کتاب اناطولیہ کہانی ۔ ظہیر بلوچ

132

کتاب اناطولیہ کہانی

تبصرہ: ظہیر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کتاب اناطولیہ کہانی مشہور کرد مصنف یشار کمال کی تصنیف ہے، جسے مئی 2014 میں جمہوری پبلیکشرز لاہور نے شائع کیا گیا، اس کتاب کا اہتمام فرخ سہیل گوئندی صاحب نے کیا.

کتاب کی مختصر کہانی بیان کرنے اور کتاب پر اظہار خیال کرنے سے قبل مصنف کا تعریف پیش کرنا لازمی ہے تاکہ مصنف کے خیالات اور اس دور میں وہاں کی حالات کی واضح نقشہ کشی کی جائے کیونکہ کوئی بھی فرد اپنے مخصوص حالات کی پیداوار ہوتا ہے. اسکی سوچ اور فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے اسکے حالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.

مصنف کا مختصر تعارف

یشار کمال 1922 کو جنوبی ترکی کے صوبے عثمانیہ میں پیدا ہوئے وہ نسلا کرد تھے. وہ ایک ناول نگار اور سیاسی ورکر تھے. وہ کردستان ورکرز پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں. سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے جیل بھی جانا پڑا. یشار کمال نے اناطولیہ کہانی 1955 میں لکھی جسے سال کا بہترین کتاب بھی قرار دیا گیا اس ناول کی ڈھائی لاکھ کاپیاں شائع کی گئی۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ آغا عابدی نامی ایک زمیندار پانچ گاؤں کی زمینوں کا مالک ہوتا ہے اس کے ظلم و ستم سے عام عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہوتی ہے، ویسے یہ ہر معاشرے اور ہر گاؤں کی کہانی ہے جو زمینداروں اور سرکار کے گٹھ جوڑ کا نشانہ بنتے ہیں اور ظلم و جبر کی چکی میں پستے رہتے ہیں. اس ظلم و جبر کے خلاف محمت نام کا ایک دبلا پتلا لڑکا کھڑا ہوجاتا ہے اور ہر ظلم سہہ کر پہاڑوں کا رخ کرلیتا ہے اور ڈاکوؤں کےایک گروہ میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے. محمت آغا کے ظلم و جبر کی وجہ سے گھر بار چھوڑ دیتا اور قریب کے گاؤں میں پناہ لے کر وہاں کھیتی باڑی کا کام شروع کردیتا ہے لیکن وہاں محمت کی ملاقات ہوسک سے ہوتی ہے جو محمت کی ماں کو اس ملاقات کی روداد سناتا ہے اور یہ خبر آغا تک بھی پہنچ جاتا ہے جو محمت کو واپس گھر لے آتا ہے لیکن آغا کا ظلم و جبر کم ہونے کے بجائے مذید شدت اختیار کرلیتا ہے. ڈاکووں کے گروہ میں شمولیت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ محمت ہاچے نام کی ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے لیکن وہ لڑکی آغا عابدی کے بھانجے کی منگیتر ہوتی ہے. محمت آغا عابدی اور اسکے بھانجے پر حملہ آور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے آغا تو بچ جاتا ہے لیکن اس کا بھانجا ہلاک ہوجاتا ہے.

آغا پر فائرنگ کرنے کے بعد محمت فرار ہوجاتا ہے لیکن ہاچے ان کی ہاتھ لگ جاتی ہے اور اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے. اسی گاوں میں علی لنگڑا نام کا ایک بندہ ہوتا ہے جو پاؤں کے نشانات دیکھ کر کسی انسان کا کھوج لگالیتا ہے. علی ہی کی وجہ سے آغا عابدی محمت اور ہاچے تک پہنچ جاتے ہیں لیکن لنگڑا علی گواہی دینے سے انکار کردیتا ہے جس کی وجہ سے اسے علاقہ بدر کردیا جاتا ہے اور اسکے گھر کو ملیا میٹ کردیا جاتا ہے.

ہاچے جیل چلی جاتی ہے جبکہ محمت دردو کے گروہ کو جوائن کرلیتا ہے جو بہت ہی ظالم اور لوگوں کو بے عزت کرکے مال و دولت لوٹ لیتا تھا. لیکن محمت رجب اور جبار کے ساتھ مل کر درود کے لوگوں پر مظالم کی وجہ سے اسکے خلاف بغاوت کرتا ہے اور اپنے اہم مقصد آغا عابدی کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے ایک دن محمت عابدی کے گھر پر حملہ آور ہوتا ہے لیکن اسکی غیر موجودگی میں اسکے بیوی بچوں کو چھوڑ دیتا ہے.

محمت کی ملاقات لنگڑے علی سے ہوتی ہے جو محمت کو اسکے ماں کے مرنے کی خبر دیتا ہے اور محمت کو آغا عابدی کا کھوج لگاکر بتادیتا ہے. کچھ دن کے بعد محمت عابدی پر رجب اور جبار کے ساتھ حملہ آور ہوجاتا ہے لیکن اس حملے میں عابدی بچ جاتا ہے اور وہ علی صنعا بے کے پاس جا کر پناہ لیتا ہے جو ایک ظالم شخص اور اپنے گاؤں کا آغا ہوتا ہے. اس دوران رجب جو دردو کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوجاتا ہے. مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ مرجاتا ہے.

اس کہانی کا ایک اور اہم کردار اعراز نام کی ایک عورت ہوتی ہے جو حسین کی بیوی ہوتی ہے. حسین کی وفات کے بعد اس کا بھائی اسکے زمین پر قبضہ جمالیتا ہے، اعراز کا ایک بیٹا ہوتا ہے جس کا نام رضا ہوتا ہے باپ کے انتقال کے وقت وہ کم سن ہوتا ہے لیکن نفرت اس کے عمر کے ساتھ ہی جوان ہوتا چلا جاتا ہے وہ کیس کے ذریعے اپنا زمین حاصل کرلیتا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد اسے قتل کردیا جاتا ہے وہ اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کا ارادہ کرتی ہے اور قاتلوں پر حملہ آور ہوجاتی ہے لیکن قاتل بچ جاتے ہیں اور پولیس اعراز کو گرفتار کرلیتی ہے جہاں اسکی ملاقات جیل میں ہاچے سے ہوجاتی ہے جو ہاچے کو ہمت عطا کرتی ہے اور اس کے حوصلے کو بلند کرنے میں کردار ادا کرتی ہے.

محمت کو ٹھکانے لگانے کے لئے صنعا علی بے ایک ڈاکو عثمان کالیچی کا سہارا لیتا ہے جو یورالی نام کے ایک ڈاکو کو ساتھ ملا کر محمت کو مارنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے جس کی وجہ سے ہورالی محمت کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ناکام رہتا ہے کیونکہ پہاڑی کسانوں کا دستور ہوتا ہے جو بھی ڈاکو ان کا پسندیدہ ہوتا ہے اسکے ٹھکانے کے بارے میں کسی کو نہیں بتاتے، ہورالی جودردو کے گروہ کے وقت سے محمت کو جانتا تھا ان کی ملاقات ہوتی ہے اور ہورالی محمت کو عثمان سے ملاقات کے لئے لے جاتا ہے وہاں محمت ہورالی کو ماردیتا ہے جبکہ عثمان زخمی ہو کر بھاگ جاتا ہے کچھ دنوں بعد مرجاتا ہے، عثمان کی موت کی بعد آغا عابدی خوفزدہ ہوجاتا ہے وہ حکومت سے اپیل. کرتا ہے کہ ڈاکؤوں کو ختم کرنے کے لئے فوج کو بلایا جائے. ایک طرف پولیس محمت کی تلاش کی کوشش کرتی ہے عوام پر ظلم و جبر کرتی ہے لیکن عوام محمت کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا. اس دوران محمت ہاچے اور اعراز کو پولیس وین پر حملہ کرکے اپنے ساتھ لے جاتا ہے.
وہ پہاڑوں میں پناہ لیتے ہیں ان کی شادی وہیں ہوجاتی ہے اور دوسری طرف پولیس چھاپے جاری رکھتی ہے لیکن وہ ناکام رہتے ہیں کیونکہ عوامی حمایت محمت کے ساتھ ہوتا ہے.

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پولیس محمت کے خلاف کاروائیاں تیز کردیتی ہے اور ایک دن وہ محمت کے ٹھکانے کی معلومات حاصل کرکے وہاں حملہ آور ہوتے ہیں، یہ وقت ہے جب ہاچے حاملہ ہوتی ہے مقابلہ جاری رہتا ہے ہاچے بچے کو جنم دیتی ہے اور اسی وقت زخمی بھی ہوجاتی ہے اور محمت کی گولیاں ختم ہوجاتی ہے تو محمت ہتھیار ڈال دیتا ہے لیکن سارجنٹ عاصم اس کے سرینڈر ہونے کو قبول نہیں کرتا اور اسے زندہ چھوڑ کر موسم کی خرابی کا بہانہ بنا کر پولیس نفری کو واپس لے جاتا ہے.

پورے علاقے میں افواہ پھیل جاتی ہے کہ محمت مارا جاچکا ہے جس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والوں پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے جبکہ آغا عابدی پھولے نہیں سماتا. لیکن بعد میں گاؤں والوں کو اطلاع مل جاتا ہے کہ محمت زندہ ہے لیکن ہاچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی ہے. محمت اپنے بچے کو اعراز کے حوالے کردیتا ہے اور عام معافی کے اعلان کو پش پشت ڈال کر آغا عابدی کو موت کے گھاٹ اتاردیتا ہے.

یہ کہانی محمت کی تھی جو ظلم و جبر سہہ کر کندن بن جاتا ہے اور اپنے اور سماج کے دیگر لوگوں پر جابر و ظالم زمینداروں کے ظلم کا بدلہ لینے کا تہیہ کرلیتا ہے اور آخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے
اناطولیہ کہانی بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز ناول ہے جس کا مطالعہ قاری کو کئی چیزوں سے آشنا کرانے میں مدد فراہم کرتا ہے.

اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ اس فانی دنیا میں دکھ درد کو برداشت کرکے انسان موت سے آگاہی حاصل کرتا ہے وہ یہ سیکھتا ہے کہ بھوک، غربت، ظلم و جبر، محرومی اور بد حالی کے بعد ایک نیا سورج طلوع ہوتا ہے جو اسکی کامیابی کا سورج ہے. انسانی تاریخ میں ہزاروں دکھ درد کے بعد بھی فتح انسان نے ہی پائی ہے اور مستقبل میں بھی انسان انسانیت کے پرچم کو سر بلند کرنے میں ضرور کامیاب ہوگا.
جن کی زندگیاں موت سے بدتر ہے جنہیں دو وقت کی روٹی کا محتاج بنایا گیا ہے صرف اس لئے کہ وہ ان کی غلامی میں زندگی گزاریں.

اس ناول کے مطالعے سے قاری کو یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ غریب لوگوں پر طاقت کا بیجا استعمال کرکے قسمت کو دوش دیا جاتا ہے لیکن یہ ظالم یہ نہیں جانتے کہ ایک زندہ مخلوق ایک بار، دو بار یا تین بار آپ کے خوف سے ڈر کر خاموش ہوجائے گی لیکن جب آپ ہر دفعہ طاقت کا مظاہرہ کریں گے تو وہ اپنا دفاع ضرور کرے گا وہ دشمن کو پھاڑ دیگا شیر بن کر.

اس لیے طاقت پر زیادہ گمان کرنے سے عقل کا استعمال ہی فائدہ مند ہوتا ہے. محمت ہو یا اعراز ہو یا اس کہانی کے تمام مظلوم کردار ان کے کردار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی دکھ، تکلیف اور غم سے بھری ہوئی ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ہی انسان کو نئی زندگی عطا کرتا ہے جو ان غموں کے سامنے جھک جاتا ہے تو وہ اس کا انجام خوفناک ہوتا ہے.

اس کے علاوہ آپ اگر کسی انسان کو عزت دیں گے تو وہ آپ کا گرویدہ ہوجائے گا جس طرح محمت بھی ڈاکو تھا اور دردو بھی لیکن علاقے کے عوام محمت کی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں لوٹتا تو تھا لیکن ان کو بے عزت نہیں کرتا تھا جیسے دردو ان کے کپڑے اتار کر انہیں گھر بھیجتا تھا.

سب سے اہم نقطہ کہانی کا یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا اہم کردار اور ہیرو عوام ہوتا ہے کیونکہ جنہیں ہم ہیرو سمجھتے ہیں یا ہیرو کہتے ہیں وہ عام لوگوں کی دسترس میں موجود آلہ کار ہے عوام ہی ان کو ہیرو بناتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتےہیں. اس لیے سماج کے اہم کرداروں یعنی عوام کو اپنی حیثیت سمجھ لینی چاہیے کہ دنیا کے کسی بھی سیاسی و سماجی تحریک ان کی شمولیت کے بغیر نا مکمل ہے اور عوام ہی ان تحریکات کے اصل ہیرو ہے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں