شہر یاراں کو معلوم ہی نہیں کہ حفصہ بلوچ کون تھی؟ ۔ محمد خان داؤد

175

شہر یاراں کو معلوم ہی نہیں کہ حفصہ بلوچ کون تھی؟

تحریر:محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ اپنے سر کے دوپٹے کو پھانسی کا پھندہ نہ بناتی تو اور کیا کرتی؟
وہ کونج جیسی تھی اپنے ولر کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، جینا چاہتی تھی
وہ جو زندگی کی تخلیق تھی، وہ جو موت کے قریب تر ہوگئی
یہ کیا ظلم ہے کہ عادی مجرم پھانسی گھاٹ سے دور اور محبت جیسی لڑکیاں پھانسی گھاٹ کے آس پاس ہیں
اور پھر انہیں پھانسی دے دی جا تی ہے
وہ جینا چاہتی تھی، پر وہ مر گئی!
پر کیا اس کے ایک مرنے سے بس وہ مری ہے؟
اگر وہ ایک مری ہے تو ماں کیوں زندہ نہیں؟ کیوں اداس ہے؟ کیوں ویاکل ویاکل ہے؟

ماں غربت سے تنگ ہوکر ایک بیٹی اس لیے بہائی تھی کہ اسے پیٹ بھر روٹی ملے گی،وہ زندگی کے قریب رہے گی اور وہ جیتی رہے گی۔ ماں کب جانتی تھی کہ اسے پھانسی گھاٹ پر اس کے ہی دوپٹے سے جھولا دیا جائے گا اور اسے خود کشی کا رنگ دے کر پورا ایک زمانہ خاموش ہو جائے گا
حفصہ بلوچ اپنے ہی گھر میں پھانسی گھاٹ سے جھول کر اداس قبر میں سو رہی ہے، پر کیا وہ ماں بھی سو رہی ہے جس نے بھوک،افلاس،تنگ دستی،غربت سے تنگ آکر اپنی پھول جیسی بیٹی بہائی تھی، اب وہ ماں خاموش نہیں وہ ماں چاہتی ہے انصاف ہو اور ایسا ہو کہ قبرمیں بیٹی کروٹ لیکر ماں سے کہے
”اماں! اب تم نہ روؤ!“
انصاف کب ہوگا،مقتول بیٹی قبر میں کروٹ کب لے گی، پر سچ یہ ہے کہ اس بھرے شہر میں وہ ماں اکیلی رو رہی ہے جس کی چاند جیسی بیٹی کوشہر کے مُلا نے پھانسی چڑھا دیا اور وہ محبت میں پھانسی گھاٹ پر جھول گئی۔
وہ سرمد نہیں۔ وہ منصور نہیں کہ زمانہ چیخ پڑے کہ یہ کیا ہوا؟یہ کون پھانسی گھاٹ پر جھول گیا؟
پر وہ مقتول تو ہے۔وہ اسی شہر کی بیٹی تو ہے۔وہ قرت العین طاہرہ جیسی تو ہے
پھر شہر یاراں کیوں خاموش ہے؟
پھر شہر کیوں اک چیخ بن کر یہ سوال نہیں کرتا کہ
”طاہرہ جیسی بیٹی کو کس نے قتل کیا؟“
کیا سارے سوال ادھو رے رہ جائیں گے؟
کیا شہر کی سب مائیں بعد از قتل بس رونے کا روزہ رکھیں گیں؟
کیا ان ماؤں کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہوگی
کیا ماؤں بھوکوں سے تنگ ہوکر اپنی بیٹیوں کو وحشی مُلاؤں کے حوالے کریں گیں اور یہ ذہنی مریض ان چاند سی بیٹیوں کو قتل کر کے ان پر پھانسی پر جھول جانے کا الزام لگائیں گی؟
جب کہ شہر جانتا ہے
