وزیراعظم پاکستان ریڈ زون دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کریں – نیشنل پارٹی

140

ذمہ دار ادارے اور حکومت کی 27 دن بعد بھی جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین سے برائے راست رابطہ نہ کرنا افسوسناک ہے – نیشنل پارٹی

نیشنل پارٹی نے اپنے مرکزی بیان میں 27 دنوں سے جاری لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج دھرنے پر حکومتی خاموشی کو افسوسناک کرار دیا، بیان میں کہا گیا کہ ریڈ زون میں قائم احتجاجی دھرنے کے مطالبات پر ابھی تک کسی بھی ذمہ دار ادارے اور فرد نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے برائے راست بات چیت کرنے کی زحمت نہیں کی۔

بیان میں کہا گیا کہ طوفانی بارشوں اور سخت موسم میں خواتین و بچوں سمیت دھرنے کے شرکا کا استقامت کے ساتھ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج قابل ستائش ہے۔ ہم لاپتہ افراد کے احتجاج کو جائز اور وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ زیارت جعلی مقابلے میں لاپتہ افراد کو بے دردی سے قتل کرنا بہت بڑی ناانصافی اور قومی جرم ہے ریاستی اداروں کی یہ پالیسی کسی طور بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال روز بہ روز گھمبیر ہوتی جارہی ہے اور اس میں حکمرانوں کی غلط پالیسیوں و حکمت عملی جلتی پر تیل کا کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کے حق میں ہیں زیارت جعلی مقابلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ خوش آئند ہے لہٰذا جوڈیشل کمیشن کو اپنے کام کو فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت ہے اور شرکاء کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ لاپتہ سیاسی کارکنوں کو کسی بھی جعلی مقابلے میں بے دردی سے قتل نہیں کیا جائے گا اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے میں حکومت ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔

نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو ان معاملات میں فوری مداخلت کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء اور ذمہ داروں سے مذاکرات کا بندوبست کرنا چاہیے اور ان کے جائز مطالبات پر عمل در آمد کی یقین دہانی کرانی چاہیے۔