پولیس کا سوات میں طالبان کی موجودگی کا اعتراف

206
فائل فوٹو

خیبرپختونخوا پولیس نے ضلع سوات کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ سوات کے کچھ افراد جو پہلے افغانستان میں رہ رہے تھے سوات کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔

تاہم پولیس نے کہا کہ صورتحال مکمل طور پر ‘سول انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے’ اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بیان وزیراعلیٰ محمود خان کے آبائی شہر تحصیل مٹہ کے ایک دور دراز علاقے میں پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپ پر صوبائی حکومت کی کئی روز کی خاموشی کے بعد سامنے آیا ہے۔

مبینہ طور پر جھڑپ کے بعد ایک ڈی ایس پی اور کچھ سیکیورٹی اہلکاروں کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد انہیں جرگے کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔

دریں اثناء ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین نے کبھی بھی اپنے علاقوں سے مکمل انخلاء نہیں کیا بلکہ ہمیشہ سے وزیرستان سے لیکر سوات تک کسی نہ کسی شکل میں اپنا مسلح وجود برقرار رکھا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مجاہدین دس بارہ سال سے سوات میں تشکیل کے طور پر موجود ہیں اگر موجود نہیں ہوتے تو پھر ہر سال ان کو گرفتار کرنے اور شہید کرنے کی خبریں کہاں سے آتیں؟

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہی کہ مقامی دیندار مسلمان عوام کی مدد وہمدردی سے ان علاقوں میں ہماری افرادی قوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ملک دشمن سیکولر لابی کا یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ طالبان کو لایا جارہا ہے، طالبان اس کے محتاج نہیں کہ کوئی اس کو لائے۔