گھر جانتا ہے
گھر کا صحن جانتا ہے
گھر کا در جانتا ہے
گھر کی گلی جانتی ہے
حفضہ بلوچ ایسی نہ تھی،وہ زندی تھی،اسے زندگی سے پیار تھا وہ یسوع جیسی تھی۔اسے مریم سے محبت تھی،وہ مریم تھی اسے یسوع سے عشق تھا تو پھر وہ پھانسی سے کیسے جھول سکتی ہے؟
آج شہر کی آنکھیں اندھی ہیں۔آج شہر کے کان بہرے ہیں اور آج شہر کی زبانیں گُنگ ہیں
پر شہر سے مت پوچھو،پوچھو اس گھر سے جس گھر میں اس قتل کیا گیا،پوچھو اس گلی سے جس گلی میں وہ گھر ہے جس گلی میں وہ چہخ تی تھی،اب اس کے بغیر وہ گلی چیخ رہی ہے
پوچھواس گھر سے جس کی آنکھیں اندھی نہیں جس گھر نے دیکھا کہ حفضہ کو کن ہاتھوں نے قتل کیا؟سنو اس گھر کا بیان جس کی زبان ہے اور وہ کچھ کہنا چاہتی ہے!سنو ان کانوں کی فریاد جس کانو ں نے وہ آخری فریاد سنی اس کے بعد طویل خاموشی ہے ایسی خاموشی جیسی خاموشی جب تھی جب طاہرہ کو اندھی کنوئیں میں پھینکا گیا تھا۔ایسی خاموش جیسی خاموش جب تھی جب یسوع کو پھانسی گھاٹ پر چڑھا دیا گیا اور پورا مجمومہ چُپ تھا سوائے مریم کے!
آج بھی پورا شہر چُپ ہے،ہجوم اور مجموعہ چُپ ہے پر وہ یسوع جیسی ماں چُپ نہیں
وہ جانتی ہے اس کی بھوکی بیٹی نے خود کشی نہیں کی پر اسے وحشت دہشت کی نظر کیا گیا ہے اسے قتل کیا گیا ہے اور یہ قتل اس گھر نے ضرور دیکھا ہے جس گھر میں وہ مریم ہوکر داخل ہو ئی اور یسوع بن کرمقتول!
پر اس شہر یاراں کو معلوم ہی نہیں کہ حفضہ بلوچ کون تھی؟
وہ دکھی بابا کی بھوکی بیٹی تھی
جس کے لیے گھر میں روٹی نہ تھی
وہ جو اکثر گھر میں بھوکی سو جایا کرتی
وہ جو چاند سے پیاری
اور تتلی جیسی رنگوں والی تھی
وہ جو ددہنک رنگ تھی
وہ جو بارش تھی
محبت کی بارش
وہ جو سہانا پل تھی
وہ جا سانجھ تھی
سویرا تھا
وہ جو خواب تھی
وہ جو نیند تھی
اب جب وہ ماری گئی ہے تو وہ ماں نہیں سوتی،جو سب کو یہ کہہ رہی ہے کہ وہ قتل ہوئی ہے وہ مری نہیں
غریب مائیں،غریب بیٹیاں جنتی ہیں
اور غریب بیٹیاں بھوکی رہ جا تی ہیں
وحشیوں کے ہتھے چڑھ جا تی ہیں
اور پھر مقتول بن کر شہر کی خاک آلود مٹی میں دفن کر دی جا تی ہیں
ایسی ہی شہر کی بیٹی خاک آلود ہوئی ہے.
دفن ہوئی ہے
پر شہر یاراں کو معلوم ہی نہیں کہ حفضہ بلوچ کون تھی؟
وہ غربت میں چاند تھی
وہ روشنی تھی
وہ عشق تھی
وہ محبت تھی
وہ نیند تھی؟
خدارا!اسے یوں مقتول نہ ہونے دیں اس کے لیے آواز اُٹھائیں وہ وحشت کی نظر ہوئی ہے
وہ قتل ہوئی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں