لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے بی این ایم کا مظاہرہ

116

بلوچ نیشنل موومنٹ نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچستان کے علاقے زیارت میں 11 جبری لاپتہ افراد کے جعلی مقابلے میں حراستی قتل کے خلاف اور بلوچستان کے مرکزی شہر شال میں گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا۔اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں ورلڈ سندھ کانگریس کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر لکھو لوہانہ اور بلوچ راجی زرمبش کے عبداللہ بلوچ بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور چارٹ اٹھا رکھے تھے جن پر جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کے خلاف اور بلوچستان کی آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے جبری گمشدگی اور بلوچ نسل کشی کے خلاف نعرے بازی کی۔ پرامن احتجاج کے دوران پاکستانی ہائی کمیشن نے مظاہرے میں مداخلت کرتے ہوئے شرکاء کو اکسانے کی کوشش کی تاہم شرکاء نے پر امن طریقے سے اپنے احتجاج کو جاری رکھا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم کے جونیئر جوائنٹ سیکریٹری حسن دوست نے کہا پاکستان نے 11 معصوم جبری لاپتہ افراد کو زیارت بلوچستان کے مقام پر قتل کیا اور انھیں ایک مسلح تنظیم کے ممبر ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن ہم اور دنیا یہ جانتی ہے کہ بڑی تعداد میں بلوچ ، سندھی اور پشتون پاکستان کے غیرقانونی حراست میں ہیں۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں پاکستانی جھوٹ فاش ہوچکا ہے۔پاکستان بلوچ تحریک کو تشدد کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے لیکن میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ آج یہاں تک کہ بچے اور خواتین بھی ان کے سامنے بلوچ تحریک آزادی کے لیے کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا پاکستان بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور جنگی جرائم میں ملوث ہے۔یہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ ضرور مداخلت کرے اور بلوچستان میں اپنا کردار ادا کرے۔

ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے کہا آج ہم یہاں سے پاکستان کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم نسل کشی کر رہے ہو ، تم بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم کر رہے ہو اور تمہیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ تم سے پہلے بھی یہاں ایک رجیم تھا اور اس نے یہی جرائم کیے تھے۔پاکستان نے بلوچستان پر جبری قبضہ کیا ہے اور ایک قوم کے طور بلوچ آزادی چاہتے ہیں ، اسے غلامی میں نہیں رکھا جاسکتا۔پاکستان انتہائی حد تک ظالم بن چکا ہے جو اپنے ٹارچرسیلز میں قید معصوم لوگوں کو قتل کرکے ہمیں خوف زدہ کرنا چاہتا ہے۔

بلوچ راجی زرمبش کے عبداللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا جعلی مقابلوں میں معصوم لوگوں کا قتل دنیا میں ایک بہت بڑا جنگی جرم ہے۔ہزاروں بلوچ پاکستانی ٹارچر سیلز میں قید ہیں اور ہمیں ڈرانے کے لیے انھیں جعلی مقابلوں میں قتل کیا جارہا ہے لیکن انسانیت ان کے خوف سے زیادہ طاقتور ہے۔

بی این ایم یو کے چیپٹر کے صدر منظور بلوچ نے کہا پاکستان ایک جمہوری ملک نہیں بلکہ دہشت گرد فوج اسے چلا رہی ہے۔ہم یہاں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے ان سے کسی مطالبے کے لیے احتجاج نہیں کر رہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ فوج کے پے رول پر ہیں بلکہ ہم دنیا کو پاکستان کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لیے یہاں جمع ہیں۔

آخر میں بی این ایم یوکے چیپٹر کے جنرل سیکریٹری نے شرکاء کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہم یہاں جعلی مقابلوں میں معصوم لوگوں کے قتل کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں اور ہم جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ہم انھیں کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں خود کو تنہا محسوس نہ کریں پوری بلوچ قوم ان کے ساتھ ہے۔ہماری غیر مشروط حمایت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے۔ہماری بین الاقوامی برادی بالخصوص اقوام متحدہ ، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا سےسے مطالبہ ہے کہ وہ پاکستان پر فوری پابندی لگائے اور اس وقت پاکستان کو امداد کی فراہمی بند کرے جب تک پاکستان بلوچ نسل کشی اور بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم بند نہ کرے۔ان کی خاموشی سے پاکستان کو مزید مظالم اور بلوچ نسل کشی کے لیے ہمت ملے گی۔