کام 4 وزارتوں میں تقسیم ہیں۔
‏1.Ministry of peace
‏2.Ministry of planty
‏3.Ministry of truth
‏4.Ministry of love

وزارت برائے امن(Minisrty of peace) کا تعلق جنگ سے ہے۔ وزارت برائے بہتات(Minisrty of Plenty) کا تعلق ریاست کے معاشی معاملات سنبھالنا ہے۔ یہ وزارت اکثر و بیشتر ٹیلی اسکرین کے ذریعے سرکاری منصوبہ بندی اور سالانہ اہداف کی تکمیل کے حوالے سے معلومات عوام تک پہنچاتی رہتی ہے۔ جبکہ حقیقت میں کوئی بھی ہدف پورا نہیں کرتا بلکہ اکثر ہر ماہ عوام کے راشن میں ہی کمی کرتی ہے۔
ِوزارت برائے سچائی(Ministry of truth) کا اہم کام تاریخی طور پر اہمیت کے حامل دستاویزات میں تغیّرات لانا یا سرے سے ان کو ختم کرنا ہے۔ اس سارے عمل کا خاص مقصد تاریخ کو پارٹی کے مؤقف سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ جنگ کی وجہ سے ملک میں اگر کسی چیز کے سکیل میں کمی کردیا جائے، مثال کے طور پر چینی کا فی کلو سکیل 100 گرام ہے تو بدل کرکے 80 گرام کردیا جاتاہے اور ریکارڈز کو تبدیل کرکے خبر پھیلایا جاتاہے کہ چینی کا فی کلو سکیل 60 سے بڑھا کر 80 کردیا گیا ہے۔

سب سے خطرناک وزارت برائے محبت(Ministry of love) ہے جس کا تعلق امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنا، انقلابی لوگوں کو گرفتار کرکے سزا دینا، بگ برادر اور the party کے خلاف بولنے والے مخالفین پر سخت تشدد کرکے Big brother اور اس کے پارٹی کا وفادار بنانا ہے۔

ملک میں پرانی زبان انگریزی ختم کرکے New Speak نامی زبان رائج کی جاتی ہے جس میں خیال کے وسعت کو روکنے کے لئے لوگوں کو بغاوت سے دور رکھنے کے خاطر جہاں بہت سے الفاظ حذف کردیے جاتے ہیں وہیں کچھ الفاظ کے معنی یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔
نئی لاگو کی گئی زبان کے مطابق
جنگ: امن ہے،
آزادی: غلامی ہے
اور جہالت بہت بڑی طاقت ہے جو کہ پارٹی کے آفیشل نعرے میں بھی ہے، زبان سے حروف کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی کرکے زبان سے آزادی، آزادی اظہار، احتجاج، جذبات احساسات، علم، مزاحمت اور اس طرح کے دیگر شعوری اور انقلابی الفاظ بالکل ختم کر دیے جاتے ہیں۔ اس پورے عمل کا مقصد عوام کو لاشعوری کی جانب دھکیلنا ہے۔

مائنڈ کنٹرول کے اس کھیل میں ایک اور موثر ترین ہتھیار روزانہ ہونے والا نفرت کے دو منٹ Two minutes hate سیشن ہے جس میں عموماً گولڈسٹائن نامی ایک فرضی دشمن کو اسکرین پر دکھا کر لوگوں کو چیخنے جوتے مارنے پر اکسایا جاتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کا کوئی شخصی وجود ہے بھی یا نہیں مگر یہ دشمن اور نفرت کے سیشن کا ٹارگٹ بدلتے رہتے ہیں۔

ملک میں سوچ ایک جرم ہے جس کو ( thought crime) یعنی کہ سوچ رکھنے کا جرم کہا جاتا ہے۔ جس پر قابو پانے کے لیے حکام کی جانب سے پولیس بھی قائم کی گئی ہے جوکہ لوگوں پر ہمیشہ نظر رکھتا ہے۔

اوشیانیا میں پولیس اور دیگر ریاستی ادارے ٹیلی اسکرین نام کی ایک جدید مشین کے ذریعے ہر شہری کی حرکات و سکنات کو براہ راست دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں جگہ جگہ طویل القامت پوسٹر آویزاں ہیں جن پر بہت بڑے حروف میں بگ برادر آپ کو دیکھ رہا ہے کے الفاظ کنندہ ہیں.

پارٹی کا سربراہ Big brother لوگوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر ہمہ وقت قدرت رکھتا ہے اور ہر شہری کو ہمہ وقت زیرِ نگرانی ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے.

پارٹی کا ماننا ہے کہ ماضی پر مکمل ضابطہ رکھ کر ہی مستقبل کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور ماضی پر ضابطہ رکھنے کے لیے حال کو قابو کرنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی ہمیشہ وقت کی سیاسی ضروریات کے پیشِ نظر تاریخ کو مسخ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ پارٹی کی طرف سے لاگو کیے گئے قوانین کے مطابق مرد اور عورت کو کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔شادی کے لیے بھی پارٹی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کو درخواست دینا لازمی ہے۔ جب کمیٹی اس بات سے مطمئن ہو کہ شادی کا حاصل مقصد صرف پارٹی کے خدمت گزار بچے پیدا کرنا ہے تب ہی شادی کی اجازت ملنا ممکن ہے۔ مطلب کہ کسی بھی شہری کو کوئی شخصی آزادی حاصل نہیں اور ہر شہری کی زندگی پارٹی کے مقاصد کی تکمیل کرتے ہوئے گزرتی ہے۔

حکمران پارٹی کے جانب سے ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ جہاں پولیس روزانہ غداری کے الزام میں لاتعداد شہریوں کو گرفتار کرتی رہتی ہے اور گرفتار کیے گئے افراد سماج اور تاریخ کے صفحات سے بالکل غائب کر دیے جاتے ہیں۔

ناول کا مرکزی کردار ونسٹن اسمتھ جوکہ Ministry of truth میں ایک معمولی سے عہدے پر فائز ہے اور اس کا کام حکمران پارٹی سے وصول کی گئی ہدایات کے مطابق دستاویزات کو ختم کرنا یا ان کے مواد میں رد و بدل لانا ہے۔

ونسٹن آزاد سوچ کا مالک تھا۔ منافقت سے بھرپور پارٹی منشور سے تنگ آچکا تھا۔ غیرفطرتی زندگی عذاب بن چکی تھی۔ وہ ترقی پسند شخص تھا۔ ظلم و وحشت سے دور رہنا پسند کرتا تھا۔ بھوک کے راج پر، خوف کے آج پر ناچنے والے سارے مداری محب وطن تھے۔ دیس میں بسنے والا ہر معتدل شخص غدار تھا۔ جاسوس تھا۔ پارٹی کے اشاروں پر نا ناچنے والے شر پسند، گستاخ تھے۔ اپنے حق کیلئے سوچنے والے ایجنٹ تھے۔اس دھرتی پر سوچنا گناہ کبیرہ تھا۔ اس طرح کے غلامانہ ماحول کی وجہ سے ونسٹن اپنی ملازمت سے، سماج سے حتیٰ کہ اپنی زندگی سے بھی بیزار جبکہ وہ آزادی اور سچائی کا متلاشی تھا۔

ایک دن دفتر کے اوقات کار کے بعد ونسٹن گلیوں میں گھومتے ہوئے اس کے ساتھ Ministry of truth میں کام کرنے والی ایک ملازمہ لڑکی کو دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتاہے کہ وہ لڑکی پولیس کی جاسوس ہے کیونکہ سرکاری ملازمین کا مزدور طبقے کے علاقوں میں بلاوجہ جانا ممنوع ہے اور کسی خطرے سے کم نہیں۔ ونسٹن کی وہ رات بہت مضطرب گزرتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ پلک جھپکتے ریاستی اہلکار اسے گرفتار کرنے پہنچ جائیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

کچھ دنوں بعد ونسٹن کی اس لڑکی سے دوستی ہو جاتی ہے اور اکثر شہر سے باہر مضافات میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کی قربت میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔ وہ دونوں اپنے میلاپ کو پارٹی کی قیادت پر ایک ضرب سمجھتے ہوئے خوش ہوتے ہیں جولیا ونسٹن کو بتاتی ہے کہ وہ بھی پارٹی سے بیزار ہے اور اس کی زندگی کا مقصد پارٹی کے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کر کے مسرت حاصل کرنا ہے۔

جولیا کہتی ہے کہ اوشیانیا کسی بھی ملک سے جنگ نہیں کر رہا بلکہ عوام میں جنگ کا خوف برقرار رکھنے کے لیے خود اپنے ہی ملک پر بمباری کرتا رہتا ہے۔

پارٹی کے ایک خاص ممبر او برائن (جیسے غلطی سے ونسٹن انقلابی اور Big brother کا مخالف تصور کرتا ہے) سے جولیا اور ونسٹن کو ایمانوئل گولڈ اسٹائن کی کالعدم قرار دی گئی کتاب ملتی ہے۔ کتاب میں سماج اور پارٹی کے بارے میں بہت سے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب کے مطالعے کے دوران اچانک پولیس اور انٹیلیجنس چھاپا مار کر ونسٹن اور جولیا کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں۔ ان سے تفشیش کی جاتی ہے ان پر سخت تشدد کیا جاتا ہے۔ ونسٹن کے دانت توڑے جاتے ہیں۔ کرنٹ لگایا جاتا ہے۔ بال نوچے جاتے ہیں۔ کئی کئی دن بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے کچھ دنوں میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتا ہے۔

مسلسل شدید تشدد برداشت کرنے کے بعد ونسٹن ہر کردہ اور ناکردہ جرائم کا اعتراف کرتا ہے۔

قید خانے میں ونسٹن کی سوچ بدلنے پر کام کیا گیا۔ اسکو درد کی شدت سے نڈھال کیا گیا۔ اسکو دلیل کے ساتھ ‘بغیر دلیل بات، قبول کرنا سیکھایا گیا۔ ونسٹن بدل رہا تھا۔ وہ اس بات پر قائل ہوچکا تھا کے دو جمع دو پانچ ہوتے ہیں۔وہ خود غرض ہونا بھی سیکھ چکا تھا۔ ونسٹن سے اسکی سوچ چھین لی گئی۔ اسکا وقار مجروح کیا گیا۔وہ اب یکسر بدل چکا تھا۔ کبھی کبھار ماضی کی یادوں کو اپنا وہم سمجھ کر ٹال دیتا۔ ونسٹن اب قید خانے سے آزاد تھا۔ گم سم اور شراب میں دھت رہتا۔ وہ آزادی حاصل کرچکا تھا۔ وہ آزاد سوچ سے آزادی حاصل کر چکا تھا اور یہ بالکل مختلف ونسٹن تھا۔

اگر دیکھا جائے تو یہ ناول آج سے تقریباً 70 برس پہلے دوسرے جنگِ عظیم کے بعد لکھا گیا لیکن یہ ناول آج بھی اتنی افادیت اور اہمیت کا حامل ہے جتنا پہلی اشاعت کے وقت تھا۔ ناول میں موجود تمام عناصر بلوچستان اور دنیا کے دیگر مظلوم قوموں پر آج بھی قابض ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں