سوات میں طالبان کی مبینہ واپسی، علاقہ مکینوں کا احتجاج

181

تحریک طالبان پاکستان نے مبینہ طور پر ضلع سوات کی تحصیل مٹہ بالاسور ٹاپ پر اپنا پہلا چیک پوسٹ قائم کردیا۔ طالبان کی واپسی سے مقامی باشندوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے اور حکومت سے طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

علاقائی افراد دعویٰ کررہے ہیں کہ بالاسور ٹاپ پر ایک چیک پوسٹ قائم کر رکھی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی انہیں دیکھا گیا جو آزاد گھوم رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان نہ صرف بالاسور ٹاپ پر موجود ہیں بلکہ وہ تحصیل مٹہ کے پہاڑی علاقوں بشمول بار شور، کوز شور، نمل، گٹ پیوچر اور دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ تحصیل مٹہ کے پہاڑی علاقوں میں طالبان کی تعداد میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس سے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

سوات میں بگڑتی ہوئی صورت کے خلاف سوات کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئی اور مظاہرے کئے گئے جس میں سوات بھر سے نوجوانوں، بڑوں اور علاقے کی بااثر شخصیات نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ وقتوں سے وزیرستان اور خیرپختونخواہ کے دیگر علاقوں فورسز پر ہونے والے کاروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ شمالی وزیرستان میں پیر کی رات فوجی قافلے پر ایک خود کش حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیرستان میں فوج پر حملوں کے علاوہ سوات میں پیر کو پولیس کے ساتھ جھڑپ میں طالبان نے ڈی ایس پی پیر سید سمیت چار اہلکاروں کو اغواء کرلیا جنھیں بعد میں مقامی جرگے اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں رہا کردیا گیا۔

سوات اور گردنواح میں طالبان کی موجودگی کی باتیں پچھلے کچھ عرصے سے گردش میں ہیں۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ سوات کی یہ خبریں جزوی طور پر سچ ہیں لیکن زیادہ تر پروپیگینڈے کا حصہ ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سوات سمیت پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں واضح شواہد کی موجودگی میں آئی جی کا انکی موجودگی سے انکار سمجھ سے بالاتر ہے۔